آئی ٹی کے شعبہ میں انقلاب

کورونا وائرس کے بعد پوری دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قدر بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ دنیا میں ہر کاروبار مندے کا شکار رہا مگر اس کمپیوٹر سے وابستہ لوگوں نے کافی کمائی کی اور جن لوگوں کو فری لانسنگ آتی تھی یا وہ اس بارے میں تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتے تھے، انہوں نے اس وبا کے دنوں میں بین الاقوامی سطح پر دوسرے ممالک کے آن لائن پراجیکٹ لیکر پیسے کمائے کیونکہ ہمارے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا میں آن لائن کام کرنا نہیں آتا جبکہ آن لائن لوگ دوسروں کے ہتھے چڑھ کر اپنی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اب خیبر پختونخوا حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے بہترین اقدامات اُٹھا رہی ہے جس میں ہر ضلع میں ایک آئی ٹی پارک کی تعمیر ہے اور اس حوالے سے ہم پہلے بھی ایک تفصیلی کالم لکھ چکے ہیں مگر اس دفعہ صوبائی حکومت کی آئی ٹی کے حوالے سے کی جانے والی دوسری پیش رفت کے بارے میں بھی لکھنا ضروری ہے جس کو اس کالم کا دوسرا حصہ کہا جاسکتا ہے۔ اس دفعہ صوبائی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خواتین کو آگے لانے کیلئے اقدامات اُٹھانے کی منصوبہ بندی کی ہے کہ کس طرح خواتین کو ڈیجیٹل مارکیٹ میں لایا جائے جہاں انہیں تربیت دیکر اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 25فیصد خواتین کسی نہ کسی طرح معاشی نظام میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں جبکہ خواتین آبادی کا 52فیصد ہیں جو ایک بہت کم تناسب ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں خواتین کو دیکھا جائے تو یہاں پر بہت کم خواتین آپ کو کام کرتی نظر آئیں گی کیونکہ خواتین انفارمیشن ٹیکنالوجی کو صرف مردوں کی ہی فیلڈ سمجھتی ہیں اس لئے پاکستان میں اس شعبہ میں بہت کم طالبات آتی ہیں حالانکہ آج کے دور میں کوئی بھی طالبہ ایسی نہیں ہوگی جو اینڈرائیڈ سیٹ کا استعمال نہ جانتی ہو یا ان کا اس سے کوئی تعلق نہ رہا ہوگا اور ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اینڈرائیڈ موبائیل سیٹ ہماری زندگیوں کا جزلاینفک بن گئے ہیں جس میں زیادہ تر وقت کا ضیاع ہی کیا جاتا ہے۔ ہر وقت سافٹ ویئرز ہی موبائل سکرین پر ٹمٹماتے ہیں، مرد ہوں یا خواتین موبائل سے جڑ گئے ہیں۔ اگر تعلیمی شرح دیکھیں تو گزشتہ دہائیوں میں پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی کافی بڑھی ہے اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی ایک نمایاں تعداد آئی ٹی کے مضامین میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں جبکہ وقت کیساتھ ساتھ کمپیوٹر سائنسز کی فیلڈ میں داخلہ لینے کا شعور بیدار ہورہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر عملی سائنس اور تحقیق میں بہت خواتین آگے آرہی ہیں جبکہ ہمارے ہاں خواتین بہت کم ڈگریاں لیکر فیلڈ میں آتی ہیں جس کی وجہ ہمارا سماجی نظام ہے جہاں لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر فوراً شادی کر دی جاتی ہے اور گھر بار، بچوں کی تربیت میں انہیں اتنا وقت ہی نہیں مل پاتا کہ وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سرانجام دے سکیں۔ مگر میرے خیال میں سارا الزام سماجی یا معاشرتی نظام کو نہیں دیا جاسکتا، دوسری جانب ہماری نوجوان نسل بہت سہل پسند ہو چکی ہے اور ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں ایسی ہیں جو مواقع میسر ہونے کے باوجود عملی یا تحقیقی میدان میں کچھ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ کام محنت، احساس ذمہ داری اور بہت سا خون وتوانائی مانگتا ہے اور خواتین مردوں کی نسبت سہل پسند ہیں، وہ جلدی کام کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ صوبائی حکومت نے اب غیرملکی اداروں کیساتھ ملکر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹر میں خواتین کو تربیت یافتہ بنانے کیلئے کے پی آئی ٹی بورڈ کے زیراہتمام خواتین اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طالبات کیلئے آئی ٹی سیکٹر میں ملازمتیں دینے کا سوچا ہے۔ خواتین کو آئی ٹی کے شعبے میں باصلاحیت بنانے کیلئے خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے وومن ایمپاورمنٹ تھرو ڈیجیٹل سکلزکے نام سے منصوبہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے جس میں ابتدائی طور پر صوبے کے تین ہزار خواتین کو ڈیجیٹل سکلز سے آراستہ کیا جائے گا، جس کے بعد یہی خواتین گھروں میں بیٹھ کر ڈیجیٹل مارکیٹ میں ملازمت کرکے ملک کی خدمت کریں گی، ان خواتین کو فری لانسنگ کے گر سکھائے جائیں گے کہ کس طرح وہ کمپیوٹر اور آئی ٹی کو استعمال کرکے پیسے کما سکتی ہیں۔ گرافکس ڈیزائننگ، بلاگنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹیل پراڈکٹویٹی ٹولز ایسے آسان کام ہیں جسے سیکھنے میں زیادہ عرصہ بھی نہیں لگتا اور نہ ہی یہ کوئی مشکل کام ہے۔ ان سیکٹرز میں خواتین کو گھر بیٹھے بہت سی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ حکومت کے اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والے پیش رفت کے بعد یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے سالوں میں اس فیلڈ میں مردوں کیساتھ ساتھ خواتین کیلئے بھی کافی زیادہ ملازمتیں ملنے کے مواقع موجود ہیں۔ زیادہ تر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں خواتین کو آئی ٹی سے روشناس کرانے کیلئے کورسز ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف بیسک چیزیں نہ ہوں۔ فری لانسنگ ایک وسیع شعبہ ہے جس میں لاکھوں جابز موجود ہیں مگر ان تک رسائی کی ضرورت ہے جو حکومت کے توسط ہی سے ممکن ہے۔ اگر صوبائی حکومت کے آئی ٹی کے حوالے سے اقدامات درست سمت چلے تو آئی ٹی کے شعبہ میں انقلاب آسکتا ہے۔