پگڑی اپنی سنبھالئے گا میر

پگڑی اپنی سنبھالئے گا میررفوگری ایک فن ہے، جس کی باریکیاں کوئی رفوگر ہی بہتر جان سکتا ہے، یہ صرف کپڑوں کے عیب چھپانے ہی کا ہنر نہیں ہے بلکہ کچھ لوگ باتوں کی رفوگری کے بھی ماہر ہوتے ہیں، تاہم جب یہ اپنے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے بخیہ گری کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے تو کبھی کبھی ماہر بھی توبہ تائب ہوجاتے ہیں مگر یہ ماضی کے قصے ہیں اور اس حوالے سے ایک کہانی خاصی مشہور ہے کہ ایک شخص لمبی لمبی چھوڑنے کے عادی تھے، وہ احباب کی محفل جماتے اور بڑبولیوں کی حدیں پار کر دیتے تھے، تاہم اس نے اتنی احتیاط ضرور کی تھی کہ ایک رفوگر کو اسی مقصد کیلئے رکھ چھوڑا تھا جو اس کی بے پرکی کو رفوگری کے ذریعے اس شخص کے مصاحبین کیلئے قابل قبول بنانے کیلئے تاویلیں تلاش کر لیتے تھے، مصاحبین رفوگر کی کاریگری ہی کی بدولت اس شخص کی بے سروپا دعوؤں کو بھی سچ سمجھنے پر مجبور ہوجاتے، تاہم محولہ شخص کے بے سروپا دعوے جب تمام حدود پار کرنے لگے اور رفوگر کیلئے ان کی تاویلیں لانے میں مشکل پیش آنے لگی تو اس نے اپنا بوریا بستر باندھا اور بڑ بولے سے رخصت طلب کرنے جا پہنچا، تو اس نے پوچھا کہ وہ تو اسے اچھا خاصا معاوضہ دے رہا ہے پھر اسے چھوڑ کر جانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے، رفوگر نے دست بستہ عرض کی، حضور! میں چھوٹا موٹا سا رفوگر ہوں، معمولی بے پرکیوں کے اندر کمزوریوں کو اپنے ہنر سے جوڑ کر ان کو قابل قبول بنا سکتا ہوں، کبھی کبھی بڑے ڈنٹ کو بھی قابل قبول کرنے میں کسی نہ کسی طور کامیاب ہوجاتا ہوں مگر حضور نے جو رویہ اختیار کر لیا ہے اور نہ سر نہ پیر قسم کی باتیں اور دعوے کرنا شروع کر رکھے ہیں تو اتنے بڑے ترپے لگانا میرے بس سے باہر ہے، اس لئے میں اپنی رفوگری کی ہار مانتے ہوئے جارہا ہوں کیونکہ حضور کو اپنی عزت کی تو کوئی پرواہ نہیں مگر مجھے اپنی رفوگری خطرے میں محسوس ہورہی ہے، اس لئے مزید یہاں رہنے کی تاب نہیں ، بس اب اجازت دیجئے، تاکہ کہیں اور ملازمت کر سکوں، داغ دہلوی نے بھی کہا تھا
ملے جو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی
عجیب چیز ہے یہ طولِ مدعا کیلئے
یہ تو نہیں معلوم کہ محولہ رفوگر کا قصہ کس زمانے کا ہے، تاہم یقینا بعد میں نازی جرمنی کے پروپیگنڈہ باز وزیر گوئبلز نے جو اصول وضع کئے ان کی بنیاد رفوگری ہی کے فن پر رکھی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ رفوگر کی ''طول مدعا'' میں کوئی منفی پہلو نہیں ہوتا تھا، وہ تو بس ایک بڑبولے کی بے پرکی باتوں کو سامعین کیلئے قابل قبول بنانے کیلئے کچھ تاویلیں تلاش کرنے کی کوشش کرتا تھا، جبکہ گوئبلز کا تو نظریہ ہی یہ تھا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ جب سچ آئے تو گاؤں کے گاؤں ویران ہو چکے ہوں، وہ کس حد تک اپنے نظرئیے میں کامیاب رہا اس کو ہم دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادیوں اور جرمنوں کے درمیان مختلف محاذوں پر جنگ کے نتائج دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں، تاہم جب بالآخر اتحادی افواج نے ہٹلر کو شکست دے کر جرمنی کے دو ٹکڑے کئے اور اس کے بعد ہالی ووڈ نے بطور خاص جبکہ دیگر مغربی ملکوں کی فلم انڈسٹری نے بھی جنگ عظیم کے پس منظر پر فلمیں بنانا شروع کیں، تو ان فلموں میںجرمن قوم کو احمق، بے وقوف اور ظالم ثابت کرنے کی ''کامیاب'' کوششیں ضرور کیں، یہ فلمیں اب بھی موجود ہیںجو گوئبلز کے جارحانہ پروپیگنڈے کے مقابلے میں سافٹ پروپیگنڈے کا مظہر ہیں، یعنی رفوگری کی شاندار مثال ہیں، گویا جھوٹ اگر گوئبلز نے بولا تھا تو ہالی ووڈ والے بھی پیچھے نہیں رہے مگر ہالی ووڈ کا طریقۂ رفوگری ذرا مختلف تھا اور انہوں نے جنگ کی تباہ کاریوں کو موضوع بنا کر اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کی، بقول خالد خواجہ
ہم ان کو امن سے رہنے کا درس دیتے ہیں
جو اپنی مانگ بھی تلوار سے نکالتے ہیں
رفوگری کا یہ فن ان دنوں ایک بار پھر عروج پر ہے، یعنی جب سے سوشل میڈیا کا غلبہ ہوا ہے، خود ہمارے ہاں بعض لوگ اپنے اپنے سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کی مدد سے اپنے مخالفین پر ایسے تابڑ توڑ حملے کرتے رہتے ہیں کہ اگر آج گوئبلز زندہ ہوتا تو حیرت ہی سے مرجاتا اور وہ بے چارہ رفوگر؟ اس کی تو حالت ہی غیر ہو جاتی، وہ بھی سوچتا کہ اس نے خواہ مخواہ اس صاحب کی ملازمت چھوڑ کر ''عزب سادات''' بچانے کی فکر کی، حالانکہ سوشل میڈیا ٹرولز اس صورتحال سے اچھی خاصی کمائی کر لیتے ہیں۔ کیا ہے، بس یہی ناکہ اپنے ممدوح کے حکم پر اس کے مخالفین کو ''بے پناہ جھوٹ'' کی سان پر رکھ کر ان کو عوام میں بدنام کر نا ہے، ان کی پگڑی اُچھالنی ہے، ان پر ایسے ایسے بہتان باندھنے ہیں جو خود ان کے ممدوحین کیخلاف الزامات کی صورت سامنے لائے جاسکتے ہیں اور اس مقصد کیلئے گوئبلز کی سوچ اپنانے کی ضرورت کے علاوہ رفوگر کی رفوگری کے فن کی حدود کو وسعت دے کر بخیہ گری بلکہ ترپے لگانے کے فن کو کمال فن سے بعض لوگوں کیلئے قابل قبول بنانا ہے اور سوشل میڈیا میں اصول وضوابط کی کوئی قید تو نہیں ہے بلکہ یہاں تو بعض اوقات فوٹو شاپ سے بھی کام چلا کر مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، گویا بقول میر تقی میر
پگڑی اپنی سنبھالئے گا میر
اور بستی نہیں یہ دلّی ہے