مولانا فضل الرحمان کے مبینہ فرنٹ مین کی درخواست ضمانت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے مبینہ فرنٹ مین موسیٰ خان کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی

ملزم کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ میرے موکل کو سیاسی انتقام کانشانہ بنایا جا رہا ہے،میرے موکل کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے، ریفرنس میں جس جائیداد کا ذکرہے وہ میرے موکل کی والدہ کی ہے،

پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ریفرنس میں جس جائیداد کا ذکرہے وہ پرائیویٹ پارٹی سے خریدی گئی، موسیٰ خان کے والدین کے پاس یہ جائیداد خریدنے کے وسائل نہیں تھے، جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں ریفرنس پر کارروائی کی کیا پوزیشن ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریفرنس میں 40 گواہان کو شامل کیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے6 ماہ میں ٹرائل کورٹ کوریفرنس پرسماعت مکمل کرنے کا حکم دے رکھاہے،

عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ کی ٹائم لائن گزرنے کے بعد درخواست گزارضمانت کی درخواست کرسکتا ہے،

واضح رہے کہ پشاورہائیکورٹ نے موسیٰ خان کی درخواست ضمانت خارج کردی تھی ،موسیٰ خان نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

نیب پشاور نے کارروائی کرتے ہوئے سابق ڈی ایف او موسی ٰخان بلوچ کو گرفتار کر لیا تھا،سابق ڈی ایف او مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ہیں،موسی ٰخان کے بڑے بیٹے مولانا فضل الرحمان کے پرسنل سیکریٹری ہیں،موسیٰ بلوچ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری جاری تھی،نیب نے انہیں سوال نامہ دیاتھا ۔جنکےجوابات جمع کرانے وہ بدھ کےروزپشاور جارہےتھے، راستہ میں متنی کے قریب انہیں گرفتار کرلیا گیا