ہنگری چینی ویکسین وصول کرنے والا پہلا یورپی ملک بن گیا

ہنگری یورپ میں پہلا ملک بن گیا جہاں چین کی تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین لوگوں کو دی جائے گی۔چائنا ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے سینوفارم کی تیارکردہ کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ ہنگری کو فراہم کردی ہے۔نیشنل پبلک ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر ایگنیس گالوگوزی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ویکسین کی ساڑھے پانچ لاکھ خوراکیں 2 لاکھ 75 ہزار افراد کے لیے فراہم کی گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہر شخص کو دو مرتبہ ویکسین دی جائے گئی اس اعتبار سے ویکسین کی تعداد مناسب رہے گی۔ویکسین کی کھیپ کو وصول کرنے کے لیے ہنگری کی وزارت خارجہ امور و تجارت کے سیکریٹری اور ہنگری میں چینی سفیر کیو ڈیو نے لزٹ فیرنک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔اس موقع پر مینزر نے کہا کہ ہم یورپی یونین میں شامل پہلا ملک ہیں جو سینوفارم ویکسین کا استعمال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانی زندگی اور معیشت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں اور اپنے چینی دوستوں کے ساتھ مل کر کووڈ-19 کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ہنگری کی وزارت خارجہ و تجارت کے سیکریٹری نے 'ہنگری کے لیے ایک بہت اہم دن' قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چین اور ہنگری کورونا وائرس کے خلاف شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں اور آج پہنچنے والی ویکسین کی کھیپ عالمی سطح پر چین سے متعلق اچھا تاثر پیش کرتی ہے۔ہنگری نے 29 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ اس نے چین کے سینوفارم کووڈ-19ویکسین خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس سے 25 لاکھ افراد کو ویکسین دی جائے گی۔

سینوفارم ویکسین کے ذریعے ہنگری کے شہریوں کو کووڈ-19 کے خلاف 5 ویکسینوں تک رسائی ہوگی۔یورپی یونین میں شامل ہنگری پہلا رکن ملک ہے جہاں چینی ویکسینوں کو خریدنے اور استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق ہنگری میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 823 نئے کووڈ-19 کیسز درج ہوئے۔نئے کیسز کے بعد ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 89 ہزار ہوگئی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں وائرس سے 85 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 13 ہزار 837 ہوگئی۔علاوہ ازیں بتایا گیا کہ فی الحال ہسپتالوں میں 3 ہزار 979 مریض زیر علاج ہیں اور ان میں سے 318 وینٹیلیٹر پر ہیں۔