مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دے دیا

ویب ڈیسک : جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دے دیا، سلیکٹیڈ صدر آئینی زمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے جعلی وزیراعظم کے کہنے پر ریفرنسز بھیج کر سپریم کورٹ کو ماورائے آئین دبائوں مین لانے کی کوشش کر رہا ہے، صدر کا آرڈینس اور ریفرنس دونوں آئین کے خلاف ہے، اوپن بیلٹ آرڈینس نے عدلیہ اور قوم کا وقت ضائع کیا ہے، ابھی تک تو محسوس ہورہا تھا کہ حکومت کے سینے میں دل نہیں لیکن اب محسوس ہورہا کہ ان کی انکھوں میں شرم و حیاء بھی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے بعد صدر کو خود مستعفی ہوجانا چاہیئے، صدر خود مستعفی ہوجائے، نہیں تو صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک بھی آسکتی ہے، موجودہ حکمران اتنے بے بس ہے کہ اپنی مرضی سے اپنے استعفی کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید بتایا کہ جسٹس فائز عیسی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے معزز ججز کو آپس میں لڑوانے کی کوشش کی گئی، اوپن بلیٹ ریفرنس سے عدلیہ اور سیاست دانوں کو لڑوانے کی کوشش کی گئی، صدر کے آرڈینس اور ریفرنسز آئین کی صریح خلاف ورزی ہے، ایسے نا اہل شخص کو صدارتی عہدے پر بیٹھے کا کوئی جواز نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد معاملہ اب الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے، امید ہے کہ الیکشن کمیشن حقیقی معنوں میں ثابت کرنے کی کوشش کریں گا کہ وہ ایک با اختیار ادارہ ہے، سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلے نے الیکشن کمیشن کی پوزیشن کو بہتر کیا ہے۔

2018 کے جعلی انتخابات کا دھبہ اس فیصلے سے دھویا نہیں جاسکے گا، الیکشن کمیشن کا ٹیسٹ کیس پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس ہے، سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ خوش آئند ہے، جس نے الیکشن کمیشن کی خود مختاری پر زور دیا ہے، سپریم کورٹ نے تمام ریاستی اداروں کو الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کا کہا گیا ہے، سپریم کورٹ ڈسکہ الیکشن میں الیکشن کمیشن کے احکامات نہ ماننے والے سرکاری افسران سے پیدا ہونے والی صورت حال پر سوموٹو نوٹس لے، سپریم کورٹ ملک میں آنے والے انتخابات کی شفافیت کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔