مشرقیات

بہت سے پرندے ایک جگہ جمع تھے۔بڑے چھوٹے طرح طرح کے پرندے!آپس میں دو دو چونچیں ہورہی تھیں بحث یہ تھی کہ ان کا بھی کوئی بادشاہ ہونا چاہئے۔چمگادڑ نے کہا نہیں جی کوئی ضرورت نہیں شیر جو بادشاہ ہے۔ویسے تمہارا کوئی کام کاج ہو تو مجھے بتا دیا کرو طوطے نے کہا شیر ہمارا تو نہیں چوپایوں کا بادشاہ ہے ۔رہے تم تو تم کسی گنتی میں نہیں! چیل نے کہا ہمارا بادشاہ الگ ہوگا ہم خود چنیں گے کوے نے کہا ٹھیک ہے ۔شہباز بولا میں بھی یہی چاہتا ہوں چڑیوں نے کہا ہمیں بھی یہی منظور ہے۔سب ہم خیال تھے مگر چمگادڑ اختلاف کئے جاتا تھا اس کے پیش نظر کچھ اور ہی مقصد تھا مینا نے کہا آخر اسے اتنا اختلاف کیوں ہے؟کوئل بولی موادنیا بھر کا فسادی جنم جنم کا دوغلا!ہم میں آکے بیٹھتا ہے تو پر پھیلاتا ہے پرندہ بن جاتا ہے اور چاپالوں میں جاتا ہے تو پائوں پھیلاتا ہے چوپایہ بن جاتا ہے اسے ڈر یہ ہے کہ ہمارا کوئی بادشاہ ہوگا تو اس سے پوچھے گا تم ہو کیا پرندے یا چوپائے؟۔اس کی ذرا اہمیت نہ رہے گی۔چمگاڈر نے ہاتھ جوڑے پائوں پکڑے بولا خدا کیلئے مجھے معاف کردواب اگر بولوں تو زبان کاٹ دینا آپ نے دیکھا ہوگا آدمیوں میں بھی ایسے چمگادڑ ہوتے ہیں۔بے اصولے ،دودلے،بہروپیے دھوکا باز!یہ سب منافقت کی نشانیاں ہیں اور منافق بڑا موقع پرست ہوتا ہے۔آخر کار پرندوں نے طے کیا کہ ان کا ایک بادشاہ ہو ۔چنائو کا طریقہ یہ طے کیا کہ سب پرندے ایک ساتھ اُڑیں جو سب سے اونچا اڑے وہی پرندوں کا بادشاہ ہوگا۔چمگادڑ نے بھی موقع دیکھ کر اپنی جگہ بنائی وہ شہباز کے بالکل پیچھے کھڑا ہوگیا۔ادھر اُڑنے کا اشارہ ہواُدھر سب پرندے پر کھول فضا میں پہنچے اور جس بلندی تک جا سکتے تھے جاکر لوٹے۔سب سے آخر میں شہباز آیا۔اس کی اُڑان سب سے اونچی تھی۔ہر ایک نے کہا اسی کو بادشاہ بنانا چاہئے۔اتنے میں کسی نے کہا چمگادڑ نظر نہیں آرہا وہ کہاں گیا؟ہم نے اڑنے سے پہلے اسے دیکھا تھا۔اتنے میں چمگادڑ اوپر سے چلا آرہا تھا آتے ہی اس نے کہا دیکھو!میں سب سے اونچا اور سب سے زیادہ دیر تک اُڑکر آرہا ہوں۔آئو تم لوگ مجھے بادشاہ بنا لو سب پرندے حیران ہو کر اسے تکنے لگے۔کلنگ نے ماجرا دیکھ کر چمگادڑ کو پنچوں میں داب کر بیٹھ گیا بولاجان کی خیر چاہتے ہو تو سچ سچ بتائو ورنہ جان سے جائوگے۔یہ دیکھ کر چمگادڑ بولا جب اُڑان شروع ہوئی تو میں چپکے سے شہباز کی پیٹھ پر بیٹھ گیا وہ جب تھک کر نیچے آنے لگا تو میں تازہ دم اوپر اڑگیایوں سب سے اونچی اڑان میری رہی۔اس نے بات ختم کی تھی کہ شہباز نے اسے زور کا پنجہ مارا اوروہ لہو لہان ہو کر تھوڑی دیر میں دم توڑ گیا۔ایک بوڑھے ہدہد نے یہ ماجرا دیکھ کر کہا بڑا بننے کی خواہش بے شک بہت اچھی ہے مگر منافق کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔