اس وقت صوبے کی یونیورسٹیاں شدید مالی بحران کا شکار ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

ویب ڈیسک (پشاور): پشاور ہائیکورٹ میں سماعت، یونیورسٹیز مالی بحران سے متعلق نوٹس پر سماعت، وفاقی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، سیکرٹری فنانس، اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن عدالت میں پیش، چیف جسٹس قیصر رشید خان کے مطابق اس وقت صوبے کی یونیورسٹیاں شدید مالی بحران کا شکار ہے، مالی بحران کی وجہ سے یونیورسٹیز بندش کے قریب پہنچ گئی ہے، اساتذہ کو تنخواہیں تک نہیں مل رہی یہ کیا ہورہا ہے، حکومت کو ان مسائل پر قابو پانا چاہیئے ہم آنے والے نسلوں کو ان قدیمی درسگاہوں سے محروم نہیں کرسکتے، صوبے کی درسگاہیں تباہی کے دہانے پر کیوں پہنچی اس مسائل پر قابو پانے کے لئے کوئی میکنزم کیوں نہیں بنایا؟

سیکرٹری ایچ ای سی نے بتایا کہ حکومت ہمیں گرانٹ دیتی ہے ہمیں جو گرانٹ ملا ہے ان میں سے انجنیئرنگ یونیورسٹی کو 67 کروڑ روپے دیئے ہیں، یونیورسٹیز کو ان کے تناسب سے گرانٹ دیتے ہیں۔

وی سی پشاور یونیورسٹی نے مزید کہا ہمیں سب سے بڑا مسئلہ اس وقت پنشن کا ہے اگر سرکار پنشن اپنے خزانے سے دے تو ہم سرپلس میں چلے جائیں گے، کہ چارسالہ پروگرام شروع ہونے کے بعد اضافی سٹاف رکھا گیا اور بلڈنگ کی تعمیر کی گئی اس کی وجہ سے اخراجات بڑھے.

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ آپ لوگ ہمیں بتائے اس مسئلے کو کیسے حل کرے گے، جو ایکسٹرا الاونس لے رہا ہے اس پر نظرثانی کریں.

سیکرٹری ہائیرایجوکشن حالیہ سالوں میں ہائیرایجوکیشن میں غیر ضروری پھیلاو سے یہ چیزیں سامنے آرہی ہے، 18 وی ترمیم کے بعد ضروری تھا کہ پہلے سے قائم اداروں کو مضبوط کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا، نئی یونیورسٹیز بنی ایڈمنسٹریٹیو کرائسس پیدا ہوئے ایچ ای سی نے جو شرح رکھا ہے اس پر عمل نہیں ہوا۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے مزید کہا کہ تعلیم کا پھیلاو وقت کی ضرورت ہے نئی یونیورسٹیاں نہیں ہوتی تو بہت سے لوگ تعلیم سے رہ جاتے، نئے ضم اضلاع کے 70 لاکھ لوگ اب اس صوبے کا حصہ ہے اگر اعلی تعلیم کو نہیں پھیلائینگے تو ان مسئلوں کا کیا ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ ایسے معاملات میں مداخلت کریں لیکن جب معاملات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر مداخلت کرنا پڑتی ہے، یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسلے کا حل نکالیں، ہم چاہتے ہیں کہ یونیورسٹیز کے معاملات ٹھیک ہوجائے اس کے لئے سب مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنائے اور عدالت کو آگاہ کریں، عدالت نے سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی۔