خواتین کا عالمی دن اور شور وغوغا

نئی تہذیب کے گندے انڈوں میں سے ایک یہ ہے کہ سال بھر اہم اہم معاملات کے بارے میں سوئے رہتے ہیں اور پھر ایک دن جاگ اُٹھ کر شور مچا دیتے ہیں۔ اس کام کیلئے مختلف حوالوں سے دن منانے کی رسم پڑ گئی ہے۔ مدر ڈے' ٹیچر ڈے' عورت ڈے' ویلنٹائن ڈے' بچوں کا دن' جانوروں کا دن اور بھی کئی کئی دن منائے جاتے ہیں۔ اور اب تو خدشہ ہے کہ سال کے تین سو پینسٹھ دن میں سے کوئی دن بھی خالی نہیں جائیگا، ہر روز ضرور کوئی چیز منانا لازمی ہوگا۔ اس جدید تہذیب سے جس کو عالمی تہذیب کہا جاتا ہے' مسلمان ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور رہ بھی کیسے جاتے کہ آج کل کمیونیکیشن (مواصلات) کا دور دورہ ہے۔ اُنگلیوں کی حرکت پر بات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچتی ہے۔ انسانوں کا ایک دوسرے سے متاثر ہونا اور مستفید ہونا ایک فطری امر بھی ہے اور ضرورت بھی۔ آج مغرب کی سائنسی ایجادات سے پوری دنیا مستفید ہو رہی ہے اور انسانی زندگی کو بہتر اور آسان بنانے کیلئے کی گئی ایجادات انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہوتا ہے لیکن اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے سبب تہذیب وتمدن اور بعض علوم وفنون اور ایجادات کے اختیار کرنے اور استعمال کرنے میں اپنا طریقۂ کار رکھتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جب مسلمان قرآن وسنت پر عمل پیرا ہو کر زندگی گزار رہے تھے تو ایک دنیا ان کی صاف ستھری تہذیب اور معاملات سے متاثر تھی۔ یورپ نے کسی زمانے میں سپین میں مسلمانوں کی تہذیب کو پسند بھی کیا تھا اور اختیار بھی کیا تھا اسی طرح برصغیر پاک وہند میں ہندو قوم اسلامی احکامات وشعائر سے متاثر ہوکر ہی دائرۂ اسلام میں داخل ہوئی تھی اور مسلمانوں میں میل جول کے سبب بعض ہندووانہ رسوم آج بھی موجود ہیں۔ اسلام نے مرد اور عورت کو بعض امور ومعاملات میں تخلیق' فطرت اور صنف وجنس کے سبب الگ بھی رکھا ہے لیکن بحیثیت مجموعی دونوں کو انسان کے خوبصورت نام سے موسوم کیا ہے۔ بحیثیت انسان دونوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں لیکن فرائض کی بجاآوری اور شعبہ ہائے اور میدان ہائے زندگی میں تھوڑا بہت فرق ضرور رکھا گیا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو احترام' حقوق اور کردار دیا ہے وہ بلا شک وشبہ کوئی نظام' مذہب اور حکومت وقانون نہیں دے سکا ہے اور نہ قیامت تک دے سکے گا لیکن بدنصیبی تب پیدا ہوئی جب مسلمان معاشروں میں خواتین کو وہ حقوق ملنا بند ہوگئے۔ اسی زمانے میں جب مسلمان معاشروں میں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا تھا' مغرب میں خواتین کی آزادی کی تحریکیں پروان چڑھ رہی تھیں اور عورت مغرب میں اتنی آزاد ہوگئی کہ گھر کی دہلیز ہی بھول گئی اور پھر آہستہ آہستہ مغرب پوری دنیا پر حاوی ہوتا چلا گیا۔ دو صدی تک تو ایشیا اور افریقہ ان کے زیرنگیں رہا۔ ظاہر ہے کہ اتنی طویل حکومتوں کے کچھ اثرات تو ہم پر ثبت ہونا ہی تھے اور دوسری صاف بات یہ ہے کہ استعمار سے آزادی کے بعد بھی ہم نے اپنے ہاں اپنی نئی نسلوں کی تعلیم وتربیت کیلئے کوئی خاص تردد بھی تو نہیں کیا، بالخصوص خواتین کے حوالے سے۔ بیسویں صدی کے آخر تک اور آج اکیسویں صدی میں بھی پاکستان کے دیہی علاقوں میں بحیثیت مجموعی انسانی زندگی بے شمار مسائل سے دوچار ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ خواتین بہت ہی مصائب کا شکار ہیں لیکن یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ اس کا حل ''عورت مارچ'' نہیں ہے۔ اس کا حل یہ نعرے نہیں ہیں جو فیشن ایبل' این جی اوز سے وابستہ خواتین ''میرا جسم' میری مرضی'' ''کھانا خود گرم کرلو'' اور ''میں طلاق یافتہ لیکن خوش'' کی صورت میں پلے کارڈز پر اُٹھائے ہوئی ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لئے اپنے کام خود اپنے دست مبارک سے کئے ہیں۔ آج بھی سنت مبارکہ کی پیروی میں بہت سے گھروں میں مرد اپنے بہت سارے کام خود کرتا ہے۔ ایسے مثالی گھر بھی ہیں جہاں مرد عورت (میاں بیوی' بچے) ملکر گھر کے امور بغیر تفریق مرد وزن سرانجام دیتے ہیں۔ باہر کے کام مرد اور گھر کے اندر خواتین اپنے فرائض تن دہی اور خوشی ومسرت اور اسلامی فریضہ اور عبادت سمجھ کر ادا کرتی ہیں۔ وہاں کوئی ایسا ''مسئلہ'' درپیش نہیں جو عورت مارچ والی خواتین کو درپیش ہے۔ ہاں یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان میں بالخصوص دیہات میں خواتین کو بعض اوقات مجبوریوں کے تحت اور بعض اوقات جہالت کے سبب مصائب وتکالیف درپیش ہیں جو مرد وعورت کے سبب نہیں بلکہ اس کے اسباب یہ ہیں کہ پاکستان میں عادلانہ نظام حکومت گزشتہ ستر برسوں سے کہیں وجود میں آئی ہی نہیں۔ مسئلہ انسانی حقوق کا ہے' مسئلہ تعلیم وتربیت کا ہے۔ تعلیم عام ہوگی اور بامقصد و بامعنی ہوگی تو یہ مسائل خودبخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ متنازعہ اور ذومعنی نعروں سے معاملات مزید اُلجھ تو سکتے ہیں حل ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں کے بعض طبقات اس کو بجاطور پر کچھ اور معنی پہنانے سے گریز نہیں کریں گے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ پاکستان میں سب ملکر اچھی حکومت کے قیام اور شریعت کے مطابق انسانی حقوق کیلئے جلوس نکالیں۔