کوئی سیکھنا نہیں چاہتا

راولپنڈی کے سٹیلائٹ ٹائون کی ایک گلی میں ایک حکومتی ادارہ قائم ہے جو ذہنی طور پر کمتر صلاحیتوں کے لوگوں کے لئے ہے ۔اس ادارے کا نامInstitute for slow learnersہے۔اس ادارے کا نام پڑھنے کے اجد کتنی ہی باتیں ذہین میں بار بار آتی رہیں۔اپنے ملک کی حالت زار کو دیکھوں اور اس کی اصل بنیاد پر نظر ڈالوں تو احساس ہوتا ہے کہ ایسے ادارے تو اس ملک کی ہر گلی میں ہونے چاہئیں۔حکومت کی نظر محض بیوروکریسی کی غلطیوں پر رہتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ادارے کی بیوروکریسی کو بہت ضرورت ہے۔وہ لوگ جو پالیسیاں بناتے ہیں ملک کے لئے کل کی حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ دار ہیں جو نظام چلانے والے ہیں اور ملکی معاملات کو حدود وقیود میںمناسب طور سے رکھنے والے ہیں ان لوگوں کی باتیں سُن کر رویے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ لوگ بہت ہی کم سیکھتے ہیں۔ان کی سیکھنے ،سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیتوں میں کج روی اور سست روی ہے۔ایسے اداروں میں جہاں بیوروکریسی نشوونما پاتی ہے ساتھ ہی Institute for slow learners کی برانچ بھی ہونی چاہیئے جہاں جدیدطریقوں سے ان کے ذہن،سوچ کے طریقوں کی پرداخت اور نشوونما ہوسکے۔بات صرف بیوروکریسی کی حد تک موقوف نہیں۔ بیوروکریسی کا بگاڑ کبھی بھی سیاست دانوں سے الگ کسی خلا میں پنپ نہیں سکتا۔جب تک قانون سازی کرنے والے کوتاہ اندیشی کا شکار نہ ہوں پالیسی بنانے والے اپنے کوتاہ قامت رویوں اور سوچ کے مظاہرے نہیں کرسکتے۔سیاست دانوں کی ذاتی ترجیحات میں ضروری نہیں کہ ہر بار ہی بگاڑ ہوکئی بار سمت درست بھی ہوتو رویوں کا بگاڑ اور سیکھ نہ سکنے کی پریشانی راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ہماری موجودہ حکومت کو ہی لیجئے اکثر وزرائے باتدبیر کسی بھی قسم کی بد عنوانی کے لئے تیار نہیں۔کچھ عمران خان کا خوف ہے اور کچھ ان کی اپنی طبیعت کی گرانی وہ کچھ سیکھ نہیں سکتے۔حکومت کیسے چلائی جاتی ہے کن کن اصول وضوابط کی قید میں رہ کر حکومت کو اپنا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔کس قسم کی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ بیوروکریسی میں سے ہی کیسی ٹیم منتخب کی جاتی ہے۔لوگوں کے رویوںکا حساب کتاب کس طور لگانا ہوتا ہے۔قانون سازی اور فیصلے کرنے سے پہلے ان فیصلوں کے نتائج کا اندازہ لگانا کس قدر اہم ہے۔اس سب کا سیاست دانوں کو اندازہ ہونا چاہیئے لیکن ہوتا نہیں۔وہ اپنی ہی دُھن میں مگن رہتے ہیں۔وہ بات جو اچانک ان کے ننھے دماغ میں سماجاتی ہے وہی عقل کل کا مظہر بن جاتی ہے۔کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کسی وزیر یا سیاست دان کو کیسے سمجھایا جائے کہ حکومت میں کام کرنے کے ضوابط ہوتے ہیں اور ان سے باہر نکل کر کام کرنا غلط ہوتا ہے۔ضابطہ کسی خاص قسم کی تبدیلی کی راہ میں مانع ہوسکتا ہے لیکن اس ضابطے کو بھی درست کیا جا سکتا ہے اور اس کا طریقہ کار بھی موجودہے۔مگر یہ بات سمجھنا سیاست دانوں کے بس سے باہر کے شئے ہے۔اس ملک میں کمال کی بات یہ ہے کہ انتہائی درست بات ہوتے ہوئے درست سمت اور پالیسی ہوتے ہوئے بھی ایک انتہائی مفید کام کو یوں کیا جاتا ہے کہ اس میں کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا اُلٹا نقصان ہونے لگتا ہے اب اس حکومت کی ہی ایک مثال دیکھ لیجئے۔ماحولیاتی آلودگی اور پاکستان میں جنگلات کی کمی کا سدباب اس حکومت کی ترجیحات میں ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ صرف ایک ہی کام اتنا بڑا اور اچھا ہے کہ ان کی بے شمار خطائیں اس پر معاف کی جا سکتی ہیں ۔حکومت کی پالیسی ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے۔ بیوروکریسی کو اس پالیسی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ان کی ترجیحات اور مفادات بھی ہیں۔کچھ لا پرواہی بھی ہے ملک میں ہر قسم کی مہارت ہوتے ہوئے تحقیقاتی ادارے موجود ہوتے ہوئے بھی اس پالیسی کا کبھی تعلق بیوروکریسی ان اداروں سے نہیں جوڑتی۔ جہاں موجود لوگ مختلف علاقوں کی زمین مٹی کی خصوصیات علاقے کے موسم اور ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ بتا سکیں کہ اس علاقے میں کس کس قسم کے پودے لگانے چاہئیں۔ایسی ایک نہیں کئی مثالیں ہیں قدم قدم پر ایسی مثالیں موجود ہیں اور وجہ وہی کہ بیوروکریسی کی سمت درست نہیں اور سیاست دانوں کی تربیت نہیں۔اور کوئی بھی اپنے آپ کو درست کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اس ملک کی بھلائی ان کا عزم نہیں ۔یہ لوگ ذاتی مفادات کے دائروں میں قید ہیں نہ تو کسی بھی ہدف تک پہنچنے کے لئے کوئی تربیت حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی اس ملک کی بہتری ان کا مطمع نظر ہے۔ایسے سیاست دان جن کا مقصد ذاتی ترجیحات کے ساتھ ساتھ گزشتہ سیاست دانوں اور حکومتوں کی برائی ہو اور ایسی بیوروکریسی جس کی گھٹی میں کام لٹکانا ہو نہ کہ اسے کسی منطقی انجام تک پہنچانا ان سے کسی بھی قسم کی امید رکھنا ممکن ہی نہیں۔اس ادارے کے نام میں چھپا طنز انہی لوگوں کے لئے ہے جو نہ سیکھتے ہیں اور نہ ہی اسکے لئے تیار ہیں اسی لئے پاکستان جیسا وسائل سے لبریز ملک غریب ہے کیونکہ کوئی سیکھنا ہی نہیں چاہتا۔