احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ترجمان پاک فوج

ویب ڈیسک: آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار نے غیرملکی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا جبکہ احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ دار فوجیوں کےخلاف کارروائی ہو چکی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں، فی الوقت علم نہیں کہ احسان اللہ احسان کہاں ہیں۔ فرار کرانے والے فوجی اہل کاروں کے خلاف کارروائی سے میڈیا کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے، لاپتا افراد کے معاملے پر بننے والے کمیشن نے بہت پیش رفت کی ہے، کمیشن کے پاس 6 ہزار سے زائد کیس تھے، 4 ہزار حل کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے ہزارہ کان کنوں کے قتل کے حوالے سے بتایا کہ کیچ میں ہزارہ کان کنوں کے قتل پرچند افراد کو حراست میں لیا ہے، یہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں لیکن مزید تفصیل نہیں دے سکتا۔

وزیرستان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ وزیرستان میں کارروائیوں پرشدت پسندوں کا ردعمل آ رہا ہے، خواتین کی کار پر حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، وزیرستان میں کوئی منظم گروہ نہیں رہا۔اب شدت پسند تنظیموں میں اس علاقے میں بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں، کچھ عرصے سے ان علاقوں میں ایک بار پھر تشدد کے ایک دو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، سیکیورٹی اداروں نے بچے کچے شدت پسندوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں شروع کی ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا بھارت پاکستان مخالف شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے، اس کا علم افغان انٹیلی جنس کو بھی ہے، پاکستان میں شدت پسندوں کی مدد افغانستان سے کی جا رہی ہے، بھارت ان تنظیموں کو اسلحہ اور نئی ٹیکنالوجی سے بھی نواز رہا ہے، یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ یہ سب کارروائی افغان انٹیلی جنس کے علم میں ہو۔

ان کا کہنا تھا ایران سرحد پر باڑ لگانے کا معاملہ باہمی طور پر حل کر لیاگیا ہے، آرمی چیف نے دورہ ایران میں سرحدی باڑ پر ایران کے تحفظات دور کیے۔ سعودی عرب سے فوجی سطح پر اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کے ٹریننگ سینٹر سعودی عرب میں ہیں مگر ان کا یمن تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔