دے جا سخیا راہ خدا!

یونیورسٹی سے گھر جاتے ہوئے راستے میں ٹریفک کے تین اشارے آتے ہیں۔ جوں ہی اشارہ سرخ ہوتا ہے بھکاریوں کی ایک فوج گاڑیوں پر یلغار کر دیتی ہے۔
ہاتھوں میں پھول تھامے معصوم بچے، گود میں بچہ اٹھائے عورتیں، تسبیح اور پنج سورہ لیے باریش ادھیڑ عمر آدمی، کٹے ہوئے بازو یا ٹانگ والا جوان فقیر، گلے میں منکے لٹکائے لال لال آنکھوں سے گھورتا ملنگ اور ان سب سے بڑھ کر کھسروں کا سوانگ بھرے فقیر۔یہ سب گاڑیوں کے شیشوں سے اندر جھانکتے، عجیب دھمکی آمیز انداز میں دعائیں دیتے، جملے چھانٹتے، اس انداز میں پیسے مانگتے ہیں کہ خواہ مخواہ ہی دل پر بوجھ سا ہو نے لگتا ہے۔الجھے سلجھے بالوں اور میلے گالوں والے بچوں کو دیکھ کر دل نرم پڑ جاتا ہے۔
گود میں شیر خوار بچہ لیے چہرے پر عاجزی اور بے بسی سجائے جوان ماں کو دیکھ کر کلیجہ اچھل کر حلق میں آجاتا ہے۔ سفید ریش بزرگ کے ہاتھ میں مقدس کتابیں دیکھ کر دل لرز جاتا ہے اور اپنی عاقبت کی فکر ہوتی ہے۔میں نے اکثر لوگوں کو ان فقیروں کو بھیک دیتے دیکھا ہے۔ کچھ لوگ تو باقاعدہ گھر سے نکلتے ہوئے کھلے پیسے لے کر نکلتے ہیں کہ ان کے مطالبے پر ادا کر دیں گے۔ یہ تماشا میں شاید ہمیشہ سے دیکھتی آ رہی ہوں۔
کئی دفعہ خواہش ہوئی کہ رک کر ان کے حالات تفصیل سے پوچھوں اور ان کے مسائل کا حل تلاش کروں لیکن نہ تو کبھی فرصت ملی اور نہ ہی اتنی جرات اکٹھی کر پائی۔ مگر یہ سوال وہیں کا وہیں موجود ہے کہ کیا یہ واقعی ضرورت مند ہوتے ہیں یا محصول چنگی کی طرح فقیروں کا بھی ایک باقاعدہ نظام ہے؟۔
ہمارے بچپن میں اکثر فقیروں کے نیٹ ورکس بے نقاب کرنے والے فیچرز اخبارات کی زینت بنتے تھے۔ بڑے، بچوں کو ڈراتے تھے کہ اگر بے وقت باہر نکلے تو کوئی بوری میں بھر کے لے جائے گا اور ہاتھ پائوں توڑ کے بھیک منگوائے گا۔تب اس دھندے کی ایسی باریک اور بھیانک تفصیلات بیان کی جاتی تھیں کہ ڈر کے مارے گھر سے نکلنے کی خواہش ہی دم توڑ جاتی تھی۔ کس شکل اور وضع کے چمچوں سے آنکھیں نکالی جاتی ہیں، کیسے بغدوں سے ہاتھ پائوں کاٹے جاتے ہیں اور کس طرح گود کے بچوں کو افیم دے کر سلایا جاتا ہے تاکہ دن بھر انہیں گود میں لٹکا کے بھیک مانگی جا سکے۔ یہ سب ہمارے بڑوں کو ازبر تھا۔وقت کافی گزر چکا ہے۔ کئی نئی آبادیاں بس چکی ہیں۔ نئی سڑکوں پر نئے اشارے نصب ہو چکے ہیں۔
نئی گاڑیوں میں نئے لوگ پھر رہے ہوتے ہیں لیکن حیرت یہ ہے کہ ہر سڑک، ہر اشارے پر اتنے ہی فقیر کھڑے ہوتے ہیں۔ہر نئی حکومت میں بہت سے اچھے برے اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن کئی دہائیوں سے یا تو ان فقیروں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا گیا ہے یا لوگوں نے ذہنی طور پر انہیں قبول کر لیا ہے یا پھر تیسری کوئی بات ہے جو مجھ جیسے کوتاہ بین لوگ نہیں دیکھ پاتے ۔میں روز ان کو دیکھتی ہوں، گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے، شیشے کھٹکھٹاتے، خدا کا خوف دلاتے، دعائیں دیتے، بد دعائیں اچھالتے، پھٹے حالوں، یہ کون لوگ ہوتے ہیں؟۔
ان کے گھر بار ہوتے ہیں؟ کیا ان کی بیان کردہ کہانیاں سچ ہوتی ہیں؟ کیا ان کے گھروں میں واقعی بوڑھی مائیں ایک وقت کی روٹی کے انتظار میں بیٹھی ہوتی ہیں؟ ۔
کیا ان ملنگوں کی بددعائوں سے حقیقت میں بھیک نہ دینے والوں کا ستیاناس ہو جاتا ہے؟کیونکہ بچپن سے ہی ہمارے ذہن میں بد دعائوں کا خوف ڈال دیا جاتا ہے کہ کسی کی بد دعا مت لو اور مظلوم کی بد دعاڈائریکٹ اورپر پہنچ جاتی ہے جبکہ اس بات کی تمیز نہیں کرائی جاتی کہ بد دعا کس کی لگتی ہے کس بات پر لگتی ہے بس فقط بد دعا سے ہی بچنا ہے ورنہ خدا خبر کیا ہو جائے گا حالانکہ دین اسلام میں ہمیں نیک عمل کرنے اور برائی سے منع کرنے کا کہا گیا ہے اس جسے سوالات روز ہمارے ذہن میں اودھم مچاتے ہیں اور روز ان کے جواب دماغ میں آتے ہیں لیکن ذہن ان تاویلات کو نہیں مانتا۔ بھیک مانگنا شاید ایک عادت ہے۔ میں نے دنیا کے ہر کونے میں بھکاری دیکھے۔ سب کے تاثرات قریبا ایک جیسے ہوتے ہیں۔بھیک مانگنا ایک آرٹ بھی ہے اور یہ ایک لت ہے، جسے لگ جائے، اس کا بچنا محال، بغیر ہاتھ پائوں ہلائے، اپنے رونے رو کر کسی سے مدد حاصل کرنا ایک عجیب فرحت افزا عمل ہے۔
سکول کے زمانے میں گداگری ایک لعنت کے موضوع پر اکثر تقریری مقابلے بھی منعقد ہوا کرتے تھے۔ اب تو ایسا ہے کہ جیسے ہم نے ان بھکاریوں کو بھی اپنے لینڈ سکیپ کا حصہ تسلیم کر لیا ہے۔ سارا زور کرپٹ سیاستدانوں کی کرپشن ختم کرنے پر ہے۔
کرپشن بھی ختم کیجیے لیکن ایک نظر ان پر بھی ڈالیے۔ لینڈ سکیپ کا حصہ بننے تک تو خیر ہے، کہیں یہ ہمارے شعور کا حصہ نہ بن جائیں۔ جسے ہم سخاوت سمجھتے ہیں وہ کہیں ہماری اجتماعی حماقت تو نہیں؟۔ (بشکریہ بی بی سی)