اداروں کو مضبوط کریں

حالیہ ضمنی انتخابات ایک بار پھر انتخابی بے قاعدگیوں اور بد انتظامیوں کا عملی مظاہرہ ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ٹوکرے بھر بھر کر ایک دوسرے پر اور الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔یہ انتخابات بھی گزر جائیں گے اور اگلے انتخابات کا شور پڑے گا مگر مسئلہ جوں کا توں رہے گا اور وہ مسئلہ ہے اداروں کی کمزوری کا۔انتخابات جمہوریت کی اساس ہوتے ہیں اور جمہوریت ریاست کی بنیاد ہے۔ الیکشن کمیشن وہ آئینی ادارہ ہے جس کے ذمے الیکشن کا انتظام ہے، اور کچھ نہ سہی پچھلی کئی دہائیوں سے باقاعدہ عام الیکشن بھی ہورہے ہیں۔مقامی حکومتوں کے انتخابات اس کے علاوہ ہیں۔ الیکشن کے انعقاد کا فیصلہ اسمبلیوں کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور اگر اسمبلی قبل از وقت ختم نہ ہو تو یہ مہینوں کیا برسوں پیشتر طے ہوتا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے۔ اس کے باوجود شاذ ہی کسی حکومت نے اس ادارے اور انتخابات کے انعقاد کو منظم کرنے کی کوشش کی ہے۔ہر بار مانگے تانگے کا عملہ آتا ہے، کیمپین کے دوران ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے، الیکشن کے دن تصادم ہوتے ہیں اور نتائج کے وقت ایک علیحدہ جھگڑا منتظر ہوتا ہے۔تینوں بڑی پارٹیوں پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کو پچھلے بارہ برسوں میں حکومت مل چکی ہے۔ کسی ایک نے بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ الیکشن کے عملی انتظام کو شفاف اور منظم بنایا جائے۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے اور وہ ہے اقتدار میں آنے کے بعد یادداشت کا متاثر ہونا۔ یہ یادداشت اس لیے متاثرہوتی ہے کہ اقتدار میں جب تمام ریاستی وسائل پاس ہوں تو بیچارہ الیکشن کمیشن جس کی اپوزیشن کے دور میں بہت اہمیت محسوس ہوتی ہے یاد ہی نہیں آتا۔الیکشن کے انعقاد کے علاوہ نتائج پر مقدمہ بازی ایک اور طویل سلسلہ ہوتا ہے۔ الیکشن ٹریبیونلز میں انتخابی عذرداریوں کے طے ہونے میں برسوں بیت جاتے ہیں اور اکثر تو نیا الیکشن آجاتا ہے اور درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ ٹریبیونل آخر کار انہی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں جو ان کے لیے موجود ہوں ۔ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے ان قوانین کو موثر اور آسان بنائے۔ دنیا کے اکثر ملکوں میں اس کے لیے پارلیمانی یا پیشہ ورانہ کمیشن بنائے جاتے جن کی سفارا شات پر قانون سازی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن میں صرف قانون ہی نہیں ان کا نفاذ بڑا مسئلہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس اپنا محدود عملہ ہے اور ہر دفعہ عدالتی اور انتظامہ عملے خصوصا تدریسی عملے کی مدد لی جاتی ہے ۔ باہر کے ان لوگوں کی دلچسپی اور صلاحیت محدود ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو اتنے وسائل دیے جائیں کہ وہ اپنا سٹاف مستقل یا عارضی بنیادوں پر بھرتی کر کے ان کی تربیت اورمانیٹرنگ کرے۔پھر ووٹر لسٹوں اور حلقہ بندیوں کا کام سارا سال جاری رہتا ہے۔ نادرا اور مردم شماری کا اس میں واضح کردار ہے۔ الیکشن والے روز اور انتخابی مہم میں زیادہ کام پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا ہے۔ انڈیا میں تمام مقامی انتظامیہ الیکشن کمیشن کے تابع چلائی جاتی ہیں۔وہاں تو نگران کابینہ کا بھی تصور نہیں اور الیکشن انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کرواتے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں تواتر سے الیکشن ہوتے ہیں اور سب نتائج تسلیم کرتے ہیں۔ہمارے ہاں نتائج تسلیم ہوتے ہیں اور نہ نظام بہتر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ن لیگ کے احسن اقبال نے حالیہ ضمنی الیکشن میں سول سروس کے افسروں کی کمزوری اور جانب داری پر دکھ کا اظہار کیا۔ دیکھنے والوں کو یاد ہے کہ ن لیگ کے دس سالہ دور حکومت میں کس طرح سول سرونٹس کی غیر جانبداری کو ختم کر کے ان کو وزیر اعلی اور وزرا کے ذاتی ملازمین کے طور پر استعمال کیا گیا۔دوسری طرف پی ٹی آئی کی ساری تحریک ہی الیکشن چوری ہونے کے الزام کے خلاف تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے الیکشن کا نظام بہتر کیا جا سکے، بلکہ مقامی حکومتوں کو ختم کر کے ابھی تک ان کے انتخابات میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ہمارے ملک کی مضبوطی جمہوریت کی مضبوطی سے منسلک ہے اور جمہوریت کے پنپنے کا ذریعہ انتخابات ہیں۔ انتخابات اس وقت ہی قابل بھروسہ ہوں گے جب ان کے منعقد کروانے والے ادارے غیر جانبدار، موثر اور مضبوط ہوں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ تمام پارٹیاں سر جوڑ کر بیٹھیں اور الیکشن کی سالمیت اور اعتماد کو یقینی بنائیں ورنہ جمہوری نظام کی خلیجیں کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی چلی جائیں گی۔