وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

آج مارچ کے مہینے کی آٹھ تاریخ ہے اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔8مارچ کا یہ دن بہانہ بن کر آیا ہے خواتین کو خراج عقیدت پیش کرنے کا کہ8مارچ1907 کو حقوق انسانیت کے دعویدار ملک امریکہ کے شہر نیویارک میں اپنے حقوق کیلئے آواز اُٹھانے والی محنت کش خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس نے چونکا کر رکھ دیا عالمی ضمیر کو اور یوں ہر سال 8مارچ کو دنیا بھر میں یوم خواتین منایا جانے لگا۔ کہتے ہیں کہ خواتین مردوں کی بائیں پسلی سے بنی ہیں اور بائیں پسلی ان کے دل کے قریب ہوتی ہے اسلئے وہ ان کے دل میں بسی رہتی ہیں اور مرد لوگ اپنی تمام تر توانائیاں ان کا دل جیتنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ خواتین کا دل جیتنے کیلئے8مارچ جیسا کوئی دن مقرر نہیں، دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے کہیں بھی خواتین کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ بس شرط اتنی سی ہے کہ خاتون اپنا دل ہارنے کیلئے تیار ہو۔ کسی خاتون کا دل جیتنے کیلئے کیا بوڑھے کیا جوان، دل پھینک مردوں کی کھیپوں کی کھیپیں پائی جاتی ہیں لیکن عقل مند اور سمجھ بوجھ والی خواتین اپنا دل ہارنے کیلئے اس وقت تک تیار نہیں ہو پاتیں جب تک وہ یہ نہ جان لیں کہ ان کے سامنے دل وجان کا نذرانہ پیش کرنیوالا افتخار عارف کے قائم کئے ہوئے معیار پر پورا اُترتا ہے
میں اس سے جھوٹ بھی بھولوں تو مجھ سے سچ بولے
مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
جی ہاں اتنا بھولابھالا اور سیدھا سادا ''مردوا'' ہونا چاہئے جو رات کے وقت بھی خاتون کے دن کو دن کہے اور دن کے وقت بھی اس کی رات کو رات سمجھے۔ وہ دن گئے جب سسی کچے گھڑے پر دریا پار کرکے پنوں کو ملنے کے شوق میں جان کی بازی ہار جایا کرتی تھی، ہیر رانجھے کی بنسری کی ایک کوک کے جواب میں چوریاں لیکر وہاں پہنچ جاتی جہاں وہ مجیاں چرایا کرتا تھا۔ نہ آج چیتھڑے پہنے مجنوں صحرائے عرب میں لیلیٰ لیلیٰ کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی اونچے محلوں والی کالی کلوٹی لیلیٰ مجنوںکی جھولی میں اپنے حسن کی خیرات ڈالنے محل کے دریچے کی چلمن ہٹاتی ہے۔ بدل گئے ہیں محبت کے موسم اور اس کے معیار، ان حالات کے پیش نظر ہی ہم نے غالب کی روح سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ
محبت کا دم بھرنا آساں نہیں ہے
وہ بنگلہ وہ گاڑی رقم دیکھتے ہیں
بدل کر حسینوں کا وہ روپ شوکت
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
پروین شاکر نے کہا تھا نا کہ بچے میرے عہد کے چالاک ہوگئے، یہ حادثہ صرف بچوں کیساتھ نہیں پیش آیا، خواتین کیساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو زندگی بنانے کیلئے سوچ سمجھ اور عقل وشعور سے کام لیتی ہیں اور اگر وہ خود ایسا نہیں کرسکتیں تو اس کام کیلئے اپنے ماں باپ کو اختیار دار بنا دیتی ہیں اور خوش قسمت بچیوں کے ماں باپ ان کے ہاتھ پیلے کرکے انہیں ڈولی میں بٹھانے کیلئے اس دن سے مگن ہوجاتے ہیں جس دن کوئی خاتون اللہ کی رحمت بن کر ان کے آنگن میں آنکھ کھولتی ہے۔ خواتین کو ماں کی مامتا اور بابل کا پیار ورثہ میں ملتا ہے اور نیک پروین خواتین اپنے ماں باپ کی جنت کو ان کی مرضی کے مطابق اس جنت پر نثار کرنے نکل جاتی ہیں جس جنت کو آباد کرنے وہ شادی کا لال جوڑا پہن کر اپنے والدین کی چوکھٹ سے نکل کر بابل کے ارمانوں کے ڈولے میں بیٹھی تھیں لیکن رونے دیجئے مجھے ان کم نصیب بچیوں پر اُٹھنے والے ستم پر جن کو نہ اپنی عزت کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ اپنے ماں باپ کی عزت کا بھرم رکھ پاتی ہیں، میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر لٹ جاتی ہیں بے چاری بھیڑیوں کے اس جنگل میں اور تارتار کروا بیٹھتی ہیں اس عصمت کو جس کیلئے بہت پہلے الطاف حسین حالی نے پکار پکار کر کہا تھا
اے ماؤ بہنو بیٹیو، دنیا کی عزت تم سے ہے
ملکوں کی بستی ہو تمہی، قوموں کی عزت تم سے ہے
خاتون کے دل میں مرد کیلئے پیار کا جو سمندر ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے اسے محبوبہ کی محبت ہی نہیں ماں کی مامتا بھی کہا جاتا ہے، بیٹی کی وفا بھی کہتے ہیں اور بہن کا مان بھی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس پیار کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اپنے پہلو میں رشتوں کے تقدس کو پروان چڑھانے کا جذبہ جوان رکھتے ہوں۔ بڑے بدتمیز ہوتے ہیں وہ لوگ جو عورت کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں۔ ارے خاتون نہ ہوتی تو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر کہاں سے آتے، غوث کتب اور اولیاء کس کوکھ سے جنم لیتے، یہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے یہ شاعر مشرق کے شاہین اور اس کے مردان مومن سب ہی تو تقدس مآب خواتین کے پاؤں کی جنت سے نکل کر آسمان وقت کے جگمگاتے ستاروں کے جھرمٹ میں شامل ہوکر اپنا آپ منوانے لگے، ہاں ہاں یہ بھی سچ ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے اور یہ بھی جھوٹ نہیں کہ ہر ناکام مرد کے پیچھے بہت سی خواتین ہوتی ہیں اور زندگی کے سفر میں ایسی خواتین سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خواتین کے نام پر اللہ بچائے کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوتی ہیں لیکن آج کے دن ہم ایسی خواتین پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے، بس اتنا ہی کہنا کافی جانتے ہیں کہ مرد کو بابل کا درجہ خاتون ہی دیتی ہے، اسے میرے پیارے بھیا کہہ کر خاتون ہی پکارتی ہے اور تو اور خاتون ہی کے طفیل مرد مجازی خدا کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ دانائے راز شاعر مشرق نے یوں ہی نہیں کہہ دیا کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز درون