کھلا میدان اور جوڑ توڑ

سینیٹ الیکشن کا میدان گرم ہے، عام انتخابات کے برعکس اس کے ووٹر منتخب نمائندے ہیں۔ ابھی تک کے تجربے کے مطابق ان منتخب نمائندوں کے ووٹ لینے کیلئے اسی طرح دھڑے بندی، جوڑ توڑ اور مک مکا ہو رہا ہے جس طرح گلی محلوں کی سیاست میں ہوتا ہے۔
شاید یہ ہمارا سیاسی مزاج ہے مگر قطع نظر اس کی قانونی حیثیت کے جس پر سپریم کورٹ رائے دے گی، اس جوڑ توڑ کے سیایسی اثرات دور رس ہیں۔ سب سے پہلے تو ایک بات واضح ہے کہ اس دفعہ نادیدہ قوتوں، خفیہ ہاتھ اور خلائی مخلوق ٹائپ مداخلت کے اشارے نہیں مل رہے۔ ان اشاروں کی عدم موجودگی کا مطلب کھلا میدان ہے۔ اس کھلے میدان میں روایتی سیاستدانوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا ہے۔ اس کا فوری نتیجہ پنجاب میں سامنے آیا ہے جہاں پر چوہدری برادران کی موقع شناسی اور معاملہ فہمی سے تمام نشستیں بلامقابلہ ہوگئی ہیں۔ اس سے ایک بار پھر ق لیگ اور چوہدری پرویز الٰہی کا سیاسی سکہ چلنا شروع ہو گیا ہے اور حسب روایت اور حسب توقع وزیر اعلی عثمان بزدار بارہویں کھلاڑی ثابت ہو ئے ہیں۔ پنجاب فارمولا کے بعد اسلام آباد کی سیٹ پر الیکشن کے حوالے سے کافی چہ مگوئیاں شروع ہوں گئی ہیں۔ اگر پی پی پی نے کم ہی سہی مگر چند ووٹ قربان کیے ہیں اور ن لیگ نے بھی ساتھ نبھایا ہے تو اس کا کوئی صلہ تو ضرور ہو گا۔ کیا ق لیگ حکومتی اتحادی ہوتے ہوئے بھی وفاق میں دوسری طرف جانے کا سوچ رہی ہے؟ یہ ایک اہم اور فیصلہ کن سیاسی قدم بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے سندھ میں ایم کیو ایم کو دو سیٹیں آفر کر کے مخمصے میں ڈال دیا ہے جبکہ فیصل سبزواری نے بھی پنجاب ماڈل کے طرز پر سندھ میں ایڈجسٹمنٹ کا راستہ کھلنے کا اشارہ دیدیا ہے۔ ق لیگ اور پی پی پی نے ہمیشہ سیاسی مفاہمت کی بات کی ہے مگر باقی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے انتہائی پوزیشن ہی لے رکھی ہے۔ ن لیگ خصوصا ووٹ کی عزت پر استعفے دینے کو تیار ہے مگر اسی ن لیگ نے اپنے گڑھ پنجاب میں حکومتی جماعتوں کیساتھ مک مکا بھی کر لیا ہے۔ اس مک مکا سے آئندہ مستقبل کے اشارے بھی ملتے ہیں کہ آگے بھی ایڈجسٹمنٹ جس کو ڈیل بھی کہا جا سکتا ہے، کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس طرح کے مک مکا سے مریم نواز کی پوزیشن اور بیانیہ دونوں ہی کمزور ہوں گے ۔ جیسے جیسے مفاہمت کے امکانات بڑھیں گے ویسے ویسے پارٹی کا اولڈ گارڈ اپنی کم ہوتی ہوئی جگہ واپس لے گا۔ پیپلز پارٹی کسی طرح بھی سندھ کی حکومت کو چھوڑنا نہیں چاہتی اور نہ ہی یہ چاہتی ہے کہ کسی اور سیاسی جماعت یا اتحاد کی صوبہ سندھ میں بنیاد مضبوط ہو اس لیے پیپلز پارٹی نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے سلسلے میں پے در پے بیانات دینے شروع کردیے اور یہ کہا گیا کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کے ذریعے موجودہ حکومت کو گھر بھیج دے گی۔ پھر پی پی پی کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ وہ ضمنی انتخابات اور سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لے گی جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کی رائے تھی کہ کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیا جائے لیکن پوری پی ڈی ایم میں آصف زرداری صاحب کا فیصلہ ہی غالب آیا اور ن لیگ اور جے یو آئی اتحاد کی دونوں بڑی پارٹیاں ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر تیار ہو گئیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اور ضمنی انتخاب کے نتائج نے پی ڈی ایم کے بیمار جسم میںایک نئی روح پھونک دی۔ سینیٹ کے انتخاب میں پراسراریت اسی طرح بڑھ گئی ہے کہ اوپن بیلٹ کے صدارتی آرڈیننس کو عدالت عظمی میں چیلنج کردیا گیا ہے، اب سارا انحصار عدالت عظمی کے فیصلے پر منحصر ہے۔ دوسری طرف سینیٹ کے الیکشن میں دلچسپی یوسف رضا گیلانی کی وجہ سے بڑھ گئی ہے پی ٹی آئی کی طرف سے حفیظ شیخ اُمیدوار ہیں ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ماہر معیشت یعنی ٹیکنو کریٹ ہیں اور خامی یہ کہ وہ ماہر سیاست نہیں ہیں جبکہ یوسف رضا گیلانی کی خوبی یہ کہ وہ ماہر سیاست ہیں اور خامی یہ ہے کہ وہ ٹیکنو کریٹ نہیں ہیں۔ پی ڈی ایم کی طرف سے مولانا فضل الرحمن سینیٹ کے امیدوار بن سکتے تھے لیکن آصف زرداری نے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں کھڑا کرکے پی ٹی آئی کو ایسا چیلنج دیا ہے کہ اس کی سانسیں پھولتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں، پی ٹی آئی کیلئے اس کھلے میدان اور مک مکا میں سب سے زیادہ چیلنج ہے۔ کھلے میدان کا عملی اثر ضمنی انتخابات میں نظر آیا ہے جہاں حکومت کی سیاسی اور انتظامی ساکھ کو کافی جھٹکے لگے ہیں۔ اب اگر اسی طرح جوڑ توڑ چلتا رہا تو ایک طرف این آر او نہیں دوں گا کا بیانیہ متاثر ہو گا دوسری طرف سینیٹ میں سنجرانی ماڈل ہی جاری رہے گا۔ ابھی تک بظاہر حفیظ شیخ بمقابلہ یوسف رضا گیلانی میں توقعات کے برعکس نتینجے کا امکان نہیں مگر اگر چاروں صوبوں میں جوڑ توڑ روایتی سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہی رہا تو آگے قانون سازی میں بھی حکومت بدستور انہی پر منحصر رہے گی۔ اسی لیے حکومت نے اپنا تمام وزن اوپن بیلٹ کے حق میں ڈال رکھا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر حکومت کے لیے چیلنج اور اپوزیشن کیلئے اُمید ہے اور سینیٹ کے بعد پنجاب کا میدان بھی گرم ہو سکتا ہے۔