دشنام رزق ہے اور گالی عبادت

گردن تک شخصیت پرستی میں دھنسے سماج میں آپ جب بھی اپنی فہم کے مطابق بات کریں یا سوال اُٹھائیں گے، فتوؤں اور گالیوں کی چاندماری شروع ہوجائے گی۔ کچھ دانے بینے تو ایسے ماہر ہوتے ہیں وہ آپ کی تحریر کے اندر سے مرضی کے چند الفاظ منتخب کر کے لے اُڑتے ہیں اور پھر ہاہاکاری شروع۔ بت پرستوں کے غول دوڑتے آئیں گے، توہین ہوگئی، توہین ہوگئی، تقدس و مقدسات کے پیچھے چھپ کر جھوٹ بولیں گے اور عام آدمی سوچے گا پتہ نہیں کتنی بڑی توہین ہوگئی۔ اچھا یہ ہمارے آج کا المیہ نہیں پوری انسانی تاریخ اور خصوصاً مذاہب کی تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے پنڈت، ربی، پادری، کاہن ومولوی یہ سارے خود کو تقدس مآب سمجھتے ہیں اور ان کے پیروکاران اس وضعی تقدس کو اپنا حق اور ناقدوں کیخلاف پتھراو میں جت جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جستجو کی بجائے غلامی ہی کرنی ہے تو پھر یہ دعوی کیوں کہ فلاں مذہب نے انسان کو جتنی آزادی دی اس کی پہلے کی تاریخ اور مذاہب میں مثال ہی نہیں ملتی؟ سوال یہ بھی ہے کہ آخر ایسا کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ کاہن، پادری، ربی، پنڈت اور مولوی سے کوئی سوال کرنا یا شرف آدمیت سے منافی طرزعمل پر اعتراض کسی خدائی حکم سے انکار ہے؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ سوال زندگی کی علامت ہیں ورنہ تو سماج بھی قبرستان کہلائیں۔ ہم سانس لیتے ہیں، یہ فالج زدہ جسم کا سانس لینا نہیں بلکہ زندگی اور تحرک کی علامت ہے۔ زندگی اور تحرک یہ ہے کہ محض سوال نہ ہوں بلکہ ان سوالوں پر مکالمہ بھی ہو۔ مکالمہ دشنام طرازی کو نہیں کہتے، یہ ممکن ہی تب ہوتا ہے جب دوسرے کی رائے کا احترام ہو اور دلیل کیساتھ اپنی رائے دوسروں کے سامنے رکھی جائے۔ پدرم سلطان بود والی ہٹ دھرمی فہم کے ارتقا میں رکاوٹ ہے۔ کیا کیجئے جس سماج میں درسی کتب ذخیرہ علم اور شخصیت پرستی عبادت کا حصہ بن کر رہ جائے وہاں پورا کیا چوتھائی سچ بھی کوئی برداشت نہیں کرتا۔ ہمارے چار اور یہی ہو اور بک رہا ہے۔ مسائل ہیں کہ ہر گزرنے والے دن کیساتھ گمبھیر تر ہوتے جارہے ہیں۔تعصبات سچ اور کج روی محافظ تقدس سمجھی جا رہی ہے۔ ان حالات میں ذرا زمین زادوں کے حق کی بات کرکے دیکھئے تو جواب میں استحصالی نظام کے ساجھے دار اور ان کے عقیدت مندان چپر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو بک رہا ہے وہی خرید لیجئے۔ انکار کفر اور سوال شرک قرار پائیں گے۔کبھی کبھی یہ سوال بہت ستاتا ہے کہ اگر اسلام یا کوئی دوسرا مذہب تطہیر ذات و سماج کیلئے آئے تھے تو پھر تطہیر ہو کیوں نہیں پائی، انفرادی بھی اور اجتماعی بھی؟۔جب کبھی ایسا سوال پریشان کرنے لگے تو ہمدم دیرینہ فقیر راحموں کا مشورہ ہوتا ہے۔ مطالعہ کرو شاہ جی۔ ان بکھیڑوں سے فاصلے پر رہو۔ پر کیسے رہیں سماج میں رہیں گے تو اردگرد کی آوازیں، حالات اور ماحول سوچنے پر مجبور تو کریں گے۔ ان سارے ماہ وسال میں جو لکھنے پڑھنے میں بیت گئے تلخیاں بھی ہوئیں۔ مسائل سے پالا بھی پڑا، یہ سب اس لئے ہوا کہ سارا سماج بندگلی میں پھنسا ہوا ہے۔ نکاسی کے راستے پر جو بھی قبضہ کرتا ہے اس کی ساری توانائی اس بات پر صرف ہوتی ہے اس راستے کے کنارے تک دوسرا نہ پہنچ سکے۔ تہتربرسوں سے تو یہی ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ صرف ہمارے مالک کا فرمایا سچ ہے اس سے انکار یا اس پر سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ منکر ہیں۔ جب کبھی ایسے حالات اور مسائل سے دم گھٹنے لگتا ہے تو کتابوں میں پناہ لیتا ہوں، وقفہ عارضی ہوتا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ دیہاڑی دار مزدور پروہ مثال صادق آتی ہے گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گاکیا؟ مطلب یہ ہے کہ کتابوں سے باہر کی دنیا میں جینے کی ضروریات پوری کرنے کیلئے صبح دم گھروں سے نکلنا اور شام ڈھلے واپس آنا۔ من و سلوی کہاں اُترتا ہے، نذر نیاز کون دیتا ہے، چڑھاوے خانقاہوں پر چڑھتے ہیں، آدمی کو تو اپنے حصے کا رزق حاصل کرنے کیلئے مشقت کرنا پڑتی ہے۔ کبھی کبھی سندھی کے عہدساز شاعر سامی بہت یاد آتے ہیں۔ سامی کہتے ہیں، سوالی صرف پالن ہار کے سب کو برا لگتا ہے۔ جواں مرگ شاعر انجم لشاری نے کہا تھا، بھوک نگر کے سارے باسی اپنا سب کچھ خود کھا جاتے ہیں پھر بھی بھوکے ہی رہتے ہیں۔ کیا عجیب اتفاق ہے طالب علم کو جب کبھی انجم لشاری یاد آئے تو اموی عہد کے شاعر حاذق کی یادوں نے لازماً دستک دی۔ حاذق کہتے ہیں، جن کے دہنوں کو بھائیوں کے گوشت کی چاٹ لگ جائے وہ شکم سیری کی مرغوب غذا اسے ہی جانتے ہیں۔ شاہ لطیف بھٹائی نے کہا تھا سرمدی نغمے کا حق تب ادا ہوتا ہے جب آدمی اپنے لہو سے غسل لے۔ ہائے کیسے عہد میں جینے پر مجبور ہیں جہاں دشنام رزق ہے اور گالی عبادت۔