افغانستان میں قیام امن کے عمل پر سنگین وار

داعش کے حملہ آوروں کاافغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سمیت اعلیٰ افغان حکام کی موجودگی میں دارالحکومت کابل میں ایک سرکاری تقریب پر حملہ میں بتیس افراد کو ہلاک کرنے کا واقعہ امن معاہدے کو ناکام بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس حملے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہی افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کافی نہیں، داعش کی اس تقریب پر حملہ آور ہونے میںکامیابی اور حملہ آوروں کا تین عمارتوں پر کافی دیر قبضہ داعش کی افغان دارالحکومت میں فعال نیٹ ورک کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے، اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی ایک اہم سرکاری تقریب تک حملہ آوروںکی رسائی کا بل میں سیکورٹی کے انتظامات کی ناکامی کی دلیل ضرور ہے۔ہم سمجھتے ہیں اس ساری صورتحال میں جب کابل امریکہ طالبان معاہدے کے باوجود محفوظ نہیں بن سکا، اشرف غنی کی حکومت کے پاس سوائے اس کے کوئی اور موقع نظر نہیں آتا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا کر کے بین الافغان مذاکرات کے اہم فریق کو مذاکرات کی میز پر آنے کا موقع دے اور ساتھ ہی تمام افغان گروپوں سے مکالمہ ومذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جبکہ کابل حکومت پر امریکی چھتری موجود ہے، اشرف غنی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنی حکومت اورافغانستان میں قیام امن کی راہ اختیار کرے۔ کابل میں سرکاری تقریب پر یہ حملہ ہر فریق کیلئے چشم کشا ہے اور افغانستان میں داعش سمیت بے چہرہ قوتوں کی سازشوں اور امن معاہدے کو ناکام بنانے کی مساعی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کابل حکومت کو درپیش خطرات کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نشاندہی کی ہے انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان ممکنہ طور پر افغان حکومت گراسکتے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی نے درست کہا ہے کہ امن معاہدے کے بعدپرتشدد کارروائیاں تھم جانی چاہئیں۔ اس حملے کے پس پردہ وہ قوتیں ہوسکتی ہیں جو افغانستان میں قیام امن کے خواہاں نہیں، طالبان کے بعد افغانستان میں داعش کی صورت میں جو ایک نیا طاقتور گروپ سامنے آرہا ہے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے افغان گروپوں میں تضادات کا خاتمہ اور ہم آہنگی ازبس ضروری ہے۔ افغانوں کو اب اس امر کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ باہم اتحاد واتفاق کے ذریعے یکے بعد دیگرے دوسے چار دہائیوں کے دوران گزرے حالات سے نکلتے ہیں یا پھر افغانستان میں داعش کی صورت میں اور اس کیساتھ ساتھ بے چہرہ طاقتوں کو کھیل کھیلنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ افغانستان کے داخلی انتشار اور عدم استحکام کے اثرات سے پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان پر بھی اثرات عام مشاہدے کی بات ہے، افغانستان کا تازہ واقعہ پاکستان کیلئے بھی باعث تشویش امر ہے۔ افغانستان میں قیام امن کی خواہاں قوتوں کو دوحہ امن معاہدے کو کامیاب بنانے اور بین الافغان مذاکرات شروع کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور انتشار پر آمادہ قوتوں کو ملکر شکست دینے کی ضرورت ہے۔ ان تمام عناصر کو اس امر پر بھی خاص طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر بین الافغان مذاکرات کا عمل شروع نہ ہوسکا اور امریکی افواج افغانستان سے چلی گئیں تو پھر اس جنگ زدہ ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔
وزیر اعظم کا مافیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ
وزیراعظم عمران خان اگر حسب منشاء گندم اور چینی کے بحران کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائیں اور اپنے پرائے کی تمیز کے بغیر کارروائی یقینی بنائیں تو ایک عمدہ مثال ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ گندم اور چینی کے بحران میں ملوث کسی شخص کو معافی نہیں ملے گی کیونکہ گندم اور چینی بحران کے باعث حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑااور عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی شفاف گورننس ہے، کسی کو بحران پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وزیر اعظم عمران خان پر عام اعتراض یہی ہے کہ انہوں نے قبل ازاقتدار جو وعدے کئے تھے بعد ازاقتدار ان وعدوں کی تکمیل کی بجائے سراسر مخالف سمت میں چل پڑے ہیں۔ آٹا اور گندم کا بحران چینی کی قلت پیدا کرنے کا الزام ایسے افراد پر لگایا جاتا ہے جو وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے دست راست کے طورپر مشہور ہیں، علاوہ ازیں یہ عناصر کابینہ میں بھی شامل ہیں۔ گندم و آٹا کا بحران پیدا کرنے اور چینی کی قلت پیدا کرنے کیلئے جس منظم منصوبہ بندی کی شنید ہے وہ حکومتی عناصر اور بیوروکریسی کے فیصلوں اور منظم منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ وزیر اعظم نے اس کی تحقیقات کراکے جو رپورٹ مرتب کروائی ہے حزب اختلاف بجائے اس کے کہ اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتی اور اسے سیاسی مخالفین کا مکوٹھپنے کی کوشش قرار دیتی اور رپورٹ یہ کہہ کر مستردکردیتی کہ یہ یکطرفہ اور ناقابل قبول ہے۔ اس کے برعکس حزب اختلاف نے اس رپورٹ کو ایوان میں پیش کرنے اور اس رپورٹ کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس سے اس امر کا اظہارہوتا ہے کہ تحقیقات یکطرفہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شوگر اور گندم مافیا خواہ وہ حکومتی صفوں میں ہوں یا حزب اختلاف کی صفوں میں وہ مفادات کا پجاری اور مافیا ہوتا ہے، اسے عوام سے کوئی غرض نہیں ہوتا۔ گندم اور چینی کے بحران میں راتوں رات اربوں روپے ناجائز طورپر منافع کرنے والے سبھی حکومتی عناصر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی حزب اختلاف اور بڑے بڑے کاروباری گروپوں کااس فہرست میں نام نہ ہوگا، بلکہ منظم مافیا کی جڑیں ہر جانب پھیلی اور پیوست ہوں گی جن کیخلاف کارروائی مشکل نظر آتی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کوششیں لاحاصل ہی ثابت ہوئی ہیں لیکن وزیر اعظم نے جس عزم کیساتھ اس امر کا عندیہ دیا ہے تو اُمید ہے کہ جلد سے جلد نہ صرف ان کو بے نقاب کیا جائے گا بلکہ لوٹی ہوئی رقم کے مساوی جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔