جو ہو سکے تو خیالوں کی جھاڑ پونچھ کرو

دھوکا، فریب، مکر، دروغ گوئی اور غلو، جیسے پوری قوم کی گھٹی میں پڑ گئے ہیں۔ کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں جو ان تمام برائیوں سے پاک صاف ہو۔ اچھا مال دکھا کر جعلی مال بیچ دینا۔ سو سو قسمیں کھا کر قیمت فروخت کو یہ کہہ کر بتانا کہ ہم اس قیمت پر بھی نقصان کا سودا کر رہے ہیں۔ حد یہ کہ کسی شے کی قیمت فروخت تک کو اعشاریہ کے بعد99کو اتنا چھوٹا لکھنا کہ اس پر توجہ بھی نہ جا سکے اور اس پر بھی عالم یہ ہونا کہ وصول پورا ایک روپیا کر لینا۔ اگر کسی شے کی قیمت کو اعشاریہ کے بعد99لکھا ہی ہے تو اسے پورے روپے کی صورت میں وصول کر لینا یا رقم کی وصولی پر 99پیسے، یعنی پورا روپیا چھوڑ دینا حساب کتاب کا فریب نہیں تو کیا ہے۔ اگر فروخت کرتے ہوئے99پیسے چھوڑے جانے کی گنجائش تھی تو قیمت فروخت پورا ایک روپیا کم کیوں مقرر نہ کی گئی۔ غرض جو قوم مکر و فریب کا کوئی ایک موقع بھی اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اس قوم کا اپنے تئیں یہ سمجھ لینا کہ آسمان سے من و سلوی برسنے لگے گا اور زمین سونا اگلنے لگے گی، ایک ایسی خود فریبی ہے جس سے وہ خود اپنے آپ کو تباہ و برباد تو کر سکتی ہے، اللہ کی زمین کو کبھی آباد نہیں کر سکتی۔
جس قسم کی گھٹی میں یہ ساری بیماریاں سرایت کر جاتی ہیں پھر وہاں پر سچ کسی قیمت پر فرغ نہیں پا سکتا۔ ایسی قوم پر ایک عذاب یہ بھی ٹوٹ پڑتا ہے کہ وہ جھوٹوں کو صادق و امین اور سچوں کو فریبی و مکار سمجھنے لگتی ہے اور ہر اس فرد کو جو روشن مستقبل کے ایسے نعرے بلند کرتا ہے جس کو روئے زمین پر پورا کرنا نادیدہ قوتوں کے بس میں بھی نہیں ہوتا، ان کے پیچھے چل پڑتی ہے۔
جس قوم کے بچوں کو ہم ان کی پیدائش ہی سے جھوٹ اور فریب میں پالتے ہوں وہ بڑے ہوکر حق و صداقت کو کیسے فرغ دے سکتے ہیں۔ یہ چسنیاں، یہ دودھ پلانے کی بولتیں اور کھلونوں کی شکل میں خریدی گئی مورتیاں، دھوکا دہی نہیں تو کیا ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا کہ بچوں میں منہ میں چسنیاں اور فیڈر کی بوتلیں دے کر ہم ایک معصوم ذہن میں کیا تصور ابھار رہے ہیں اور اس کو مورتیوں کی شکل میں کیا تعلیم دینا چاہتے ہیں۔ جب وہی بچہ لا شعوری طور پر فریب کھا کھا کر شعور کی عمر کو پہنچے گا تو پھر اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ دنیا میں سچائی کو فروغ دے گا، کوئی معجزہ یا اللہ تعالی کی خصوصی عنایت تو ہو سکتی ہے ہماری تعلیم و تربیت کی غماز کسی صورت قرار نہیں دی جا سکتی۔ مجبوریوں کی اور بات ہے لیکن دانستہ اور بلا عذر کسی غلط طریقہ کار کو اختیار کرکے بچوں کی پرورش اور تربیت کرنا قابلِ ستائش و معافی کام نہیں کہلایا جا سکتا۔ کسی زمانے میں مائیں اپنا دودھ بچے کو یہ سوچ کر پلایا کرتی تھیں کہ بچہ بڑا ہو کر قوم و ملک کا نام روشن کرے گا، مبلغ بن کر دین کی خدمت کرے گا اور سپاہی بن کر قوم کی ماوں بہنوں کی عزت و آبرو کی نگہبانی کریگا لیکن فی زمانہ ان کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ بچے کا پیٹ بھر جائے، بچہ خاموش ہو جائے یا پھر سو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بچے جوان ہو کر اپنا پیٹ بھرنے پر لگے نظر آتے ہیں، ظلم و ستم پر اپنے منہ میں ایلفی ڈالے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں یا پھر حالات و واقعات سے بے پروا، آنکھیں بند کیے غفلت کی نیند سوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اپنی پیدائش سے لیکر بھرپور اٹھان تک، جس قوم کے بچے فریب در فریب کھاتے رہے ہوں ان سے یہ توقع باندھ لینا کہ وہ حق اور سچ کی بات کہنے والوں کے پیچھے پیچھے چل کر سچائی کی منزل کی پالیں گے، ایک سراب سے کم نہیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پچاس ساٹھ دھائیوں سے یہ قوم سمجھانے والوں کی بات ماننے کے بجائے پر فریب نعرے، دعوے اور وعدے کرنے والوں عیاروں اور مکاروں کے پیچھے ہولیتی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ بار بار دھوکا کھاتے رہنے کے باوجود بھی ہر بار جھوٹے نعرے لگانے، دعوں اور وعدوں کا فریب دینے والوں کی فسوں کاری میں آ جاتے ہیں اور جو ان کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر مکر و چالبازی کے گڑھوں میں گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ان کو اپنا دشمن سمجھ کر ان سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ایک مرتبہ پھر مصیبتوں کی دلدل میں جا گرتے ہیں۔ ایک قوم اگر7دھائیوں سے بھی زیادہ ہر طبقہ فکر، ہر شعبہ زندگی، ہر محکمے، ہر ادارے اور رہنمایان قوم سے مسلسل فریب کھاتی چلی آ رہی ہے ہو تو وہ کسی بھی طبقے، محکمے، ادارے اور رہنمایان قوم پر الزام دھرنے کے بجائے خود اپنا جائزہ لے اس لیے کہ فطرت نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ جیسی قوم ہوتی ہے اس کے حکمران ویسے ہی ہوتے ہیں۔ مولانا ابولاعلی مودودی فرماتے ہیں کہ جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے جس کی مثال اس زہریلے دودھ کی سی ہے جس کو پھینٹنے پر جو مکھن حاصل ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہر مرتبہ اپنے ہاتھوں منتخب کیے جانے والوں ہی میں کیڑے مت نکالیں بلکہ اپنے ذہنوں اور سوچوں کی اصلاح کریں۔ اگر ایسا ہوگیا تو پھر یہ ممکن ہی نہیں ہو سکے گا کہ کوئی مکار اپنی مکاریوں سے ہمیں تباہی و بربادی کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہو سکے۔
جو ہو سکے تو خیالوں کی جھاڑ پونچھ کرو
کہ دل اجلتا نہیں ہاتھ پاوں دھونے سے