پاک بھارت کشیدگی میں کمی

مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے پہلے بیان میں امریکا کی جوبائیڈن انتظامیہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر براہ راست بات کی جائے، ساتھ ہی دونوں پڑوسی ممالک کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی)پر کشیدگی کم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے سینئر فوجی کمانڈرز نے ایل او سی اور دیگر سیکٹرز پر تمام سمجھوتوں، معاہدوں اور جنگ بندی کی پابندی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دو سال قبل انہی دنوں کشیدگی اس درجہ کو پہنچ چکی تھی کہ فضائی جھڑپ میں بھارت کا طیارہ مار گرایا گیا اور سرحدی خلاف ورزی تو کافی عرصہ روز کا معمول بنارہا دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں سے پاک بھارت جنگ کا خطرہ دکھائی دے رہا تھا بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات سے خطے میں کشیدگی کی جو صورتحال تھی اس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی تھی لیکن دو سال بعد اب دونوں ملکوں کے درمیان لائین آف کنٹرول پر کشیدگی میں کمی لانے اور جنگ بندی کی پابندی پر اتفاق حوصلہ افزاء امر ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ جب تک موجود ہے اس وقت تک دونوں ممالک کے درمیان ہمسایوں جیسے تعلقات کی توقع نہیں کی جاسکتی کشیدگی اور حالت جنگ کے حالات نہ ہوں تو یہ بھی غنیمت ہوگی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو پوری طرح معمول پر لانے کیلئے تو مقبوضہ کشمیر سیاچن اور جونا گڑھ سمیت کئی دیرینہ اور پیچیدہ معاملات پر مذاکرات،معاملت اور معاہدوں کی ضرورت ہے جو شاید ہی ممکن ہوں اس سے قطع نظر دوسرا طریقہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کے باوجود کشیدگی کے ماحول سے بچنے کا ہے اور جنگ بندی وکنٹرول لائن کی حرمت پر اتفاق ہے جو عملی اور کارگر اقدام ہے عالمی پالیسیوں اور عالمی طاقتوں کا کردار وعمل بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی نہ کسی طرح اثرانداز ہوتا ہے پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی ٹرمپ کے پورے دور صدارت میں مثبت نہ رہی جس کے اثرات بھارت کی طرف سے مسلسل کشیدگی بڑھانے کے اقدامات کی صورت میں سامنے آتے رہے۔اب جو بائیڈن انتظامیہ کے آنے کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہوئے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے پہلے ہی بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے دونوں ممالک پر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے براہ راست مذاکرات پر زور دیا تنازعہ کشمیر کے حوالے سے دونوں ممالک کسی نہ کسی حد تک اپنی پالیسی میں نرمی برتنے لگے ہیں دونوں ممالک اب کم از کم مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کشیدگی بڑھانے کے حامی نہیں رہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپناتسلط بڑھادیا ہے اس سے آگے بڑھنا بھارت کیلئے ممکن نہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس مسئلے کو غیر اعلانیہ طے سمجھا جائے مقبوضہ کشمیر بہرحال متنازعہ علاقہ ہے دونوں ممالک کے درمیان اس علاقائی تنازعہ پر کشیدگی کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا مقبوضہ کشمیر پر مذاکرات گوکہ مشکل پیچیدہ اور نا ممکن کو ممکن بنانے کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ اس براہ راست مذاکرات ہی بہترحل کی طرف پش رفت ہوسکتے ہیں پاکستان اور بھارت کو حالیہ اتفاق رائے پر قائم رہنے اور اسے مستحکم بناتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھنی چاہئے تاکہ طرفین کشیدگی پر مبنی حالات سے نمٹنے کی بجائے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو اپنے عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی کیلئے بروئے کار لا سکیں۔
یکے بعد دیگرے سیاحتی پروگرام
خیبرپختونخوا میں موسم گرما میں جہاں دور دراز کے مقامات سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں تو موسم سرما میں سرمائی سیاحت اور کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے بھی صوبہ کے مختلف مقامات پر سیاحت کے مواقع موجود ہیں سوات میں ملم جبہ کے بعد اب وادی گبیں جبہ سنو سپورٹس اور ثقافتی مظاہرہ کا مرکز بن رہا ہے چترال میں مداکلشٹ فیسٹول کا حال ہی میں اختتام ہوا ہے اس کے بعد صوبہ بھر میں جشن بہاراں کے سیاحتی پروگرام شروع ہوں گے۔اس لحاظ سے صوبہ میں سیاحت کے تین خصوصی مواقع یا موسم میں ایک بڑا سیاحتی منصوبہ کمراٹ مداکلشٹ کیبل کار کی صورت میں عملی شکل اختیار کرنے کے مراحل میں ہے جس سے صوبے کی سیاحت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاحتی مقامات تک رسائی کے بنیادی اساس پر توجہ دی جائے تاکہ سیاحت کو حقیقی معنوں میں فروغ ملے اور صوبے میں روزگار اور کاروبار کے مواقع کے باعث معیشت مضبوط ہو۔