سینیٹ انتخابات:اوپن بیلٹ یا خفیہ ووٹنگ؟سپریم کورٹ آج رائےدیگی

ویب ڈیسک(اسلام آباد) سینیٹ انتخابات میں بیلٹ اوپن ہوگا یا سیکریٹ؟؟ سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر محفوظ شدہ رائے آج سنائے گی۔

سپریم کورٹ کی کاز لسٹ کے مطابق محفوظ شدہ رائے آج سنائی جائے گی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ ساڑھے 9بجے رائے سنائے گا۔

ریفرنس پر سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحیی آفریدی شامل تھے۔

اس حوالے سے اٹارنی جنرل اور چاروں ایڈووکیٹ جنرلز سمیت تمام فریقین کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ کورونا میں مبتلا ہونے کے باعث اٹارنی جنرل عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

صدر مملکت نے گزشتہ برس 23 دسمبر کو سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا ریفرنس میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق رائے طلب کی گئی تھی۔

صدارتی ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت نہیں کرائے جاتے۔

سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے۔ سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہو سکتا ہے۔ حکومت نے مؤقف اپنایا کہ اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آ ئے گی۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر 20 سماعتیں ہوئیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی ہے۔

عدالت نے پچیس فروری کو تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد رائے محفوظ کرلی تھی جو آج سنائی جائے گی۔