حقوق نسواں،رات گئی بات گئی

صنفی امتیاز کے خاتمے، حقوق نسواں اور خواتین کی اہمیت اُجاگر کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عورتوں کا عالمی دن عورت مارچ اور یوم تکریم نسواں اور حیا مارچ کے ناموں سے منایا گیا۔ اس موقع پر علاوہ ازیں بھی سرگرمیاں ہوئیں اس دن کا موضوع ''بہتری کیلئے توازن''تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی جدوجہد کو سلام پیش کرنا تھااس بارے دورائے نہیں کہ ہمارے معاشرے کا نصف حصہ عورتوں پر مشتمل ہے، شعور و آگاہی کو فروغ دیکر یہاں موجود سماجی ناہمواریوں کو مکمل ختم کیا جا سکتا ہے۔اتوار کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دن کومنانے کا مقصد خواتین کوبرابرحقوق اورمواقع دینے کے عزم کااعادہ کرنا ہے، ہماری خواتین ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہیں ، ہماری خواتین نے عالمی سطح پر بھی اپنی قابلیت کو منوایا ہے ، انہوں نے کہا کہ خواتین کو یکساں مواقع اورساز گارماحول فراہم کرکے ہی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔آٹھ مارچ کے دن ان سرگرمیوں کے اگلے ہی دن دیکھا جائے تو سوائے گزشتہ روز کے حوالے سے منفی باعث کے اور کوئی بھی ایسی مثبت سرگرمی نظر نہیں آئی جس سے یہ اُمید وابستہ کی جا سکے کہ غمخواران زنان پاکستان موجود ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ایک مارچ اور جوابی مارچ اور کچھ انتہا پسندانہ قسم کی سوچ وسرگرمیوں اور پوسٹرزونعروں کی حد تک ہی عالمی یوم نسواں کی سرگرمیاں تھیں اس کے اگلے ہی دن اس مارچ میں شریک خواتین کے درمیان کل کے روابط آج نہیں جس سرگرمی وجدوجہد کی پوری زندگی محض ایک دن بلکہ نصف یوم ہو اس سے عورتوں کو حقوق کیسے مل سکتے ہیں۔ وہ محفوظ کیسے ہو سکتے ہیں اور ہر دو قسم کے مارچ کرنے والوں سے یہ توقع کیسے وابستہ کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی میں نہ تھے بلکہ ان کا مقصد حقیقی معنوںمیں خواتین کے مسائل کا حل اور ان کی آواز بننا تھا۔اس موقع پر جن خواتین نے اعتدال کے دائرے میں رہ کر اپنے تجربات پیش کئے تھے دیکھا جائے تو بس یہی حقیقت تھی وہ معزز خواتین کل بھی کولہو کے بیل کی طرح دوہری ذمہ داریوں میں گھرے تھے آج بھی ان کے دن کا آغاز اسی جدوجہد سے ہوا۔ معاشرے میں خواتین کے حقوق اور ان کا انکار کوئی پوشیدہ امر نہیں، اس مسئلے کو اچھال کر الو سیدھا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں حقوق نسواں کے علمبردار اورٹھیکیدار بن کر مدمقابل ہونے کا مشاہدہ بھی سامنے ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کو برابری کا درجہ دینے اور ان کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ طور پر کوئی بھی تیار نہیں۔ جب تک یہ کیفیت رہے گی اور حقوق نسواں کو سیاسی اور اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر کے دنیا کی نظروں کے سامنے آنے یا پھر محض نعرہ لگا کر اور دعویٰ کر کے خواتین کے حقوق کو محفوظ سمجھنے کا وتیرہ جاری رہے گا خواتین کو حقوق کبھی نہیں ملیں گے۔خواتین کو جو حقوق اسلام اور ملک کے دستور میں موجود ہیں اس سے انکار نہیں لیکن عملی طور پر کیا صورتحال ہے وہ افسوسناک ہے۔خواتین کے حقوق کے علمبرداران اگر سوچیں اور اسے صرف تذکرے کا موضوع بنانے کی بجائے ایسے حقوق جس پر طرفین میں سے کسی کو اعتراج نہیں اگر باقی سطحی وجذباتی اور خواہ مخواہ کے ٹکرائو کی صورت سے احتراز کر کے ان متفقہ حقوق کے حصول کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں دین کے علمبرداروں، حکمرانوں اور معاشرے کے تمام طبقات خواتین کو حقوق دینے کیلئے عملی اقدامات پر زور دیں، اسمبلیوں میں مساجدومدارس کے باہر مظاہرے کریں، دھرنا دیں اور احتجاج کریں تبھی کوئی پیشرفت کی توقع ہے ورنہ رات گئی بات گئی۔
سوات میںبڑا فراڈ
ہر تھوڑے عرصے بعد کہیں نہ کہیں سے اس قسم کی خبر آتی ہے کہ کاروبار کی آڑ میں کوئی فراڈ یا سادہ لوح لوگوں کے کروڑوں روپے سمیٹ کر فرار ہوگیا۔ہمارے تئیں متاثرین میں بہت تھوڑے لوگ ہوں گے جو سادہ لوح کے زمرے میں آتے ہوں گے وگرنہ لٹنے والوں میں کائیاں افراد کی اکثریت ہوگی۔ پھر سوال یہ ہے کہ اگر وہ سادہ لوح افراد نہیں تھے تو لٹے کیسے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ لالچ بری بلا ہے، لالچ انسان کو اندھا کردیتی ہے، ورنہ آئے روز اس قسم کے واقعات سے آگاہی کے باوجود کوئی نامعلوم قسم کے افراد کے کاروبار میں کیسے سرمایہ کاری کر سکتا ہے یا پھر یہ سوچ اور سمجھے بغیر کہ جس کاروبار میں وہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔ آیااتنا منافع ممکن ہے غرض طرح طرح کے سوالات کے باوجود لوگوں کا فراڈ یا عناصر کا شکار ہونا بغیر محنت کے آسان کمائی ومنافع کے حصول کے کچھ نہیں۔ عوامی طرزعمل سے قطع نظر پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری کا جائزہ لیا جائے تو ان کا طرزعمل افسوسناک حد تک غیرذمہ دارانہ ہے، ممکن ہے یہ تاثر درست نہ ہو لیکن عام تاثر یہ ہے کہ علاقہ پولیس اورانتظامیہ کی ملی بھگت وچشم پوشی یا پھر سنگین غفلت ہی سے اس قسم کے عناصر کو موقع ملتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے آبائی علاقہ میں اس واقعے کی تحقیقات میں جملہ امور کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کی جائیں، اگرچہ سانپ نکلنے کے بعد یہ لکیر پیٹنے کے عمل کے مترادف ہی ہوگا اس کے باوجود فراڈ میں ملوث عناصر اور ان کے ایجنٹوں کی گرفتاری اور متاثرہ افراد کو رقوم کی واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ صوبے میں اس قسم کی سرگرمیوں اور فراڈ کا ذمہ دار علاقہ پولیس کو ٹھہرایا جائے تو اس قسم کے واقعات میں کمی نا ممکن نہیں۔
گیارہ روزسے بجلی کی بندش کا سخت نوٹس لیا جائے
پشاور کے علاقہ ولی آباد سب ڈویژن تاج آباد میںگیارہ دن قبل ٹرانسفارمر اور میٹرز جلنے کے باعث منقطع بجلی کی بحالی میں پیسکو حکام کی جانب سے لیت ولعل سے کام لینا افسوسناک امر ہے۔ اُن کے طرزعمل سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ پیسکو میں پوچھنے والا کوئی نہیں اور نہ ہی عوام کی مشکلات کا کسی کو احساس ہے۔اس قسم کے تاخیر درتاخیرامور کے باعث پیسکو کی کارکردگی کا پول کھل جانا فطری امر ہے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ نہ صرف جلد سے جلد علاقے کی بجلی بحال کی جائے گی بلکہ اس تاخیر کی بھی تحقیقات کر کے غفلت کے مرتکب عناصر کیخلاف کارروائی بھی کی جائیگی۔