شفاف تقرریوں کی ضرورت

سرکاری محکموں میں سکیل ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی خالی اسامیوں پر نئی بھرتی یا پھر ترقی کے ذریعے نئی تعیناتیاں نہ ہونے کے باعث دفتری امور کا متاثر ہونا فطری امر ہے علاوہ ازیں سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کے وعدے کی تکمیل بھی خالی اسامیوں کو پر کئے بغیر ممکن نہیں جن سرکاری ملازمین کو استحقاق کے باوجود ترقی سے محروم رکھا جائے ان کی کارکردگی کا بھی متاثر ہونے کا اندیشہ بھی قابل غور معاملہ ہے۔حکومت نے سرکاری محکموں سے جو پروفارما طلب کیا ہے اس کی روشنی میں جتنا جلد اس ضمن میں پیشرفت ہو تو زیادہ بہتر ہوگا البتہ اس امر کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ بھرتیوں کا عمل ٹیسٹ سے لیکر انٹرویو تک اور تقرریاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر اور پوری طرح شفاف ہوں۔حال ہی میں پیش آنے والی صورتحال کے باعث ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کا حوصلہ اور اعتماد مجروح ہوا ہے کوشش کی جائے کہ محولہ تقرریوں میں اس طرح کی صورتحال سے بچاجائے جبکہ ترقیوں کا عمل بھی بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔
ترقیاتی کاموں میں پیشرفت،رکاوٹ نہ آئے
خیبرپختونخوا میں اگرچہ موجودہ دور حکومت میں کوئی میگا پراجیکٹ تو شروع نہیں کیا گیا لیکن رواں سال جس تواتر کے ساتھ ترقیاتی کاموں کا شہروں سے لیکر اضلاع تک اجراء ہورہا ہے یہ قابل اطمینان امر ہی نہیں حکومتی کارکردگی کا مظہر اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے مثبت تاثرات کا بھی باعث امر ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان پوری فعالیت کے ساتھ منصوبوں کے حوالے سے اجلاس منعقد کرتے ہیں اس عمل سے ممبران صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت میں نمایاں بہتری آنے لگی ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی ان کے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور عوامی مسائل کے حل میں نمایاں بہتری کا اعتراف کیا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ممبران صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں مقامی سطح کے چھوٹے موٹے مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے کیلئے صوبے کی تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ڈویژنز اور ڈسٹرکٹس میں بھی متعلقہ ممبران صوبائی اسمبلی کیساتھ اس طرح کے ماہانہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرکے منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے نشاندہی کردہ مسائل کو مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق حل کرکے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو رپورٹ پیش کرنے کی جو ہدایت کی ہے اس پر مداومت کی ضرورت ہے تاکہ جس جوش وجذبے کے ساتھ یہ عمل شروع کیا گیا ہے اس میں رکاوٹ نہ آئے اور سرکاری مشینری کے روایتی تساہل کی نذر نہ ہوں۔
جامعات میں ڈریس کوڈ کا نفاذ ہونا چاہئے
خیبر پختونخوا کی دوجامعات میں نئے ڈریس کوڈ پالیسی کے نفاذکی حکومت کی جانب سے سرپرستی کافی نہیں بلکہ اس کا اطلاق صوبے کی تمام جامعات پر لاگو کر کے اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہونا چاہیئے تاکہ جامعات میں پوری طرح تعلیمی ماحول قائم ہو اور طلباء وطالبات سطحی اور نمائشی چیزوں کے اسیر بن کر نہ رہ جائیں۔ڈریس کوڈ میں کوئی ایسی شرط شامل نہیں جسے سختی اختیار کرنے کا تاثر ملے اگرچہ ڈریس کوڈ ابھی بھی شرعی اصولوں کے مطابق نہیں اور مقامی روایات پر بھی پورا نہیں اترتا اس کے باوجود بھی یہ احسن قدم ہے خیبرپختونخوا کی دو جامعات میں اس کے نفاذ کے بعد دیگر سرکاری ونجی جامعات میں اس کا پوری طرح نفاذ کیا جائے اور جامعات کو فیشن شوز کا مرکز ہونے کی بجائے پروقار تعلیمی ادارے نظرآئیں۔والدین کو بھی رئیس الجامعات سے ڈریس کوڈ کے نفاذ وپابندی کا مطالبہ کر کے ان کی معاونت کرنی چاہئے۔
سائبر کرائمز کی روک تھام
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے )کو اس حد تک مضبوط کیا جائے کہ وہ انٹرنیٹ پر ہراسگی ،بنیادی حقوق کی پامالی، اقلیتوں کے ساتھ نامناسب رویے اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے ساتھ کی جانیوالی زیادتیوں کی روک تھام کا فریضہ بحسن وخوبی ادا کر سکے احسن اقدام ہوگا جس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی اسی طرح آن لائن موجود نفرت اور اشتعال انگیزمواد کو ختم کرنے ، فرقہ واریت اورمذہبی منافرت پیدا کرنے والے مواد کو بھی انٹر نیٹ سے ہٹانے کی استعدادکار میں اضافہ کرنے سے بہت سے قبائح کی بروقت روک تھام ممکن ہو سکے گی۔جدید دور کے جدید مسائل سے بروقت نمٹنے کیلئے اداروں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں مکمل طور پر آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے نیز جرائم کی روک تھام وتفتیش کیلئے سازو سامان وجدید آلات کی فراہمی کا عمل خاص طور پر سائبر کرائمز کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری ہے جس کے بعد سائبر کرائمز کی روک تھام اور اس کے مرتکب افراد کے خلاف جلد کارروائی ہوسکے گی۔سائبر کرائمز کا شکار ہونے والوں کا اس میں اکثر اپنا بھی کردار اور غلطی سامنے آتی ہے جس کی روک تھام اور انسداد کیلئے ضروری ہے کہ اس سے بچنے کے طریقوں بارے آگاہی ہونیز ایسے امور سے اجتناب خاص طور پر ضروری ہے جن پر خود کردہ لاعلاج نیست کا مقولہ صادق آتا ہے۔آگاہی وشعور پیدا کرنے آن لائن صارفین کے از خود احتیاط اور اپنے ہاتھوں خود کو دوسروں کو موقع دینے سے اجتناب کے ساتھ ساتھ بڑھتے واقعات کی روک تھام اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی اس ضمن میں بہتری ممکن ہے۔