کرونا ویکسین اور غلط فہمیاں

کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ویکسین نہ صرف ایجاد ہوچکی ہے بلکہ پاکستان میں بہ آسانی دستیاب ہے مگر پاکستان کے عوام اب اس کے بارے میں بھی بے پرکی اُڑا رہے ہیں اور ان کی یہ باتیں بھی اسی طرح ہیں کہ جب کرونا آیا تھا اور دنیا بھر میں اس کی کوئی دوا اور ویکسین ایجاد نہیں ہوئی تھی، تب بھی برصغیر پاک وہند کے مختلف ماہرین نے اپنے اپنے تجربے شروع کر دئیے تھے۔ آج سے چند دہائیاں پہلے تو یہ کام مولویوں کا ہوا کرتا تھا کہ جب سائنس کوئی نئی ایجاد کرتی، چند نام نہاد مولویوں کی ڈیوٹی لگ جاتی تھی کہ صبح دوپہر شام مسجد میں لوگوں کو بے وقوف بناتے رہو اور انہیں جدید ایجادات سے فائدہ اُٹھانے سے ہر ممکن طریقے سے روکے رکھو، جیسا کہ سپیکر کے ساؤنڈ سسٹم کی بھرپور مخالفت کرتے رہے اور اس کو شیطانی آلہ قرار دیا۔ یہی نہیں بلکہ اب کل کی بات ہے کہ پولیو جیسے مرض سے بچنے کیلئے جو ویکسین دی گئی اس کیخلاف بھی انہوں نے اپنے علم کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور لوگوں کے دلوں میں ایسی ایسی باتیں پھیلائیں کہ لوگ آج تک اس سے بچنے کی اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں بلکہ قارئین بہتر جانتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں پولیو مرض پوری طرح ختم ہوچکا ہے لیکن صرف اور صرف ہمارے ملک میں یہ وائرس موجود ہے، اس سے بچنے اور واپس نہ آنے کیلئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنے سارے فنڈز پاکستان میں لگا دئیے ہیں تاکہ یہ مرض ساری دنیا سے پورے کا پورا ختم ہوجائے۔ کچھ یہی حال اب کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ایجاد ہونے والی ویکسین کا بھی ہے اور یہی ان پڑھ لوگ آج کل سوشل میڈیا پر اپنی ماہرانہ رائے دیکر سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور طرح طرح کی ویڈیو ایڈیٹنگ کرکے لوگوں کو ڈرایا جارہا ہے کہ اس ویکسین سے نس بندی کی جارہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہماری آئندہ نسل چینیوں کی طرح چپٹے ناک اور پیلے رنگ والے کاٹھے قد کی ہوسکتی ہے۔
سوشل میڈیا کے کرونا ماہرین نے تو آسمان وزمین کی دوائیں روشناس کروا دی تھیں۔ ان بے ڈگری ماہرین نے پہلے پیاز اور پھر دیگر کئی جڑی بوٹیوں کو کرونا وائرس کا علاج ہونے کا دعویٰ کیا اور اتنے اعتماد کیساتھ لوگوں کو اپنی دریافت سے مستفید ہونے کیلئے اُکساتے رہے کہ جیسے وہ امریکہ کے صحت کے کنٹرول کے سب سے بڑے ادارے (ایف ڈی اے) کے سربراہ یا سائنسدان ہوں۔ دم درود کے بابے بھی سرگرم رہے اور مختلف تعویز گنڈوں سے لوگوں کو بروقت ویکسین اور دوا دیتے رہے ہیں اور سب امراض کا تریاق کلونجی تو ان سب ادویات میں پہلے نمبر پر تھا اور یقین جانئے تو ویکسین آنے کے بعد بھی یہی پہلے نمبر پر ہیں۔ دیہاتیوں نے تو کیا شہر کے پڑھے لکھے لوگوں نے بھی ان ادویات کا نہ صر ف استعمال شروع کر دیا ہے بلکہ اچھی خاصی مقدار میں ذخیرہ بھی کی اور یہ تو آپ خوب جانتے ہیں کہ ہماری قوم ذخیرہ اندوزی میں کتنی ماہر ہے کیونکہ گاہے بگاہے چینی، آٹا اور دیگر کئی اشیاء کو ذخیرہ کرنا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ٹھہرا۔ پاکستان کے سائنسدانوں کی ادویات کا سن کر ہمارے پڑوسی نے چپ تھوڑی ہی بیٹھنا تھا لہٰذہ بھارت کے طب کے نام نہاد ماہرین نے بہت سی ادویا ت کیساتھ ساتھ گاؤموتر (گائے کے پیشاب) کے استعمال کو نہ صرف کرونا کا علاج قرار دیدیا بلکہ گاؤموتر پی کر آپ کرونا کی ویکسین کا فائدہ بھی لے سکتے ہیں۔ جتنا گاؤموتر پئیں گے اتنا آپ کرونا کے خطرے سے بچ سکتے ہیں۔ لوگوں نے سننا تھا اور پھر کیا تھا ہر فارماسوٹیکل مینوفیکچرر کی طرح گاؤموتر کی ڈسٹری بیوٹر سرگرم عمل ہوگئے اور گاؤموتر پینے کیلئے آپ کو گائے ڈھونڈنے اور اس کے پیشاب کرنے کا انتظار سے بچانے کیلئے تیار موتر آپ کے گھر پہنچانے کا بندوبست بھی کردیا گیا۔
سب لطیفوں سے ہٹ کر سنجیدہ بات یہ ہے کہ کووڈ19 نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، یہ وائرس چین سے شروع ہوا تھا اب چین میں تقریباً ختم ہوچکا ہے، اس مشن میں جن کارکنوں نے حصہ لیا تھا اور فاتح اپنے گھروں کو لوٹے تو پوری قوم نے ان کی خدمات کو شاندار انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا، پورے چین کی ہر ایک سکرین پر انہی ہیروز کی تصویریں ہیں اور چین کی حکومت نے ہمارے غریب لوگوں کیلئے ویکسین وہ بھی مفت دیکر ایک بار پھر ہمالا کی چوٹی کے برابر سچی دوستی کا ثبوت دیدیا ہے۔ اب عوام سے التماس ہے کہ پاکستانی حکومت کیساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ اس موذی مرض سے حتی الامکان بچا جاسکے۔ جب بھی جس کسی کو حکومت کی طرف سے ویکسین لگوانے کیلئے کہا جائے تو دیر نہ کریں۔