بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

نیلامی میں حصہ لینے والوں کا اپنا طریقہ واردات ہوتا ہے جس مال کی نیلامی کی زبان میں جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر مال ملاحظہ کرنے کے دوران مختلف پارٹیاں جانچ پرکھ کے بعد عموماً آپس میں ایکا کر کے پہلے ہی طے کرلیتے ہیں کہ نیلامی کہاں سے شروع کر کے کہاں اختتام کرنا ہے البتہ بعد میں باقی ساتھیوں کو کتنا کتنا ادا کر کے کس نے سامان رکھ لینا ہے اس حوالے سے جو اکٹھ بنتا ہے اسے یہ لوگ اپنی زبان میںRingکہتے ہیں بالکل اسی طرح چینی اور گندم کوبرآمد یادرآمد کرنے کے حوالے سے جو گروپ بنتے ہیں ان کیلئے کارٹل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے یہ کارٹل آپس میں مل کر چینی اور گندم کو کنٹرول کرتا ہے اور عوام کے ساتھ جو سلوک اس کارٹل کے اراکین کی جانب سے روا رکھا جاتا ہے اس سے پاکستان کے عوام بخوبی واقف ہیں کچھ ایسی ہی صورتحال گزشتہ روز پنجاب میں سینیٹرز کے انتخاب کے حوالے سے سامنے آئی ملکی سطح پر ایک دوسرے کو سیاسی میدان میں نیچا دکھانے والوں نے''نیلامی''کو اپنے مفادات کے تابع کرتے ہوئے نیلامی والا رنگ بنا کر اپنا اپنا حصہ بانٹ لیا ایک لحاظ سے اس پر اظہار اطمینان ہی کرنا چاہیئے کہ کروڑوں کی بولیوں کی راہ روک کر سیاسی جماعتوں نے اپنے مطلوبہ ارکان کو بغیر کسی امتحان ہی کے ایوان بالا میں پہنچا دیا ہے،تاہم اس کا کریڈٹ جائز طور پر پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو دیا جاتا ہے اگرچہ اس کی تہہ میں ان کے اپنے مقاصد بھی کارفرما ہیںجس پر آگے چل کر بات کریں گے۔تاہم اس''کارٹل سیاست''نے کئی ایسے ممبران پنجاب اسمبلی کو ششدر کر دیا ہے جو''منڈی کی سیاست''میں ہاتھ دھونے بلکہ اشنان کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے ان کے سارے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں اور ان کی کیفیت فراز کے اس شعر کی مانند ہے کہ
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
چوہدری پرویزالٰہی عرف سوبار وردی فیم نے پی ٹی آئی کے سینیٹ ممبران کو منتخب کروا کے بال عمران خان کے کورٹ بلکہ کرکٹ کی زبان میں وکٹ کی طرف پھینک کر انہیں اپناوعدہ یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ اب پنجاب میں''تبدیلی''کا موسم آگیا ہے،اگرچہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ وعدہ ہی کیاجو وفا ہو جائے اور جہاں قدم قدم پر''یوٹرن'' لینے کو باعث فخر سمجھا جاتا ہو وہاں صورتحال غالب کے اس شعر کی مانندہوتی ہے یعنی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
سو دیکھتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی نے سجی مارتے ہوئے جو کبھی ماردی ہے اس امتحان سے عمران خان کیسے سرخرو ہو کر نکلتے ہیںمگر چوہدری برادران بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے،ایک جانب انہوں نے صرف چار اراکین کے بل بوتے پراپنے امیدوار کامل علی آغا کو سینیٹ میں پہنچادیا ہے تو دوسری جانب اب بھی کھیل ان کے ہاتھ ہی میں ہے وہ اب بھی اپنی جادوگری سے یوسف رضا گیلانی کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے کی پوزشین میں ہیں جبکہ ان دونوں دو اہم کرداروں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی جو بازگشت سنائی دے رہی ہے اس میں بھی وہ اپنی جادوگری کے کرتب دکھا کربازی پلٹنے کی پوزیشن میں ہیں۔اور حالات جس تیزی سے رخ تبدیل کر رہے ہیں اگر تیر نشانے پر بیٹھا تو تخت کا تختہ ہونے میں چند لمحے ہی لگ سکتے ہیں۔خبریں ویسے بھی گرم ہیں اور بعض ممبران قومی اسمبلی' 'باغیانہ'' روش اختیار کر چکے ہیں،تبھی تو بلاوا آنے پر بھی وہ اقتدار کی غلام گردشوں میں نہیں دیکھے جارہے بلکہ انہوں نے بعض اطلاعات کے مطابق اپنے فون بھی بند کر کے ہر قسم کے رابطے منقطع کر دیئے ہیں سیاسی پنڈت ان حالات میں جو پیشگوئیاں کر رہے ہیں وہ ان پیشگوئیوں کے تقریباً الٹ ہیں جو قسمت کا حال بتانے والوں سے گزشتہ کچھ مدت سے دلوائی جارہی ہیں اور جن میں مقتدروں کیلئے''ستے خیراں''کی نوید دی جارہی ہے اس لئے تھوڑا سا انتظار کر لینے میں کیا حرج ہے کہ درست حالات کی حقیقی تصویر سامنے آنے میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں یعنی3مارچ کتنی دور ہے،بس تین ہی دن کی مسافت پر تو ہے یہ الگ بات ہے کہ ہار جیت کے اس کھیل میں''سازشی تھیوریز''کا بڑا چرچا ہے اور سازشیں کرنے والے غیر متوقع نتائج کے بعد یہ بھی توکہہ سکتے ہیں کہ
روز وشب یوں نہ اذیت میں گزارے ہوتے
چین آجاتا اگر کھیل کے ہارے ہوتے