شجرکاری مہم کی کامیابی کے تقاضے

خیبرپختونخوا میں موسم بہار کی شجر کاری مہم برائے سال2021ء کاباضابطہ آغازوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے زیتون کا پودا لگا کر کیا ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شجرکاری کے حوالے سے قومی سطح پر مقررہ اہداف کا حصول ممکن ہو سکے۔ صوبے میں زیتون کی شجرکاری پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، پانچ سالہ منصوبے کے تحت صوبے میں30ہزار ایکٹر رقبے پر زیتون کے40لاکھ پودے لگانے جبکہ20لاکھ قلم کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ زیتون کی قلم کاری کے منصوبے کی تکمیل سے 10سال میں27ارب روپے کی آمدن متوقع ہے ۔ صوبے بھر بشمول ضم اضلاع میں قلم کاری کیلئے زیتون کے73ملین پودے دستیاب ہیں۔ خیبرپختونخوا میں معمول کی شجرکاری کے ساتھ زیتون کے پودے لگانے اور خاص طور پر جنگلی زیتون کے پودوں پر قلم کاری کر کے ان کو زیتون کی پیداوار کے حامل پودوں میں تبدیل کرنے کا عمل خوش آئند اور منافع بخش منصوبہ ہے۔خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں چترال اور کرم سمیت دوسرے اضلاع میں جنگلی زیتون کے پودوں کی صورت میں سازگار وموزوں ماحول موجود ہے زیتون کے پودے لگانے سے لیکر ان کے پھلدار درختوں میں تبدیل ہونے میں سرمایہ اور وقت درکار ہے لیکن یہ زیادہ مشکل نہیں پنجاب میں ایک منصوبے کے تحت بڑے علاقے میںزیتون کے پودے لگائے گئے اب ان کی پیداوار اور بھی شروع ہوچکی ہے اسی طرح بلوچستان بھی زیتون کی پیوند کاری کیلئے سازگار ماحول کا حامل صوبہ ہے خیبرپختونخوا میں جنگلی زیتون کے درختوں اور پودوں کو قلمکاری کے ذریعے تبدیل کرنے کے عمل کی سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر سرپرستی کی ضرورت ہے معمول کی شجرکاری اورپودوں کی حفاظت وآبیاری کے فریضے پر سنجیدگی سے توجہ کو فراموش نہ کیا جائے اس امر کا خیال رکھا جائے کہ ہر سال شجرکاری کے دونوں موسم میں پودے تو لگائے جاتے ہیں مگر وہ پودے مناسب نگہداشت اور خیال نہ رکھے جانے پر سوکھ جاتے ہیں بعض کو جانور کھا جاتے ہیں شجرکاری کے بعد اس کے تحفظ کے مناسب اقدامات ہوں تبھی مقصد کا حصول ممکن ہوگا۔شہریوں کو بڑھ چڑھ کر شجرکاری مہم میں حصہ لیکر اپنی قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔شہریوں کو اس کی خاص ترغیب اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو پودے لگانے اور ان کی حفاظت کا شوق اجا گر کرنے کیلئے مہم چلانے کی ضرورت ہے پودوں کی نگہداشت وتحفظ اپنے بچوں کی طرح کر کے ہی کامیابی کا حصول ممکن ہوگا۔
نجی ہسپتالوں میں رش پر قابو پانے کی منصوبہ بندی
خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں رش پر قابو پانے کیلئے لائن منیجمنٹ کے نئے انتظامات اور عوام کی شکایات کیلئے سیل کے قیام کا فیصلہ خوش آئند ہے۔شکایات سیل کا قیام محض تکلف ہی ثابت ہوا ہے لیکن اگر ہسپتال انتظامیہ سنجیدگی کے ساتھ اسے فعال رکھے اورمریضوں کی مشکلات وروداد سن کر ان کو دور کرنے کی سعی ہو مریضوں اور ان کے لواحقین کی مشکلات کی وجوہات کا جائزہ لیکر ان کو دور کرنے کی کوشش ہو تو اس سے ہسپتال کے حوالے سے مریضوں کے تاثرات بھی بہتر ہوں گے اور مریضوں کی مشکلات میں بھی کمی آئے گی بڑے ہسپتالوں میں رش اور بد نظمی وہ مسئلہ ہے جس کے باعث لوگ سرکاری ہسپتالوں میںجانے سے کتراتے ہیں مریضوں کو پہلے آئو پہلے پائو کی بنیاد پر نمبر دے کر ان کو ایک بہتر انتظار گاہ میں بٹھا کر یکے بعد دیگرے بلانے کا عمل شروع کیا جائے اور ہسپتال کی راہداریوں میں مریضوں کو تکلیف کی حالت میں زمین پر بیٹھے انتظار کی کیفیت سے نجات دلائی جائے تو یہ مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی بھی بڑی خدمت ہوگی ساتھ ہی ساتھ ہسپتال کے عملے کو مریضوں اور ان کے پریشان حال لواحقین سے اچھے برتائو اور ہمدردی سے پیش آنے کی تربیت دی جائے تو اور بہتر ہوگا یہ کسی ایک بڑے ہسپتال کے مسائل نہیں ہر ہسپتال کا مسئلہ ہے اس لئے اس پر جامع مشاورت اور طریقہ کار وضع کر کے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے جتنا جلد ایسا ہو سکے اتنا بہتر ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ محکمہ صحت مجموعی طور پر ان مسائل کا جائزہ لینے کی ذمہ داری پوری کرے گا اور ساری صورتحال سے آگاہی کے بعد اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی اور ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جس کے نتیجے میں مریضوں کی شکایات کا ازالہ ہوگا۔