جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کیلئے وفاقی حکومت کو 30 روز میں کام شروع کرنیکا حکم

ویب ڈیسک (اسلام آباد)اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو 30 روز میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیدیا اور کہا کہ کمپلیکس کی تعمیر سے متعلق پیش رفت سے بھی ایک ماہ میں آگاہ کریں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ 60 سال کسی نےاسلام آباد کے سائلین کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کی،جج مشکل حالات میں بھی کام کرنے کو تیار ہیں لیکن ایگزیکٹو جگہ تو بتائیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالتیں بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے ججوں کا نہیں، خصوصی عدالتوں کے ملازمین کے انتظامی کنٹرول کامسئلہ کیسے حل ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ضلع کچہری میں سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ آتا ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سی ڈی اے نے ڈیڑھ ارب کی لاگت سے سائلین کمپلیکس پر کام شروع کر دیا ہے، اس پر چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کچہری سائلین کامسئلہ حل کرنے میں دلچسپی لی ہے لیکن مطلوبہ پیشرفت نہیں ہوئی، تاہم وزیر اعظم اور حکومت پر اعتماد ہے کہ سائلین کا مسئلہ حل کریں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ، قانون اور وزارت منصوبہ بندی کے سیکرٹریز پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

سیکرٹری قانون نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کا پی سی ون آج منظور ہو جائے گا، چیف جسٹس نے کہا کہ ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے لیکن بنیادی حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کے ملازمین کے انتظامی کنٹرول پر بھی آگاہ کریں، خصوصی عدالتوں کے جج آرڈر لکھواتے ہیں، ملازمین کہتے ہیں چائے پینے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بیوروکریٹک مسائل میں نہ الجھائیں، 30روز میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کا کام شروع ہونا چاہیے۔