دیورانیاں،ٹیوب ویل اور طلبہ کی شکایت ومحرومیاں

گرچہ کالم میں ذاتی اور خاندانی مسائل پر بحث کی گنجائش نہیں لیکن ایک قاری نے کچھ اس انداز میں اپنے خاندان کے اُجڑنے کی کہانی لکھی ہے کہ اس پر اجتماعی معاشرے کے تناظر میں چند سطریں لکھنے میں حرج نہیں۔ ہمارے ہاں خاندانی نظام کو جو زوال آرہا ہے مشترکہ خاندانی نظام کی جگہ گھروں میں جو دیواریں اُٹھائی جارہی ہیں اس سے مشکلات میں اضافہ اور معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے میں خود اس ضمن میں کیا کہوں سوائے اس کے کہ الگ گھر اور الگ چولہا ہر عورت کا خواب ہوتا ہے، شرعی طور پر بھی یہ خواہش نا پسندیدہ نہیں۔ خاندان میں جھگڑے سے بچنے کیلئے علیحدہ علیحدہ رہائش کی وکالت کی گنجائش موجود ہے عموماً گھر کی تقسیم اور علیحدہ رہنے پر اصرار کا بوجھ عورت ہی کے سر ڈالا جاتا ہے، میں اپنے ہم صنفوں کے بارے خود تو لکھنے سے گریزاں ہوں، عزیز بھائی اس حوالے سے ایک کہانی سناتے ہوتے ہیں کہ چار بھائی تھے اور چاروں مثالی اتحاد سے اکٹھے ایک گھر میں مقیم تھے۔ ایک دن گھر میں بحث چھڑ گئی کہ یہ بھائیوں کی محبت ہے یا پھر ان کی بیگمات کی گاڑھی چھنتی ہے، بھائیوں کا اصرار تھا کہ یہ ہماری محبت ہے۔ اگلے دن سب دیورانیاں صلاح مشورے کے بعد شام کو منہ پھلائے بیٹھ گئیں اور اپنے اپنے شوہروں سے شکایات شروع کیں۔ چند دن میں ہی چاروں بھائی تنگ آکر بٹوارے تک پہنچ گئے، تب ان کی بیگمات نے ہنس کر بتایا کہ وہ علیحدہ نہ ہوں۔ ثابت ہو گیا پیار تم لوگوں میں نہیں ہمارے تعلقات مثالی تھے۔ حاصل کلام اور مطلوب کلام یہ کہ گھر کی خواتین ساتھ رہنا چاہیں تو مرد کم ہی علیحدہ گھر بسانے کا سوچیں گے۔
لکی مروت سے فہیم اللہ نے دل پسیج دینے والی شکایت کی ہے کہ ان کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے جو فنڈ حکومت کی طرف سے جاری ہوئی ہے اسے عاقبت نااندیش عناصر اپنے مقاصد کیلئے غیرمنصفانہ طور پر تقسیم کر کے ان کو محروم رکھ رہے ہیں، ان کے مطابق حلقہ پی کے 92 میں ٹیوب ویلز کی تنصیب اور پریشر پمپس کیلئے تقریباً ستر کروڑ روپے دئیے گئے، نوکریوں اور ملازمتوں کیلئے اور بٹھہ خشت کے کاروبار کو چلانے کیلئے غیرموزوں مقامات پر ٹیوب ویل لگائے گئے اور عوام آبنوشی کی سہولت سے محروم کے محروم رہ گئے۔ پانی پلانے کا اجر جس طرح سب سے زیادہ ہے اسی طرح پانی سے محروم کرنے والوں کی سزا بھی یقیناً سخت ہوگی۔ تھوڑے سے نفع کیلئے دین دنیا کو داؤ پر لگانے والوں کو خوف خدا کرنا چاہئے، ٹیوب ویلز اور پریشر پمپس لگانے سے قبل مشاورت ہونی چاہئے اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھ کر موزوں مقام پر آبنوشی سکیم شروع ہونی چاہئے۔ آئندہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری اہلکار بااثر افراد کی بجائے عوام کی سنیں اور عوامی مفاد کا خیال رکھیں۔
اگلا برقی خط میڈیکل کے طالب حیدر علی کا ہے جو انٹری ٹیسٹ میں ایک سو اڑسٹھ نمبر لینے کے باوجود اس لئے رہ گئے کہ سرکاری سکول میں پڑھنے اور وہاں سے امتحان دینے کی وجہ سے ان کے نمبر کم آئے جبکہ انٹری ٹیسٹ میں وہ اپنی قابلیت کا یکساں موقع ملنے پر بہتر مظاہرہ کرسکے۔ ایک عام تاثر ضرور ہے کہ بعض اداروں کے سکولوں اور خاص طور پر نجی سکولوں کے طالب علموں کے نمبر زیادہ آتے ہیں، بورڈ میں ان کے پرچوں کی نرم چیکنگ ہوتی ہے، سرکاری سکولوں کے طالب علموں کے حوالے سے چونکہ پہلے ہی سے ممتحنین کا رویہ مثبت نہیں ہوتا اور وہ سرکاری سکولوں کے طالب علموں کو پہلے ہی اچھا طالب علم نہیں گردان رہے ہوتے ہیں، ان کی یہ سوچ پرچوں کی مارکنگ پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ بہت حد تک یہ تاثر درست ہے اور ضروری نہیں کہ ہر طالب علم کیساتھ واقعی اسی طرح ہی ہوتا ہو، نجی سکولوں میں طالب علموں سے کام لیا جاتا ہے، بار بار ٹیسٹ لیکر والدین کو بتایا جاتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ طلبہ تیاری کیساتھ امتحان میں بیٹھیں۔ اس لئے ان کے نمبر اچھے آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، بہرحال مجھے کسی کی وکالت مطلوب نہیں، بورڈ میں سارے طالب علموں اور سکولوں کے طلبہ کے پرچے کسی منفی یا مثبت تاثر کے بغیر چیک ہونے چاہئے، پرچہ چیک کرنے والوں کو جب تک بتایا نہ جائے اور کوئی ہدایت نہ ملے ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ پرچہ کس تعلیمی ادارے کا ہے۔ بورڈ حکام کو اس شکایت کا بہرحال جائزہ لینا چاہئے اور ہر ممکن طریقے سے طالب علموں کی تشفی کرنی چاہئے تاکہ کوئی جوہرقابل ضائع نہ ہو اور کوئی غیرمستحق حقدار طلبہ سے بازی نہ لے جانے پائے۔ قارئین اس ای میل rozanekhial@gmail.com پر اپنی شکایات اور مسائل پر بھجوا سکتے ہیں۔