اچھی بات کہنے کا بُرا انداز

خواتین کے حقوق کے نام پر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا یعنی مسائل تو وہیں رہے ملک ومعاشرے میں ایک نئی تقسیم اور نئی کشمکش تیز ہوگئی۔ اچھی سے اچھی بات کو بھونڈے اور برے انداز میں بیان کیا جائے تو اول تو اس کا اثر ہی نہیں ہوتا اور ہو بھی تو وہ ردعمل کی اس قدر اونچی بازگشت کو جنم دیتی ہے کہ اصل آواز کی اہمیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ چند برس سے خواتین کا عالمی دن آنے سے پہلے ہی خواتین کے حقوق کے نام پر ملک میں ایک عجیب بحث چھڑ کر اتفاق رائے کی بجائے ایک نئی افتراق کو جنم دیتی ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والی سرگرمیاں بظاہر تو خواتین کے حقوق کے نام پر جاری ہیں مگر حقیقت میں یہ ملک میں جاری کشمکش کو مزید گہرا کرنے کی نہ صرف شعوری کوشش ہے بلکہ یہ مختلف طبقات میں خلیج کو گہرا کرنے کی سوچی سمجھی سکیم ہے۔ ایک طرف خواتین کے حقوق کے نام پر ملک میں تیزی سے اس انداز کے لبرل ازم کو فروغ دیا جانے لگا ہے جو اس خطے کی تہذیبی اور ثقافتی قدروں سے قطعی لگاؤ نہیں کھاتا تو دوسری طرف اپنی بات کرنے کا جو انداز اپنایا جا رہا ہے اس کا مقصد دوسرے نکتۂ نظر کے علمبرداروں کو مشتعل کرکے ایک جذباتی ماحول بنانا ہے۔ پاکستان میں حقوق نسواں کی بات کرنے والے اس وقت اپنے کاز اور نعرے ونظرئیے کی بجائے اپنے قد کو اونچا کرنے اور ایک مصنوعی لہر اُٹھا کر اپنے فنانسرز سے داد وتحسین سمیٹنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ یوں تو یہ ایک عالمگیر کشمکش اور ہر ملک ومعاشرے کا قصہ ہے مگر پاکستان اس تحریک کا مرکزی ہدف ہے۔ پاکستان کی نظریاتی شناخت بہت سے جیو پولیٹیکل معاملات سے جڑی ہوئی ہے اسلئے بہت سی قوتیں اس کی نظریاتی شناخت اور اساس کو بدلنے پر کمر بستہ ہیں۔ اس کام میں پاکستانیوں کا کندھا بھی استعمال ہوتا ہے تو بیرونی دنیا اور اداروں کے مالی وسائل کام میں آتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت لبرل ازم کی جو تحریک چل رہی ہے اسے فارن فنڈڈ پروجیکٹ کے طور پر این جی اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ''میرا جسم میری مرضی'' جیسے سلوگن ملک کی اکثریت کو مشتعل کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان میں نظریاتی تقسیم بہت پرانی اور گہری رہی ہے۔ ایک دور میں یہ تقسیم دایاں بازو اور بایاں بازو کے نام اور عنوان رکھتی تھی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا بھر کی سیاسی اور نظریاتی حرکیات میں تبدیلی آئی اور دائیں اور بائیں کی نظریاتی تقسیم بظاہر ختم ہوئی مگر حقیقت میں یہ ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک نئے نام اور عنوان کیساتھ جاری رہی۔ سوویت یونین کے زیراثر بائیں بازو نے سرخ انقلاب کو ایک خواہش ناتمام اور کوشش ناکام سمجھ کر خود کو مغرب کیساتھ جوڑ دیا اور مغرب نے بھی ان نظریات کے حامل طبقات کو این جی اوز کے نام پر گود لے لیا۔ اب یہ طبقہ لبرل ازم کے نام پر پاکستانی معاشرے کی قدیم، روایتی اور مذہبی اقدار کیساتھ محوِجنگ ہے۔ مغرب نے لبرل ازم کو ایک پروجیکٹ کے طور پر چلانا شروع کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر خاتون اس پروجیکٹ سے معاشی طور پر مستفید ہوتی ہو مگر اصل حکمت کار اسے ملک میں جاری یونیسف اور یونیسکو کے صحت، تعلیم، پانی کی طرح ایک بیرونی پروجیکٹ کے طور پر چلا رہے ہیں۔ اس کشمکش میں اگر بات کرنے کا انداز باوقار اور جیو اور جینے دو کے تصورات پر مبنی ہوتا تو شاید سماج کا مرکزی دھارا اسے نظرانداز ہی کر دیتا مگر یہ طبقہ لبرل ازم کے نام پر اپنا جو سودا بیچ رہا ہے اس میں زبان وبیان کا خیال ہے نہ عمومی دھارے کے جذبات کا لحاظ وپاس بلکہ اپنی بات کہنے کیلئے یہ طبقہ پبلک مقامات پر جمع ہوکر عامیانہ اور سوقیانہ زبان استعمال کرتا ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ معاملہ حقوق سے زیادہ مخاطب کو مشتعل کرنے کا ہے اور وہ پاکستانی سماج کے مجموعی دھارے کو مشتعل اور متحرک کرکے اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئے ہیں۔ اب انہیں حقو ق تو کیا ملنے ہیں مگر پاکستانی معاشرے میں ایک فساد اور ہیجان پیدا کرنے پر اصل حکمت کاروں سے داد وتحسین ضرور حاصل ہو رہی ہوگی۔ گویا کہ میرا جسم میری مرضی والی عورتوں نے ایک بھرپور ردعمل کو جنم دیا۔ یہ ردعمل ان کے عمل سے زیادہ بھرپور اور توانا ہے۔ ابھی حجاب اور نقاب والی خواتین دریائی جلوسوں کیساتھ میدان میں نکل آئی ہیں اور اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ مغرب کے جن نعروں کو رزق روزگار کی خاطر ہمارے ہاں بلند کیا جارہا ہے ان نعروں کو مغرب نے ایک ڈھکوسلہ ثابت کرکے دفن کر دیا ہے۔ خواتین کے حقوق، انسانوں کے حقوق، شہری آزادیاں، حق رائے دہی، جمہوریت، انصاف کے نعروں کیساتھ گزشتہ چند دہائیوں میں مغرب نے جو سلوک کیا ہے اس نے ان نظریات کا سارا میک اپ دھو ڈالا ہے۔ یہ سب خوش نما اصطلاحات ایک علاقے میں ایک تعبیر وتشریح رکھتی ہیں تو دوسرے مقام پر ان کا مفہوم خود مغرب کیلئے یکسر بدل جاتا ہے۔ ایک یا چند ایک مذاہب کے پیروکاروں کیلئے یہ اصطلاحات واقعی ایک زندہ حقیقت ہوتی ہیں اور کچھ اور مذاہب کیلئے یہ اصطلاحات بے مقصد اور بے روح جسم ہوکر رہ جاتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواتین کیلئے ہمارے معاشرے میں سب اچھا ہے ہمارے حرماں نصیب معاشرے میں جو مسائل ہر طبقے کے ہیں ان کا سامنا خواتین کو بھی کرنا پڑ رہا ہے عمومی طور پر خواتین کے حالات نسبتاً بہتر ہیں کہ سماج میں انہیں عزت وتکریم کا ایک مخصوص درجہ حاصل ہے۔