ایوان بالاسینیٹ کی37 نشستوں کیلئےانتخابی میدان سج گیا

ویب ڈیسک (اسلام آباد)سینیٹ الیکشن کا میدان سجنے کو تیار، چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں 37 نشستوں کیلئے ووٹنگ ہوگی۔

آج 48 نشستوں کا الیکشن ہونا تھا، تاہم پنجاب میں بلا مقابلہ الیکشن انجام پانے کے بعد اب تینوں صوبوں اور وفاق میں 37 نشستوں پر الیکشن ہوگا۔

پنجاب میں 5 نشستیں تحریک انصاف، 5 مسلم لیگ ن اور 1 نشست مسلم لیگ ق کے حصے میں آئیں۔ سندھ میں 11 خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 12،12 نشستوں پر پولنگ ہوگی جبکہ وفاقی دارلحکومت میں 2 نشستوں کے لئے پولنگ ہوگی۔

سینیٹ انتخابات کا سب سے دل چسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہورہا ہے جہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لیے 341 اراکین قومی اسمبلی ووٹ ڈالیں گےاگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے اکثریت ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح ہوگا۔

وفاقی دارلحکومت کی 2 نشستوں پر چار امیدوار میدان میں ہیں،سندھ میں 7 جنرل نشستوں پر10 امیدوار،ٹیکنو کریٹ کی دو نشستوں پر4 امیدوار اور خواتین کی دو نشستوں پر3 امیدواروں میں مقابلہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں 7 جنرل نشستوں پر11امیدوار، 2 ٹیکنوکریٹس پر5 ، خواتین کی 2 نشستوں پر5 اور اقلیتوں کی ایک نشست پر4امیدوار مدمقابل ہیں۔

بلوچستان سے7 جنرل نشستوں پر16امیدوار،دو ٹیکنو کریٹس پر 4 امیدوار،خواتین کی دو نشستوں پر 8 اور اقلیتوں کی ایک نشست پر4امیدوار مدمقابل ہیں۔

قومی اسمبلی ہال اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ہال بطور پولنگ سٹیشن استعمال کئے جائیں گے۔

موجودہ وزراء شبلی فراز،فیصل واوڈا، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی،سابق ڈپٹی چئیرمین سینٹ عبدالغفور حیدری،سابق وزیر اطلاعات شیری رحمان،سابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک،سابق رکن آسیہ ناصر،عثمان خان کاکڑ،مولانا عطاءالرحمن، سرفراز بگٹی، ستارہ ایاز، محسن عزیز، ذیشان خانزادہ، تاج آفریدی انتخابات میں دوبارہ حصہ لے رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں 168 ارکان آج 11 نشستوں پر انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، سینیٹ الیکشن میں سندھ سے پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ٹی ایل پی کے 17 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں سمیت خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی 2،2 نشستوں کے لیے پولنگ ہوگی۔

اس وقت سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 99، پاکستان تحریک انصاف 30 ارکان کے ساتھ دوسرے اور ایم کیو ایم پاکستان 21 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے 14، تحریک لبیک پاکستان کے 3 اور متحدہ مجلس عمل کا ایک رکن ہے۔

جنرل نشست کا بیلٹ پیپر سفید، خواتین کی نشست کا گلابی ، ٹیکنوکریٹ کا سبز اور غیر مسلم نشست کے لیے بیلٹ پیپر زرد رنگ کا ہے۔

ووٹرز اپنی ترجیحات کے مطابق امیدواروں کو ووٹ دیں گے، بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے سامنے خانے میں عددی ترجیحات 1، 2، 3 لکھ کر ووٹ دیا جائے گا۔

ووٹ گنتی کے وقت پہلے جیتنے والے امیدواروں کے اضافی ووٹ دوسرے امیدواروں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں، قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کے ہال کو پولنگ اسٹیشن قرار دے دیا گیا۔

پولنگ سامان کی ترسیل اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل ہوگئی۔ قومی اسمبلی ہال میں ارکان کی سہولت کے لیے 4 پولنگ بوتھ رکھے گئے ہیں جبکہ بیلٹ پیپرز، بیلٹ باکسز اور اسٹیمپس اور دیگر اسٹیشنری کا سامان متعلقہ پولنگ اسٹیشن پہنچا دیا گیا۔

سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے 2600 سے زائد بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لیے ارکان کو 2،2 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے جبکہ سندھ کی 11 نشستوں کے لیے ارکان اسمبلی کو 3،3 اور خیبرپختونخوا، بلوچستان کی 12،12 نشستوں کے لیے 4،4 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے۔

اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لیے 800، سندھ کی 11 نشستوں کے لیے 600، خیبرپختون خوا کی بارہ بارہ نشستوں کے لیے 800 اوربلوچستان کی 12 نشستوں کے لیے 400 بیلٹ پیپرز کی چھپائی کی گئی۔

الیکشن کمیشن کا عملہ قومی اسمبلی ہال میں موجود ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ کی 37 نشستوں پر انتخاب آج ہوگا۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ کا عمل صبح 9 سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔