نوے کی دہائی میں لوٹتی سیاست

ضمنی انتخابات کے بعد بننے والے ماحول نے ثابت کیا کہ ملکی سیاست ایک بار پھر پوری قوت اور رفتار کیساتھ نوے کی دہائی میں واپس پہنچ چکی ہے۔ نوے کی دہائی سیاستدانوں کی سرپھٹول اور رسہ کشی سے عبارت تھی، جہاں ''میں نہ مانوں'' کا اصول کارفرما تھا۔ اپنی جیت کو جیت اور دوسرے کی جیت کو دھاندلی کہنے کا رواج عام تھا اور بارہا دھاندلی کا الزام لگانے والوں کو پورا یقین ہوتا تھا کہ دھاندلی نہیں ہوئی اس کے باوجود وہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچا کر منظر کو دھندلا اور مشکوک بنانے میں مصروف رہتے تھے۔ یہ ''انا ولاغیری'' کا رویہ تھا۔ اسی روئیے اور خواہش کو بابا بلھے شاہ نے ''سنجیاںہوجان گلیاں وچ مرزا یار پھرے'' کا خوبصورت اور شاعرانہ جامہ پہنایا ہے۔ گلیاں خالی ہوجائیں اور مرزا اکیلا ہی ان خالی گلیوں میں مٹرگشت کرتا رہے۔ نوے کی دہائی میں حکومت کی خواہش ہوتی تھی کہ بس حکومت ہی باقی رہے اور اپوزیشن کی کوشش ہوتی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کا مقام اور مدار اُدھر تم اِدھر ہم کے انداز میں بدل جائے۔ ہر وہ الیکشن قبول اور گوارا تھا جس کے نتائج صرف ان کے حق میں نکلتے تھے۔ یہ کھلیں گے نہ کھیلنے کا دیں گے کا رویہ تھا جس میں ہر بے اصولی اصول تھی۔ اس دور کا اختتام جنرل مشرف کے دور کے ناخوشگوار آغاز پر ہوا تھا، جس طرح لڑنے بھڑنے، ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے، اپنی ہی کامیابی کو حق وسچ کی فتح اور دوسرے کی کامیابی کو دھاندلی اور عوام کا مینڈیٹ چرانے کا نتیجہ قرار دیا جاتا تھا۔ مار دھاڑ اور انانیت وتکبر سے بھرپور اس طویل دورانیے کے کھیل کے بعد جب ان کرداروں نے کھیل کا نیا رخ دینا شروع کیا وہ بھی صریح غلط تھا۔ میثاق جمہوریت کے نام پر لندن کے دریائے ٹیمز کنارے دو جماعتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، اس وقت دو بڑی جماعتوں کا خیال تھا کہ ملک میں صدیوں میں دو جماعتی نظام قائم ہوگیا ہے اور اب اس نظام کو توڑنے کی کوئی کوشش یا تو کامیاب ہوگی، اگر وقتی طور پر کامیاب بھی ہوئی تو بدلتے وقت کی ہوا کا ایک جھونکا اسے کچے گھروندے کی طرح بھک سے اُڑا دے گا۔ ق لیگ اور متحدہ مجلس عمل اگر اس وقت سسٹم کا حصہ تھے مگر عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں، کئی اور مذہبی جماعتیں خود نوے کی دہائی میں اقتدار اور اپوزیشن کے سفر وحضر میں ان کی اتحادی تھیں۔ دو بڑی جماعتوں نے ان اتحادیوں کو بھی میثاق جمہوریت میں شریک کرنا گوارا نہ کیا۔ ان دو جماعتوں نے اس بات کا پورا پورا انتظام کر رکھا تھا کہ اب دوجماعتی سسٹم کو مستقل طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا مگر وقت نے اس منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔ آج ماضی کا دو جماعتی نظام سنجیدہ چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج میں تمام اہم جماعتوں نے حصہ بقدرجثہ وصول کیا بلکہ حکومت ماضی کی روایت کے برعکس اپنا حصہ وصول کرنے میں کامیاب نہ ہوئی یا اس کی سنجیدہ کوشش نہیں گئی۔ حکومت کا تو یہ حال ہوا کہ بقول مریم نواز اپوزیشن نے نوشہرہ میں اس کے گھر میں گھس کر مارا۔ پیپلزپارٹی نے سندھ میں اپنی کارکردگی کی بجائے کامیاب انتظامی گرفت کی بدولت ضمنی انتخابات میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ لئے۔ ن لیگ نے پنجاب میں اسی انتظامی گرفت کا خواب دیکھا تھا اور وہ خواب تعبیر حاصل کر گیا اور آج بھی سرکاری اداروں میں ن لیگ کا سکہ چلتا ہے اور ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی بہت سے سرکاری اداروں اور چہروں کو یقین نہیں آیا کہ وزیراعظم کی کرسی پر عمران خان نام کا شخص براجمان ہے۔ نوازشریف نام کی شخصیت اب بہت دنوں سے لندن میں اور شہباز شریف جیل میں ہیں، مریم نواز اب ایوان وزیراعظم میں اپنی پالیسی اور پلاننگ سیل کی سربراہ کے نام پر ڈی فیکٹو وزیراعظم نہیں رہیں ۔اس کے باوجود ڈسکہ کی ایک نشست ہاتھ سے نکل جانے پر ایک طوفان برپا ہوگیا ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ نوشہرہ میں پی ٹی آئی کے گھر کی سیٹ بصد شکریہ وصول کر لی جاتی ہے۔ پنجاب میں گوجرانوالہ کی کامیابی کو بھی قبول ومنظور کیا جاتا ہے۔ سندھ کے نتائج پر بھی آمنا وصدقنا کہا جاتا ہے لے دیکر ڈسکہ کی سیٹ پر تہیۂ طوفاں کیا جاتا ہے۔ اس نشست پر خرابی ہوئی ہے تو اس کو دور کرنے کا طریقہ موجود ہے۔ مسلم لیگ ن پہلے بیس پولنگ سٹیشنز پر دھاندلی کا الزام عائد کرتی ہے۔ حکومت نے اسے قبول کرلیا، اس کیساتھ مریم نواز نے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کرانے کا مؤقف اپنا لیا۔ اس طرح ڈسکہ الیکشن ایک نئی کشمکش کی بنیاد بن گیا۔ مریم نواز کی تلخیٔ گفتار جس طرح آسمانوں کو چھو رہی ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں اتالیق حضرات نے یقین دلایا ہے کہ عمران خان نے صرف تلخیٔ گفتار سے سیاسی کامیابی حاصل کی اور اب وہ ان سے زیادہ سخت زبان اور جملے بازی کرکے کامیابی حاصل کریں گی۔ خود عمران خان بھی مریم نواز کو باہر نہ جانے دیکر اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ فقط توتکار اور تلخیٔ گفتار ہی کسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ کامیابی کیلئے بہت سے عوامل درکار ہوتے ہیں اگر کامیابی کا واحد زینہ تلخیٔ گفتار ہوتا تو نوے کی دہائی میں نوازشریف کے پہلو میں کھڑے ہو کر محترمہ بینظیر بھٹو پر غیرمحتاط لفظوں کے تیروں کی بارش کرنے والے شیخ رشید تاحیات وزیراعظم پاکستان ہوتے۔