ایک پاکستانی دو رویئے!

گزشتہ ایک عشرے کے دوران مجھے دو درجن سے زیادہ ممالک میں تقریباً سو اسفار کا اتفاق ہوا ' ان اسفار میں مجھے مختلف رنگ و نسل اور عادات و اطوار کے حامل لوگوں کے رویوںکا براہ راست مشاہد ہ میسر آیا۔ ان اسفار میں پاکستانیوں سے متعلق مشاہدات کا بھی طویل تجربہ حاصل ہوا' ان ہوائی اسفار میں فضائی میزبانوں اور دیگر عملے کے رویے کو بھی سمجھا کہ اپنے ملک میں ان میزبانوں کا رویہ کیسا ہوتا ہے اور جب یہی عملہ دوسرے ممالک میں ہوتا ہے تو ان کے رویے میں کیا تبدیلی آتی ہے۔
2016 کی سردیوں میں مجھے امریکہ سے براستہ قطر اسلام آباد آنا تھا، قطر کے دوحہ ایئرپورٹ پر انتظارگاہ میں اعلان ہوا کہ اسلام آباد کیلئے جہاز تیار ہے' ہم اعلان سنتے ہی فوراً قطار میں آگئے' اس قطار میں اکثر پاکستانی تھے' جو نہایت ڈسپلن کیساتھ قطار میں کھڑے تھے۔ جہاز نے اپنے وقت پر اُڑان بھری لیکن اسلام آباد کے قریب پہنچتے ہی کپتان نے اعلان کیا کہ دھند کی وجہ سے ہمیں اُترنے کی اجازت نہیں ہے لہٰذا ہم جہاز کو کراچی اُتاریں گے' لیکن کچھ دیر بعد اعلان ہوا کہ یہ جہاز اب اسلام آباد نہیں جائے گا کیونکہ اس کی ڈیوٹی کسی دوسرے ملک میں لگا دی گئی ہے' یہ جہاز دوبارہ قطر جائے گا اور سارے مسافروں کو ایک دوسرا جہاز لیکر اسلام آباد جائے گا۔ یہ صورتحال یقینا حیران کن تھی' لیکن بادل نخواستہ سبھی مسافر خاموشی سے سنتے رہے' اور صبر کا دامن پکڑے رکھا۔ یوں پاکستان سے دوبارہ قطر کیلئے روانہ ہوئے اور ہوائی اڈے پر اُتر گئے' وہاں ایک دوسرا جہاز اسلام آباد کیلئے تیار تھا لیکن اس جہاز میں پہلے سے ہی مسافر بیٹھے ہوئے تھے' یعنی ہمیں اس فلائٹ میں ایڈجسٹ کیا جا رہا تھا' اکثر مسافر یہ سوچ رہے تھے کہ ایسا ممکن نہیں کہ دو جہازوں کے مسافر ایک ہی جہاز میں پورے ہو سکیں' اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو جہاز میں پہلے چلا گیا وہ تو اسی فلائٹ کے ذریعے اسلام آباد روانہ ہو جائے گا جبکہ بچ جانے والے مسافروں کو کسی دوسری فلائٹ کے ذریعے بھجوانے کا بندوبست کیا جائے گا۔ کچھ مسافر جو ایسی صورتحال سے واقف تھے اپنی جگہ پر بیٹھے رہے' ایسے لوگوں میں، میں بھی شامل تھا، قطار میں لگے مسافر جہاز میں سوار ہونے لگے، جب لائن کچھ کم ہونے لگی تو ہم بھی اُٹھ کر لائن میں لگ گئے' آگے دیکھا کہ گیٹ پر بھاری بھر کم پولیس اہلکار کھڑے ہیں' ایک آدھ پاکستانی مسافر نے لائن توڑنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار نے پہلے عربی میں اور بعد میں انگریزی میں ایک جملہ کہا، مسافروں کا پاسپورٹ مانگا تو مسافر اپنی جگہوں پر سہم گئے اور لائن میں کھڑے ہوگئے۔ ہم سب کیلئے خوشی کا سامان یہ تھا کہ جس جہاز میں ہمیں سوار کیا جا رہا تھا وہ کافی بڑا جہاز تھا' ایئر لائن نے شاید سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے جہاز کا انتظام کر دیا تھا' یوں جہاز اسلام آباد اپنے مقررہ وقت پر پہنچا اور اس وقت دھند بھی ختم ہو چکی تھی' اس فلائٹ میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے اس دن پہنچنا تھا اور ہم جیسے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے ایک دن پہلے پہنچنا تھا' اسلام آباد پہنچنے پر بالکل نئی صورتحال سامنے آتی ہے۔ جو لوگ قطر کے ہوائی اڈے پر ڈسپلن کا مظاہرہ کر رہے تھے' ڈسلپن کی معمولی خلاف ورزی پر ایک آواز پر ہی سہم کر رہ گئے تھے' یہاں پاکستان پہنچنے پر ابھی جہاز رن وے پر ہی تھا کہ اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور ایسا بھاگنا شروع ہوئے کہ اب تک ان کا جو وقت ضائع ہوا ہے اس کا حساب برابر ہو جائے گا' وہ چند منٹ بھی صبر کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ مسافروں کا جہاز سے نکلنا' پاسپورٹ کیلئے لائن میں لگنا' ایئرپورٹ سے باہر نکلنا' حتیٰ کہ ٹیکسی میں بیٹھنے تک کا مرحلہ وہی منظر پیش کر رہا تھا جو پاکستان کے عمومی حالات میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانیوں کا بیرون ممالک میں مہذب مظاہرہ اور پاکستان آتے ہی پرانی روش اختیار کر لینا ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان کی زمین پر قدم رکھتے ہی ہم سب سے پہلے ''میں'' کی سوچ پر عمل پیرا کیوں ہو جاتے ہیں' پاکستانیوں کے اس عمل سے میں فکرمند ہو جاتا ہوں' پاکستانیوں کا رویہ بحیثیت فرد سے زیادہ بحیثیت قوم اور مجموعی ماحول کا پیدا کردہ ہے' ہمارے ہاں اکثر لوگوں کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ اپنی باری کا انتظار کرنا' قانون کی پاسداری کرنا' ریاست کے احکام کا احترام کرنا' دوسرے کے حق کا خیال رکھنا' ہمیں اپنی توہین لگتا ہے۔ ہم دوسروں کو غلط ثابت کرنے کیلئے تو سب سے پہلے تیار دکھائی دیتے ہیں لیکن اپنی ذات کو ٹھیک کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں' بسا اوقات ہم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہمارے پاس اس کی دلیل بھی ہوتی ہے لیکن جب کوئی دوسرا اسی طرح دلیل کا سہارا لیکر سگنل توڑتا ہے تو ہم اُس کی دلیل کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں' ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہماری دلیل زیادہ قوی ہے۔ صرف ٹریفک کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ غلط کام کی ہمارے پاس ہزار دلیلیں ہوتی ہیں ' لیکن جب کوئی دوسرا یہی کام کر رہا ہو تو اسے غلط کہنے کی بھی ہمارے پاس ہزار دلیلیں ہوتی ہیں۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ شاید ہمیں ابھی کافی طویل سفر کرنا ہے' جب ہم اپنے ذاتی مفاد کو چھوڑ کر قانون اور ریاست کے مفاد کو مقدم رکھیں گے اور چیزوں کو مثبت نظر سے دیکھیں گے' دوسروںکو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں گے' بالکل اسی روئیے کی طرح جب کسی دوسرے ملک میں ہوتے ہیں تو ہمارا رویہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے مہذب شہری کی طرح ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر تبدیلی کے خواہش مند ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ تبدیلی کا آغاز دوسروں سے ہو، ہم یہ نظریہ اپناتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے اور اصلاح احوال کیلئے کوشش بھی ہمیں ہی کرنی ہوگی، باہر سے آکر کوئی اس کی اصلاح نہیں کرے گا بلکہ اس کیلئے ہمیں اپنی ذات سے آغاز کرنا ہوگا۔