بجلی کا بریک ڈاؤن اور ہما رے رویے

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماہِ رواں کی نو اور دس تاریخ کی درمیانی شب پورے ملک میں جو پاور بریک ڈاؤن ہوا، اس کے حقائق سے قوم کو کوئی آگہی نصیب ہوئی اور نہ بجلی کے خالص ٹیکنیکل معاملات اور خرابیوں پر ماہرین کے پینل نے بریک ڈاؤن کے حوالے سے حقائق پر چشم کشا باتیں بتائیں اور نہ اس طویل دورانیے پر مبنی پاور بریک ڈاؤن پر اندھیرے میں ڈوبے مضطرب عوام اور پریشان صارفین کو اعتماد میں لیا۔ بس سات اہلکاروں کو غفلت کی سزا ملی۔ لیکن بجلی کی پیداوار، اس کی تقسیم کاری اور ترسیلی نظام سمیت بلنگ میکنزم کی شفافیت اور ملک کے 72سالہ پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے اندر کی خرابیوں اور تکنیکی کمزوریوں کی اصلاح اور بریکنگ پوائنٹ کو پہنچے ہوئے سسٹم کو مکمل سقوط سے بچانے کی کوئی تیر بہدف پالیسی کی بنیاد نہ رکھی جاسکی۔ اس ایڈہاک ازم کے مائنڈ سیٹ کو ایک دن گرنا تو تھا ہی، لہٰذا وہ گزشتہ دنوں ہولناک پاور بریک ڈاؤن کی شکل میں ظاہر ہوا جس نے بظاہر بجلی کے نظام میں مضمر سسٹم کی خرابی کو ٹالنے کے برس ہا برس کے تکنیکی، حکومتی اور محکمہ جاتی رویے کو بے نقاب کیا بلکہ اس درد انگیز حقیقت سے بھی پردہ ہٹا دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں حقائق کی پردہ پوشی کے دائمی طرزعمل اور فکری بیگانگی کا مظہر ہے۔ اس بریک ڈاؤن سے معلوم ہوا کہ مختلف ایشوز اور مسائل پر قومی رویہ تماشا دیکھنے، مورد الزام کسی دوسرے کو ٹھہرانے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے چشم پوشی سے کام لینے کا ہے۔ کوئی سچ بتانے پر تیار نہیں، ملک میں تخلیقی، توسیعی، علمی، تکنیکی اور فیصلہ کن بریک تھرو کی ماہرانہ کوششیں کرنے کی اہلیت رکھنے والے دانشوروں، فلسفیوں، باکمال ہنرمندوں اور منتظمین کا قحط پڑ گیا ہے۔ ایک پراسرار سی خاموشی ہے، لگتا ہے سب نے حالات سے سمجھوتا کر لیا ہے۔ بے سمت غیراخلاقی اور ثقافتی یلغار نے سماج کو جڑے رہنے کی اُمنگ سے بیگانہ کردیا ہے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ لوگ درحقیقت اپنے اندر کے خوف سے سہمے ہوئے ہیں۔ کسی امید، آرزو اور خوشخبری پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سال ہا سال کے حکومتی اور ریاستی نظام کے تجاہل عارفانہ اور سنگ دلی نے سیاستدانوں کی طرح اہل فکر و نظر کو بھی انسانی رشتوں سے بے نیاز کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ادب و تخلیق کے
دیوہیکل لوگ انسانی مسائل اور رنج و آلام سے کیوں الگ ہوگئے ہیں، وہ درد مشترک کہاں کھو گیا؟ سماج آدھے دھڑ کا ہوگیا ہے، قتل و غارت کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ جرائم کی انڈسٹری ہر دور میں پھلتی پھولتی رہی ہے، جعلی ڈگریوں کاکاروبار خوب چل رہا ہے، قوم دم بخود اس اجتماعی تخلیقی سقوط کا تماشا دیکھ رہی ہے اور بجلی کے طویل بریک ڈائون کے دوران افواہ سازوں نے شہریوں کو پریشان کیے رکھا۔ معلومات کے مستند ذرائع تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی اور ملک پر دشمن کے حملے سمیت کئی خدشات جنم لیتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی افواہ ساز حاوی رہی اور شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ضر ورت اس امر کی ہے کہ حکمران توانائی بحران کے حل میں پیش رفت کے لیے ڈیموں کی تعمیر پر ثابت قدمی کا ثبوت دیں۔ حقائق پر نظر رکھیںکیونکہ منگلا اور تربیلا اپنی طبعی مدت پوری کرچکے۔ بلنگ پالیسی نے صارفین کو پریشان کردیا ہے، بجلی نہیں ہے، لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے مگر بل ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ عوام چیخ رہے ہیں کہ کارپوریٹ ازم نے عوام کو مسرتوں سے محروم کردیا ہے۔ آج بنیادی سوچ کے پیشہ وارانہ، بریک تھرو کے ساتھ ساتھ عوام دوست پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چودھری نے مزید کہا کہ بجلی کے نظام میں ایک دوelementفالٹ کی وجہ سے نکل جائیں تب بھی نظام مستحکم رہنا چاہیے۔ تحقیقات کرنا ہوگی کہ ایک لائن نکلی تو دوسری کیوں نکلی، دوسری لائن نکلنے کے بعد بھی کیس کیڈنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسمشن نظام میں بہتری لانا ایک دن کا کام نہیں بلکہ تسلسل سے ہونا چاہیے۔ پندرہ ہزار میگاواٹ سسٹم میں شامل ہوتے ہیں تو اس کے لیے راتوں رات ٹرانسمشن نہیں بن سکتی، بجلی کے نظام میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہوگا۔ بجلی کے نرخ اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ ہم ادا نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ ریسرچ کا کام نہ ہونا ہے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے بنیادی باتیں کی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایسی دل خوش کن باتیں تو72سال سے کی جاتی رہی ہیں مگر بجلی کا نظام شفافیت اور فالٹ فری ہونے کی منزل سے دور رہا۔ انہوں نے بھی عوام کو تسلی دی کہ بجلی میں فالٹ کا آنا معمول کی بات ہے، یعنی موصوف اتنے ہولناک بریک ڈائون کو بھی بجلی کا فالٹ تصور کرتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے اس سادگی پر۔ یعنی
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا