سنہرا ایوبی دور؟

ایک منظم پروپیگنڈہ مہم کے تحت جمہوریت کو بدنام اور رسوا کرنے کیلئے پاکستان میں آمروں کے ادوار کو ہمیشہ سنہری عہد کے طور پر پیش کیا گیا جس میں پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھی۔ اس پروپیگنڈا کے تحت یہ فراوانی اور معاشی ترقی سیاستدانوں کے اقتدار میں آنے کے بعد تمام ہوئیں۔
ان تمام آمری فضائل کا ذکر کرتے ہوئے کرائے کے تاریخ دان ان حقیقتوں سے عوام کی چشم پوشی کراتے رہے کہ انہی آمروں کے دور میں امیروں اور غریبوں کے درمیان تفاوت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا، ہمارے دریا اونے پونے داموں بیچ دیئے گئے، ملک دولخت ہوا، امریکی اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی اختیار کی گئی، معیشت کو قرضوں پر چلانے کی روایت شروع کی گئی، وطن عزیز میں کلاشنکوف اور ہیروئن کے کلچر کا فروغ ہوا، سیاچن گلیشیر ہم سے چھن گیا، پاکستان کی کئی دفاعی تنصیبات غیرممالک کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، دہشت گردی کو فروغ ملا، کشمیر کے مسئلے پر مبہم پالیسی اختیار کی گئی اور ایسے منصوبے تیار کئے گئے جن سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا گیا۔
غرض یہ آمریت کے سیاہ ادوار پاکستان کیلئے سیاسی، معاشی اور سماجی ناکامیوں کے سال تھے لیکن اس کی گمراہ کن تشہیر کرتے ہوئے انہیں ہماری تاریخ کے روشن ترین عہد کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ ان کے اختتام پر پاکستان سیاسی طور پر تقسیم، معاشی و ذہنی غربت کا شکار اور ایک کمزور دفاعی قوت تھا۔
ہماری جمہوریت پر سب سے پہلا شب خون مارنے والے آمر ایوب خان تھے، انہوں نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے کیلئے سازشیں 1953 سے ہی شروع کر دی تھیں۔ اس پہلی فوجی بغاوت نے بعد میں آنے والے آمروں جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کو آئینی حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کی شہ اور ہمت دی۔ایوبی آمریت کے پرستار ان کے عہد کو ترقی کا دور کہتے رہے جس میں پاکستان میں نمایاں معاشی ترقی ہوئی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ نئی نئی صنعتیں لگائی گئیں اور ملکی زراعت میں سبز انقلاب برپا ہوا۔ ملک دفاعی طور پر مضبوط ہوا جس کی وجہ سے1965 کی جنگ جیتی گئی لیکن ان خوش کن دعوؤں کی حقیقت قدرے مختلف ہے۔
یقینا50 کے مقابلے میں60 کی دہائی میں معاشی ترقی ہوئی مگر اس طرح کی ترقی ایک آمر کی حکومت کے بغیر بھی ہوسکتی تھی۔ یہ ترقی ایک بہت بڑی امریکی معاشی امداد کی وجہ سے ممکن ہوئی جب ہم نے سرد جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کا خمیازہ ہمیں اپنی ملکی حاکمیت کا سودا کرنے کی صورت میں دینا پڑا۔ یہ معاشی ترقی صرف ایک مخصوص گروہ کیلئے سودمند رہی اور اس ترقی کا فائدہ نہ عام عوام تک پہنچا اور نہ ہی اس کے ذریعے پاکستانی حکومت کے محصولات میں اضافہ ہوا۔ اس معاشی ترقی کا فائدہ کچھ خاندانوں کو ہوا اور نام نہاد معاشی ترقی سے پیدا شدہ دولت صرف 22خاندانوں تک محدود رہی۔ یہ خاندان ایوب خان کے قریب تھے اور اس میں بعد میں ان کا اپنا بیٹا گندھارا انڈسٹریز بنانے کے بعد شامل ہوگیا تھا۔ ایوبی معاشی پالیسیوں سے دولت کا ارتکاز کچھ ہاتھوں میں ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان22خاندانوں کے پاس پاکستان کی66 فیصد صنعتیں تھیں، یہی خاندان80فیصد بینکوں کے مالک تھے اور 97فیصد بیمہ کا کاروبار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں تھا۔ اس چھوٹے سے گروہ کے مفادات کی وجہ سے کچھ ایسی صنعتیں قائم کی گئیں جن میں مقابلے کی صلاحیت نہیں تھی اور وہ حکومت کی مدد کے بغیر مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں ایک پُراعتماد کاروباری ذہن فروغ نہیں پاسکا اور آج تک زیادہ تر صنعتیں حکومتی سبسڈی اور مدد کے بغیر نہیں چل پاتیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایوب خان کے دور میں معیشت بہت اچھے نتائج دکھا رہی تھی تو ٹیکسوں کی وصولی میں اتنی کمی کیوں تھی۔ ایک تحقیق کے مطابق ہمارے ٹیکسوں کی وصولی ہماری مجموعی اندرونی پیداوار سے دس فیصد سے بھی کم تھی۔ اس کے علاوہ یہ معاشی ترقی کچھ حصوں تک محدود رہی جس کی وجہ سے علاقائی ناہمواری اور ملک کے دو بازوؤں میں سیاسی اختلافات میں بھی اضافہ ہوا۔ ایوبی دور کا ایک اور کارنامہ پانی کی تقسیم کا بھارت کیساتھ ناقص معاہدہ سندھ طاس کرنا تھا جس کے تحت پنجاب کے تین اہم دریاؤں کا پانی بھارت کو دے دیا گیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے یہ دریا تقریباً خشک ہوگئے اور لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین بنجر ہو کر صحرا میں تبدیل ہوگئی۔ غرض ایوبی دور نام نہاد معاشی ترقی کے باوجود ملک کی سلامتی کیلئے ایک سیاہ دور ثابت ہوا جس میں ملک کی تقسیم کی بنیاد پڑی اور ایک آمر کے ذاتی مفادات کے دفاع کیلئے ہماری امریکی اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی کی ابتدا ہوئی۔ اس لئے ملکی سالمیت اور حمیت کیلئے اس سیاہ عہد حکومت کو کسی طرح بھی سنہری دور نہیں کہا جا سکتا۔