بچوں کو ابتدائی تعلیم کس زبان میں دیں؟

ملک کے کچھ صوبوں میں مقامی یا صوبائی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر صوبوں میں اردو، انگریزی یا پھر دونوں زبانوں کا استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں ہی زبانوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں یہ بحث ہوتی ہے کہ اگر انگریزی ذریعہ تعلیم نہیں ہے تو کیا اسے نصاب میں شامل کرنا ضروری ہے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اردو زبان کی طرح انگریزی زبان کو بھی ابتدائی تعلیم کا حصہ ہونا چاہیے، جبکہ کچھ دیگر افراد کا خیال ہے کہ انگریزی زبان کو چھٹی جماعت کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے تاکہ اس وقت تک بچے کی گرفت اردو زبان اور اپنی مادری زبان پر مضبوط ہوجائے۔ ذریعہ تعلیم کے حوالے سے ہماری پالیسی ایک ادھیڑ بن کا شکار ہے۔ ہم اس بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کر سکے کہ ہمیں اپنے بچوں کو کون سی زبانیں پڑھانی ہیں اور انہیں کس زبان میں کب اور کس طرح تعلیم دینی ہے۔ ہم نے ذریعہ تعلیم اور زبان سکھانے کو آپس میں ملا دیا ہے۔ اردو یا انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ طلبہ کوئی مضمون پڑھتے ہوئے وہ زبان بھی سیکھ رہے ہوں گے جس میں انہیں تعلیم دی جارہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک بچہ وہ زبان نہ سیکھے اور نہ ہی وہ مضمون سمجھ سکے۔ اگر ہم سائنس کا مضمون انگریزی میں پڑھانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ بچے کو پہلے سے انگریزی آتی ہو۔ ایک بچے سے یہ امید رکھنا کہ وہ کوئی مضمون سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس زبان کو بھی سیکھے جس میں اسے تعلیم دی جارہی ہے تو یہ اس کو اور اس کے اساتذہ کو مشکلات اور ناکامی کے راستے پر ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ تعلیم کے حوالے سے کچھ باتیں ایسی ہیں جو تحقیق سے ثابت ہیں۔ بچے اس صورت میں بہتر طور پر سیکھتے ہیں جب انہیں اسی زبان میں تعلیم دی جائے جسے وہ سمجھتے ہوں۔ یہ ایک ظاہری سی بات ہے لیکن پھر بھی اس پر زور دیا جانا چاہیے۔ ابتدائی برسوں میں ذریعہ تعلیم وہ زبان ہوسکتی ہے جسے بچے گھر میں استعمال کرتے ہیں اور پاکستان میں یہ عمومی طور پر علاقائی یا مقامی زبانیں ہوتی ہیں۔ بچے کئی زبانوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ انگریزی یا اردو زبان سیکھنا چاہے تو اسے یہ زبانیں ایک مضمون کے طور پر پڑھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن ابتدائی برسوں سے لے کر اس وقت تک کہ جب بچہ دیگر زبانوں کے حوالے سے مشکل کا سامنا نہ کرے، اس کا ذریعہ تعلیم اس کی مادری زبان ہی ہونی چاہیے۔ والدین کی ترجیحات پر ہونے والی تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ اکثر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں مہارت رکھتا ہو۔ ان دونوں زبانوں کو ہی معاشرتی اور معاشی ضامن کی صورت میں دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر انگریزی زبان کو معاشرتی اور معاشی ترقی کے حوالے سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے تجربات سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے والدین کے خیالات غلط نہیں ہیں۔ 10سالہ تعلیم کے بعد زبان کے حوالے سے ہمارے طلبہ کی صلاحیت بہت بری ہوتی ہے۔تاریخی طور پر ہم ذریعہ تعلیم کو اس بنا پر تبدیل کرتے رہے ہیں کہ طلبہ کو اردو یا انگریزی میں مشکل پیش آتی ہے۔ لیکن جب ہم ایک زبان کو درست طریقے سے پڑھائیں گے ہی نہیں تو ظاہری بات ہے کہ بعد میں اس زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے سے مشکلات جنم لیں گی۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ذریعہ تعلیم کیلئیکون سی زبان بہتر ہے بلکہ ہمیں اس ضمن میں معیار تعلیم کو بھی اہمیت دینی ہوگی۔ آخر کیوں صوبوں کو ذریعہ تعلیم کے حوالے سے ایک مربوط اور مستقل پالیسی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے؟ (یاد رہے کہ18ویں ترمیم کے بعد تعلیم اور ذریعہ تعلیم ایک صوبائی معاملہ بن گیا ہے۔ اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے، تاہم ایک جزوی وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اردو اور انگریزی دونوں میں ماہر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کم فیسوں والے نجی اسکول معیار تعلیم کے مسائل کی وجہ سے اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اور جب بھی ابتدائی سالوں میں مقامی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بات کی جاتی ہے تو والدین اس کو انگریزی یا اردو زبان میں تعلیم دینے کے وعدے سے متصادم سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے ریاست والدین کی مرضی کو پورا کرنے کیلئے ذریعہ تعلیم کو انگریزی اور اردو کے مابین تبدیل کرتی رہتی ہے لیکن پھر وہی بات کہ معیار تعلیم بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اس کام میں بھی ناکام رہتی ہے۔ ہمیں ذریعہ تعلیم کے حوالے سے پالیسی پر عمل کیلئے ابھی مزید ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ذریعہ تعلیم کی پالیسی میں ان چیزوں کو تو واضح ہونا چاہیے کہ ابتدائی تعلیم مقامی زبان میں دی جائے اور اس دوران بچوں کو دیگر زبانیں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جائیں، اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو ذریعہ تعلیم انہی میں سے کسی زبان کو بنادیا جائے۔ لیکن یہاں کے سیاسی اور معاشی حالات اور خاص طور پر تعلیمی انفرااسٹرچر کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے جس نے اس کام کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔ کیا ہمارے بچوں کو ہماری نااہلی کی سزا بھگتنا ہوگی؟