کچھ نام تو رہ گئے۔۔ کیا پیسہ بھی رہ جائے گا؟

تین مارچ کا سینیٹ الیکشن حکومت کا بڑا امتحان ہے۔ ایک طرف حکومت مہنگائی کی وجہ سے دبا میں ہے اور دوسری جانب پی ڈی ایم سے بھی اُلجھا۔ ایسے میں حکومت کیلئے نہایت ضروری ہے کہ اس کے تمام سینیٹرز الیکشن میں پارٹی کیساتھ کھڑے رہیں اور حکومت ایوان بالا میں سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھرے اور اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرے۔ وزیر اعظم نے اپنے پارٹی اُمیدواروں کو سینیٹ ٹکٹ دینے کیلئے ایک کمیٹی بنائی جو اتحادیوں کیساتھ بھی ان انتخابات کے معاملات طے کرے۔ اس کمیٹی میں انہوں نے اپنے پرانے اہم ساتھیوں جیسے کہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود وغیرہ کو شامل کیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے گورنر کو اور وزرائے اعلی کو بھی ساتھ لیا۔ ٹکٹ دینے کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ جماعت کے اراکین کو کہا گیا کہ آپ ٹکٹ کیلئے درخواست مت دیں کمیٹی خود طے کرے گی کہ ٹکٹ کا کون مستحق ہے۔اس کے نتیجے میں ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی جو فہرست سامنے آئی کافی اہم تھی۔ جن لوگوں کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں اور جو وزیر اعظم کے دست راست دکھائی دیتے تھے جیسے کہ شہزاد اکبر، زلفی بخاری اور شہباز گل ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ شہزاد اکبر کو تو یقین تھا کیونکہ ان کو سینیٹ میں جانے کی تیاری کا بھی کہا گیا تھا لیکن پارٹی کی کمیٹی میں سینیئر ممبران نے اس بات پر اصرار کیا کہ جو پارٹی کے پرانے وفادار ہیں اور کافی عرصے سے جڑے ہیں ان کو لے کر آنا چاہیے نہ کہ ان لوگوں کو جو ایک طرف تو نئے اور ٹیکنوکریٹس ہیں ان کو سیٹ دینے کا کوئی بظاہر فوری سیاسی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی ان میں کئی ایسے لوگ ہیں جو آج پارٹی کیساتھ ہیں کل کہیں اور چلے جا سکتے ہیں۔ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حکومت سازی کے وقت پارٹی میں شامل ہوئے اور پھر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ زلفی بخاری کی البتہ عمران خان سے پرانی وفاداری ہے لیکن وہ متعدد مرتبہ یہ وضاحت کرچکے تھے کہ وہ سینیٹ کے امیدوار نہیں ہیں۔ ٹکٹس کی حد تک وزیراعظم نے اپنی ٹاپ ٹیم کیساتھ مشاورت اور سوچ بچار کے بعد ٹکٹس دی ہیں۔ بظاہر نہیں لگتا کہ انہیں اب مزید کوئی مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایوان بالا کے انتخابات کو لیکر جو ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے وہ طریقے کار سے معتلق ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ووٹ خفیہ ہوگا یا کھلے عام ہوگا۔ حکومت نے اپنا ایک موقف اپنایا۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ممبران شاید اپنے ووٹ بیچتے ہیں کیوںکہ اس تناسب سے امیدوار نہیں جیتتے جس تناسب سے ان کے الیکٹورل کالج میں ووٹ ہوتے ہیں۔ ووٹوں کی خرید وفروخت کا معاملہ حکومت سے پہلے اپوزیشن نے بھی اٹھایا تھا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اس کو اتنا اہم سمجھا کہ انہوں نے اسے2006میں چارٹر آف ڈیموکریسی میں اتفاق کیا کہ اس کا طریقہ کار تبدیل ہو گا اور یہ اوپن بیلٹ سے ہو گا۔ پیسے کے استعمال پر اعتزاز احسن نے ہمارے پروگرام میں کھل کر بات کی۔2006میں جب چارٹر آف ڈیمو کریسی تیار ہو رہا تھا تو محترمہ بینظیر بھٹو نے اعتزاز احسن سے کہا تھا کہ اس معاملے کا کچھ نہ کچھ علاج تلاش کیا جائے۔ حکومت جھگڑالو موڈ میں دکھائی دیتی ہے۔ تمام پارٹیاں کہہ چکی ہیں کہ یہ طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہنا شروع کیا کہ حکومت کا تبدیلی لانے کا جو طریقہ کار ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ حزب اختلاف کو شکایت رہی کہ پارلیمان میں حکومت قانون سازی پر ان سے صحیح طریقے سے بات نہیں کرتی۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکومت اپنے مطلب کی خاطر یہ کر رہی ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ان کو چھوڑ جائیں گے۔ ان کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کا سوال ہے کہ ایسا کرنے کی کوشش پہلے کیوں نہیں کی گئی۔ قصہ مختصر اپوزیشن نے پارلیمان میں تو یہ بتا دیا کہ وہ اس وقت کسی بھی آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔ حکومت نے پھر تین طریقہ کار اپنائے۔ ایک آئینی ترمیم لے کر آئے، دوسرا ریفرنس دائر کر دیا سپریم کورٹ میں اور تیسرا یہ کہ صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا۔ صدارتی آرڈیننس میں اوپن بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ کا کہا گیا ہے۔ بہرحال اس مسئلے کا کوئی ابھی تک نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمی اس کی ابھی سماعت کر رہی ہے۔ دوسری طرف سندھ کے وکلا اور اٹارنی جنرل یا الیکشن کمیشن کے وکیل ایک اٹل پوزیشن لے کر بیٹھے ہیں کہ آرٹیکل226کے تحت خفیہ بیلٹ ووٹ کے بعد بھی خفیہ ہونا چا ہیے۔ سپریم کورٹ کی آبزرویشن اس کے برعکس ہے۔ بہرحال سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ بتائیں یہ انتخابات کس طرح صاف اور شفاف ہوں گے جس پر کمیشن نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ووٹرز ایک حلف لیں اور عہد کریں کہ وہ ووٹ کی خریدوفروخت نہیں ہونے دیں گے۔ اس انتخاب کے طریقہ کار میں کچھ تبدیلیاں آنے کے قوی امکانات ہیں۔ عدلیہ کا اصرار ہے کہ جب سب مان چکے ہیں کہ پیسہ چلتا ہے تو اس کو روکنا الیکشن کمیشن کے لییلازم ہے۔ سوال ہے کہ اس مسئلے کا حل آئینی ترمیم سے ملے گا یا عدالتی حکم سے؟۔