مشرقیات

بابل شہر کے سارے لوگوں نے ملکر لکڑیاں جمع کیں اور ایک جگہ میدان میں ان کا ڈھیر لگا دیا، لکڑیاں بے شمار تھیں۔ ان کی اچھی خاصی پہاڑی بن گئی پھر اس پہاڑی کو آگ لگائی گئی۔ دھڑا دھڑ لکڑیاں جلنے لگیں، ایسی کہ میلوں دور سے اُن کے شعلے نظر آتے تھے۔ اب ظالموں نے اللہ کے ایک نیک بندے کو پکڑا، ان کے ہاتھوں کو جکڑا، پاؤں میں بیٹریاں پہنائیں اور اس طرح انہیں آگ میں پھینکا جیسے گوپن سے پتھر پھینکتے ہیں، وہ سیدھے آگ میں جا گرے۔ اس آگ میں جس کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔حکایت ہے کہ ایک بار اللہ تعالیٰ نے حضرت عزرائیل سے پوچھا کہ اے موت کے فرشتے تو نے نہ جانے کتنوں کی جانیں لیں، کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی کی جان لیکر تو بھی غمگین ہوا؟ عزرائیل نے کہا کہ مولا! میری کیا مجال کہ تیرے حکم کے بعد مجھے غم یا افسوس ہو! ہاں ایک موقع البتہ بہت یاد آتا ہے، حکم ہو توعرض کروں۔ اشارہ ملا کہ بیان جاری رہے۔ عرض کیا، کچھ مسافر ایک کشتی میں سفر کر رہے تھے، کشتی موجوں پر بہہ رہی تھی، وہ لوگ ہسنتے کھیلتے گاتے بجاتے اپنا وقت گزار رہے تھے کہ تیرا حکم آیا، اس کشتی کو توڑ دیا جائے، میں نے فوراً تعمیل کی، سمندر کو حکم دیا کہ طوفان بپاکرے، حکم کی دیر تھی کہ کشتی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ ایک ایک مسافر زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہاتھ پاؤں مارنے لگا، آہ وبکا کا ایک سیلاب تھا کہ اُمڈ آچلا آرہا تھا۔ اتنے میں تیرا حکم آیا کہ سب کی جانیں کھینچ لوں، صرف ایک ماں اور ایک دودھ پیتے بچے کو چھوڑ دینے کا حکم ہوا۔ پھر تیرا حکم قضا شیم پہنچا کہ ماں کی روح بھی کھینچ لی جائے۔ ننھی معصوم جان کو تختے پر بہنے کیلئے چھوڑ دیا جائے، مالک میں نے تیرے حکم کی تعمیل کی اور میں لوٹ گیا۔ آواز آئی کہ اے عزرائیل! ہم نے ایک موج کو حکم دیا کہ بچے کو آرام سے اپنے سینے سے لگا کر ساحل پر ڈال دے، جب بچہ ساحل سمندر پر زندہ سلامت پہنچ گیا تو ہم نے وہاں ایک باغ کھلا دیا، میٹھے پانی کے چشمے جاری کئے، زمین کے اس ٹکڑے کو ایسا بنا دیا جیسے جنت کا گوشہ ہو، جو اس نے چاہا اسے دیا حتی کہ وہ ایک کڑیل جوان بن گیا، پھر ہم نے اُسے جوانی کی راحتیں مسیر کیں، رہنے کیلئے محل دیا، سلطنت دی۔ عظیم الشان سلطنت بابل کا اسے حکمران بنا دیا جو بڑی ترقی یافتہ خوشحال مملکت تھی، اُسے علم دیا، عقل دی، کوئی نعمت ایسی نہ تھی جس سے ہم نے ہاتھ کھینچا ہو۔ جانتے ہو پھر کیا ہوا؟ عزرائیل نے عرض کیا نہیں مالک تو ہی بہتر جانتا ہے، بتایا گیا قوت اور جوانی کے نشے میں اس ہمارے پروردہ نے ہماری برابری کا دعویٰ کیا، ہمارے بندوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کیا کریں، اس معصوم نے جس کیلئے تیرا دل دکھی ہوا تھا خدائی کا دعویٰ کیا، یہی نہیں اس نے میرے دوست، میرے نیک بندے، ابراہیم کو آگ میں ڈالا کہ وہ اس غرور کے پتلے نمرود کو سیدھی رہ پر لے آنا چاہتا تھا۔ کبھی آپ نے سوچا یہ کیا بات ہے کہ ذرا فراغت مل جائے تو ہم اپنی اصلیت کو بھول جاتے ہیں۔