کامیاب زندگی کا راز

اگر آپ صحت مند اور خوش ہیں تو آپ کا شمار دنیا کے خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے، بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ خوشی کا تعلق دولت یا مشہور ہونے سے ہے اسی لئے بہت سے لوگوں کی زندگی کا مقصد دولت کا حصول ہوتا ہے یا پھر وہ مشہور ہونا چاہتے ہیں۔ ایک دلچسپ تحقیق اس حوالے سے موجود ہے کہ لوگوں کو کونسی چیز صحت مند اور خوش رکھتی ہے؟ اس تحقیق کا آغاز1938 میں ہوا، یوں کہئے یہ نسلوں پر محیط ہے۔ یہ تحقیق80 برس تک ہوتی رہی اس دوران تین ڈائریکٹرز فوت ہوچکے ہیں اس کے چوتھے ڈائریکٹر رابرٹ والڈنگر ہیں۔ اس ریسرچ کا انداز بڑا غیرروایتی ہے اس میں کسی سوالنامے کا جواب دینے کیلئے نہیں کہا گیا بلکہ لوگوں کے گھروں میں جاکر ان سے انٹرویو لئے گئے، ان کے والدین کی طرززندگی اور تربیت کا بغور مشاہدہ کیا گیا اور سب کچھ آنکھوں دیکھا ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا آغاز کالج کے طلبہ اور گلی محلے میں کھیلنے والے غریب بچوں سے کیا گیا، ان کے گھروں میں جاکر ان کے ماحول کا مشاہدہ کیا گیا، ان کے میڈیکل ٹیسٹ کئے گئے اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں جن پر تحقیق کا آغاز ہوا تھا آج ان کی عمر90برس ہے۔ رابرٹ والڈنگر کہتے ہیں کہ وہ ابھی تک ان لوگوں سے رابطے میں ہیں اس سارے کام کی250ضخیم فائلیں تیار ہوئیں جن میں ہزاروں لوگوں کی زندگی کی کہانیاں موجود ہیں، ان کی زندگی میں آنے والے نشیب وفراز اور ان کی وجوہات موجود ہیں۔ جن بچوں پر تحقیق کا آغاز کیا گیا وہ بعد میں مختلف پیشوں سے منسلک ہوتے چلے گئے لیکن ان کی زندگی پر ریسرچ کا کام جاری رہا، ان لوگوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بھی ہیں، وکیل، ڈاکٹر اور انجینئر بھی۔ ان میں مجرم بھی ہیں اور ایسے افراد بھی ہیں جو منشیات کے عاد ی ہیں! قاتل، ڈاکو، چور، لٹیرے بھی ہیں اور ایک امریکی صدر بھی شامل ہے۔ یہ سب کچھ بڑی محنت اور باریک بینی سے کیا گیا اور بالآخر80برس کی شب وروز محنت کے بعد وہ یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ کونسی چیز لوگوں کو صحت مند اور خوش رکھتی ہے۔ اس سارے کام سے تین سبق حاصل ہوئے پہلا سبق یہ ہے کہ اچھی صحت طویل اور پرسکون زندگی کا راز لوگوں سے ملنے جلنے میں پوشیدہ ہے، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملتے جلتے رہنا چاہئے، مارک ٹوین نے کہا تھا کہ اچھی زندگی اچھے تعلقات سے بنتی ہے۔ لوگوں سے میل ملاپ رکھنا آدھی عقل ہے، اس سے آپ وہ سب کچھ سیکھ سکتے ہیں جو آپ کو کتابوں میں نہیں ملتا۔ یہ وہ علم اور تجربہ ہے جو عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینے سے ہی سیکھا جاسکتا ہے۔ تنہائی انسان کو مار دیتی ہے، تنہا زندگی گزارنے والے لوگ اداس رہتے ہیں، بیماریاں انہیں گھیرے رکھتی ہیں اور دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ یادداشت بہت زیادہ متاثر ہوجاتی ہے، دوسرا سبق یہ حاصل ہوا کہ زندگی میں دوستوں کی تعداد اہم نہیں ہے بلکہ آپ کے تعلقات کی نوعیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، ایسے لوگ جو پچاس برس کی عمر میں اچھے تعلقات بنا کر رکھتے تھے وہ 80برس کی عمر میں بھی صحت مند دیکھے گئے۔ چپقلش لڑائی جھگڑوں کے درمیان زندگی گزارنا ہماری صحت کیلئے تباہ کن ہے! پرسکون ذہن اور اچھی صحت کا تعلق اچھے تعلقات سے ہے نفرت، حسد، کینہ اور بغض یہ وہ جذبات ہیں جو بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں، ذہن ناکارہ ہوجاتا ہے، قوت یادداشت ختم ہوجاتی ہے۔ تیسرا سبق یہ حاصل ہوا کہ اچھے تعلقات صرف ہماری جسمانی صحت کی حفاظت نہیں کرتے بلکہ یہ ہماری دماغی صحت کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔ انسان مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، ڈپریشن یعنی ذہنی دباؤ سے بچا رہتا ہے، اس کی یادداشت ہمیشہ قوی رہتی ہے، اس کے برعکس کشیدہ تعلقات رکھنے والے بہت جلد اپنی یادداشت کھو دیتے ہیں، ان کا زیادہ تر وقت دوسروں کیخلاف منصوبے بناتے ہی گزرتا ہے، اس تمام عمل کے دوران وہ پریشان رہتے ہیں ان کا ذہنی دباؤ انہیں ایک لمحے کیلئے بھی چین لینے نہیں دیتا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دل کے امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، انہیں شوگر، بلڈپریشر جیسے موذی امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔ اچھے تعلقات میں بھی کبھی کبھار جھگڑے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن مثبت سوچ اور اچھے خیالات کی مدد سے بہت جلد ان کا حل نکال لیا جاتا ہے، اگر ذہن صاف ہو تو مسائل کا حل بہت جلد نکل آتا ہے اور اگر ذہن میں فتور ہو اچھی سوچ سے دوری ہو نفرت، کینہ، بغض اور جلاپے کی بیماری ہو تو پھر مسائل بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، ہمارے پیارے دین کی تعلیمات میں بھی ہمیں یہی کچھ سکھایا گیا ہے ''جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کیلئے بھی پسند کرو ''مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ پاؤں سے کسی کو دکھ یا کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے'' ہزاروں لوگوں کی زندگی پر کی گئی اس ریسرچ کے 724لوگ اب بھی زندہ ہیں، تحقیق کے آخر میں یہ معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے تعلقات خاندان والوں، پڑوسیوں اور دوستوں سے اچھے تھے وہ کامیاب، خوشحال اور پرسکون زندگی گزار کر سکون سے اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے۔