وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کی زیرصدارت قبائلی اضلاع کے عمائدین کا مشاورتی جرگہ

پشاور : وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان کی زیرصدارت وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کے عمائدین کا مشاورتی جرگہ،جرگے میں ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لئے آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت۔

قبائلی مشران کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ، سنئیر صحافیوں اور صوبائی حکومت کے اعلی حکام کی شرکت۔ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے دس سالہ ترقیاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ۔

دس سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 1325 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ قبائلی اضلاع کے تمام منصوبے قبائلی عوام کی باہمی مشاورت سے شروع کئے جائیں گے. ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کے لیے علاقے کے منتخب نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ان منصوبوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دی گئی ہے۔

تفصیلی بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صحت انصاف کارڈ سکیم کے تحت قبائلی اضلاع کے 12 لاکھ افراد کو علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کی جا رہی ہیں ۔ 22 ہزار لیوی اہلکاروں کو باقاعدہ طور پر پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔
باقی ماندہ 8 ہزار لیوی اہلکاروں کو بہت جلد پولیس میں ضم کر دیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں میں کمی خامیوں کو دور کرنے کے لئے 3 ارب 86 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔ہسپتالوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی کے لئے 2 ارب 60 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں ۔صحت کے شعبے میں قبائلی اضلاع کے لئے 2 ہزار 333 نئی اسامیاں منظور کی گئی ہیں۔ تعلیم کے شعبے کے لئے 5 ہزار 500 نئی اسامیاں منظور کی گئی ہیں ۔ ان تمام نئی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جون 2020 تک مکمل کیا جائے گا۔ قبائلی اضلاع کے ہونہار طلباء کو سکالرشپ دینے کے لئے 75 کروڑ سے زائد کا فنڈ رکھا گیا ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں بجلی کی فراہمی کے مختلف منصوبوں کے لئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔