کیا فرماتے ہیں علمائے کرام بارے اس کے؟

ایک قاری نے اپنے برقی خط میں بڑی عجیب وغریب مشاہدات کا تذکرہ کیا ہے، میری کوشش ہوگی کہ میں ان کے برقی خط کے مندرجات تک ہی محدود رہوں کیونکہ اس حوالے سے میرا علم اور احتیاط دونوں اجتناب کے متقاضی ہیں۔ اگرچہ برقی خط میں اس کے ارسال کنندہ فخرالاسلام کے ذاتی حوالے سے کوئی معلومات نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کا دینی پس منظر ہونے کیساتھ ساتھ ایک گہری سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک تو اس امر پر سخت ردعمل دیا ہے کہ معاشرے میں لوگ خواہ مخواہ ایک خاص حلیہ اپنا کر خود کو فضیلت الشیخ قسم کا بنا کر پیش کرتے ہیں اور ایسے القابات استعمال اور اختیار کرتے ہیں جو بندی وعبودیت کے حوالے سے موزوں نہیں۔ انہوں نے مختلف حلیہ، لباس اور مختلف رنگوں کے جامہ باندھنے کی مثالیں دی ہیں بہرحال میں اس بارے مزید کچھ نہیں لکھ سکتی سوائے اس کے کہ ان چند سطور کو عام آدمی سمجھے یا پوری طرح نہ سمجھے، اہل علم کیلئے، عقلمند کیلئے اشارہ کافی ہے کے مصداق اس ضمن میں وہ ہماری بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی عالم دین اس حوالے سے رہنمائی پر مبنی تحریر ای میل کردے تو اس کی اشاعت کی سعی کی جائے گی۔ گزارش یہ ہے کہ تحریر اس طرح کی نہ ہو کہ اس سے کوئی طبقہ خاص طور پر متاثر ہو، محولہ سطور کی طرح عمومی ہو تاکہ کسی کی دل شکنی کے بغیر ہمارے اس قاری اور اس جیسے دیگر قارئین کے اذھان وقلوب میں اُٹھنے والے سوالات کا جواب دیا جاسکے اور ان کو مطمئن کیا جاسکے۔ایک اور بات انہوں نے برقی خط میں یہ لکھی ہے کہ ہمارے علمائے کرام ٹی وی پر اور مختلف فورمز پر غیر مستور اور نامحرم خواتین سے اُلجھ کر اسلام کی کیا خدمت کر رہے ہیں۔ اسلام میں مرد وعورت دونوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پردہ کی رعایت نہ رکھنے والی خواتین تو ماڈرن ہیں ان کو تو پرواہ نہیں کہ وہ کس سے اُلجھتی ہیں، کس سے بحث کرتی ہیں، وہ تو اس چیز کو برا نہیں سمجھتیں لیکن ہمارے علمائے کرام تو اس عمل کو شریعت سے متصادم بھی گردانتے ہیں اور پھر طرح طرح کی باتوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے بڑے نامی گرامی علمائے کرام کی بات کی ہے کہ انہوں نے تو کبھی اس طرح کے پروگراموں میں براہ راست شرکت نہیں کی تو پھر یہ بعض دینی جماعتوں کے نمائندے اس طرح کے پروگراموں سے اجتناب کیوں نہیں کرتے۔ سیاست ودین الگ اور جدا نہ ہونے کی میں بھی قائل ہوں لیکن یہ بھی دین کی خدمت نہیں کہ کسی نامحرم اور معترض عورت سے خواہ مخواہ اُلجھا جائے اور دنیا دیکھ رہی ہو۔ بات معقول لگتی ہے اس پر علمائے کرام کو سوچنا ضرور چاہئے۔ ای میل میں ایک اور مشاہدے کی بات یہ لکھی گئی ہے کہ ان دنوں ملک بھر میں مساجد میں عصری تعلیم کیساتھ دینی علوم سیکھنے والے اور مساجد سے متصل مدارس میں دینی علوم کی طالبات کی کلاسوں کے اختتام غالباً اگلے درجے میں ترقی پانے والوں اور ختم القرآن حفظ وناظرہ اور تجوید کا درس مکمل کرنے والوں کیلئے مساجد میں پورے اہتمام سے سٹیج لگا کر کرسیاں رکھ کر مساجد کے ہالوں میں آرائشی بتیاں اور ڈیکوریشن کرکے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی کا ولیمہ ہو۔ فخرالاسلام کا اعتراض یہ ہے کہ اسلام سادگی کی ترغیب دیتا ہے، قرون اولی وقرون وسطی میں اس طرح کی خصوصی تقریبات کا کوئی رواج نہ تھا، نیز مساجد میں کیٹرنگ والے سے کرسیاں لاکر اور لکڑی کے تختے رکھ کر سٹیج بنانا، مساجد کی شان کیخلاف ہے، ان کے خیال میں اس طرح کی رسوم کی ہرگز ضرورت نہیں، اگرچہ یہ اشاعت دین اور درس وعظ ونصیحت کی محفلیں ہوتی ہیں اور طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اسراف اور نمائش کا امکان اور شائبہ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے کسی مسلک اور طبقے کی طرف اشارے سے بھی کوئی بات نہیں کی، البتہ اس طرح کی محافل کو پوش علاقوں کے علمائے کرام کا شوق ضرور قرار دیا ہے جو اپنے ثروت مند مقتدیوں کے اخراجات پر یہ سب کچھ ثواب کے نام سے کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر علمائے کرام ہی سے گزارش کروں گی کہ وہ اس حوالے سے شرعی احکامات اور صورتحال واضح کریں کہ اس طرح کی سرگرمیاں کس زمرے میں آتی ہیں، اس کی کس حد تک گنجائش ہے اور اس طرح کی محافل سے انعقاد کی جو تصویر ہمارے قاری نے کھینچی ہے اور بیان کی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ ان عوامل وصورتحال سے قطع نظر میں دیکھتی ہوں کہ آج ہمارے ہاں شادی بیاہ اور یہاں تک کہ اموات و جنازہ سوگ کے ایام و اس دوران رسومات کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہیں جن کی روک تھام میں علمائے کرام کا وہ کردار نظر نہیں آتا جس کی ضرورت ہے۔ دین اسلام میں پیدائش سے لیکر لحد میں اُتارنے اور قبر بنانے تک کے تمام مراحل کے حوالے سے پوری رہنمائی موجود ہے مگر بدقسمتی سے ہم رسوم ورواج کے پجاری بن گئے ہیں اور اسلامی طریقوں سے احتراز کرتے کرتے بہت دور نکل گئے ہیں ہمیں سنت طریقے پر عمل اور خالص سنت طریقہ کی طرف لوٹنا ہوگا۔قارئین اس ای میل
rozanekhial@gmail.com
پر اپنی شکایات اور مسائل پر بھجوا سکتے ہیں۔