تشدد اور اس کی قانونی حیثیت

اس ماہ کے آغاز میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خیبر پختونخوا کے ایک پولیس اہلکار کو چوری کے الزام میں پکڑی گئیں تین خواتین پر بہیمانہ تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں موجود خواتین کا تعلق سوات سے تھا اور ان پر الزام تھا کہ وہ قریب کے گاوں دیہات میں جا کر لوگوں کے گھروں سے ان کے پیسے اور قیمتی اشیاء چرایا کرتی ہیں۔ ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں ڈالنے کے دوران ایک اہلکار انہیں تھپڑوں اور ٹھوکروں سے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے جبکہ دوسرا انہیں غلیظ قسم کی گالیاں دے رہا ہے۔ویڈیو میں ایک تیسرا اہلکار تشدد کرنے والوں کو ہاتھ نہ اٹھانے کی تاکید کرتا سنائی دے رہا ہے۔
یہ واقعہ اس رویے کا عکاس ہے جس کی بنیاد پر ہم ملزم کوعدالت سے پہلے ہی مجرم قرار دے کر، اسے خود سے سزا دینے اور پارسائی کی مسند پر براجمان ہو کر قانون اپنے ہاتھ میں لے لینے کو عادی ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں مرد پولیس اہلکاروںکو خاتون پولیس اہلکار کی غیر موجودگی میں کسی عورت کو گرفتار کرنے کی اجازت نہیں اور انہیں جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کی تو قطعی گنجائش نہیں۔ البتہ اس کے باوجود ہمارے ہاں آئے روز خواتین کو پولیس کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کنیزان بی بی بھی انہی خواتین میں سے ایک ہے جن کی سزائے موت کو تیس سال بعد حال ہی میں صدر پاکستان کی طرف سے ختم کیا گیا۔ کنیزان بی بی پر کم عمری میں قتل کا الزام تھا اور انہیں یہ قتل قبول کرنے کے لیے اس قدر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ آج تک اپنی روح تک لگے گہرے زخموں کے قرب سے باہر نہیں نکل سکیں۔ سوات سے آنے والی ویڈیو کے آن لائن نشر ہونے کے بعد ہر طرف سے مذمتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹویٹر پر ایک خاتون نے رد عمل دیتے ہوئے یہ سوال کیا کہ کیا کبھی کسی نے کوئی دولتمند یا باوسائل عورت یوں تشدد کا نشانہ بنتے دیکھی؟ کہ ایسے طاقت کے بہیمانہ استعمال کا شکار غریب اور لاچار ہی بنتے آئے ہیں۔ عوامی رد عمل کے بعد سیدو شریف پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او سمیت ان پانچ اہلکاروں کو معطل کرکے گرفتار کر لیا گیا۔ پر اگر ہم ایسے ماضی کے واقعات پر نظر دوڑائیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان اہلکاروں کے خلاف اس مرتبہ بھی کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہو گی۔ عوامی رد عمل کے ٹھنڈے ہوتے ہی یہ اہلکار اپنی اپنی ڈیوٹی پر واپس آجائیں گے اور سب کچھ دوبارہ معمول پر آجائے گا۔ پولیس اہلکاروںکو ایسی زیادتیوں کی سزا نہ ملنے کے پیچھے بڑی وجہ یہاں سرکاری اہلکار وںکے ہاتھوں ہونے والے تشدد پر مؤثر قانونی سزائوں کا اطلاق نہ ہونا ہے۔ ان سزاوں کو وضح نہ کر پانے کے پیچھے بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہا ں قانونی طور پر تشدد کی تعریف موجود ہے اور نہ ہی اس کے حوالے سے کوئی مختص سزا تجویز کی گئی ہے۔ سادہ لفظوں میں اگر کہا جائے تو اس وقت ہمیں تشدد کو جرم قرار دینے اور اس کی قانونی تعریف وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کے بعد اس کی سزا مختص کی جا سکے اور سرکاری کارندوں کو اختیارات سے تجاوز یا زیادتی کی صورت میں اسی قانون کے تحت سزا وار ٹھہرایا جا سکے۔ ہمارے ہاں صرف قانون کا موجود ہونا اس پر عملدرامد ہونے کی ضمانت نہیں ہوتامگر یہ قانون کم از کم ایک ظلم کی روایت کو ختم کرنے کے لیے پہلا قدم ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ پچھلے کچھ برس میں تشدد کو مجرمانہ فعل قرار دینے کے حوالے سے پانچ مجوزہ قانونی مسودے اسمبلیوں میں آچکے ہیںمگر یا تو وہ اب تک زیر التوا ہیں یا پھر مسترد کیے جا چکے۔ ان میں سب سے قابل ذکر وہ بل ہے جو سینٹر شیری رحمان کی جانب سے گزشتہ سال ایوان بالا میں پیش کیا گیا تھا۔ مگر ایک سال گزر جانے کے بعد بھی اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ یہ بل اس لیے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں زیر تحویل ہوتے جنسی تشدد کو بھی مجرمانہ فعل گردانا گیا ہے اور اس بات میں کوئی امتیاز نہیں برتا گیا کہ بدفعلی کرنے والا اور متاثرہ شخص مرد ہے یا عورت۔ یوں جنسی تشدد کی وہ تمام صورتیں قابل تعذیر جرم بن جائیں گی جن کا شمار روایتی معنوں کے ریپ میں نہیں ہوتا۔ اس سے شاید اس ترش لہجے میں بھی کچھ دانشمندی اور تحمل آجائے جو ہمارے ہاںسکیورٹی اہلکار ان جنسی جرائم کے حوالے اپناتے ہیں۔ یہاں متاثرہ شخص کو ہی مورد الزام ٹھہرانا اور اس سے گھٹیا قسم کے سوال و جواب کر کے،اس کی تضحیک کرنا معمول ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کے کنونشن برخلاف تشدد پر دستخط کیے ہوئے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور تب سے کئی پارلیمانی اراکین تشدد کو جرم قرار دینے کے حوالے سے اپنی آواز اٹھا چکے ہیں۔ اس کام کے لیے ملک کی اعلیٰ ترین مسند پر براجمان وزیر اعظم تک کی جانب سے سیاسی ارادے کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ پچھلے سال وزیر اعظم ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ بیان دے چکے ہیں کہ تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میںہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ وہ قانون جس پر سب متفق بھی ہیں، پارلیمان میں ہر مرتبہ پاس ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے۔ ایسی تشدد سے بھرپور مزید کتنی وڈیوز کے بعد ہم ان واقعات کو روکنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ان سوالوں کا جواب اس بات میںپنہاں ہے کہ ہم بطور معاشرہ کس قدت تہذیب یافتہ اور جمہوری اقدار کا پالنہار بننے کے لیے پر عزم ہیں۔
(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)