چین کی آبی برتری

تبت دنیا کی چھت اور سطح سمندر سے اوسطا چھ سے سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ پلیٹو50ملین سال پہلے وجود میں آیا۔ تقریبا آٹھ ہزار سال پہلے انسان نے یہاں ڈیرے ڈالنے شروع کیے۔ اس قدر بلندی پر وسیع و عریض میدانوں، جنگلوں، جھیلوں، گلیشیرز، برف زاروں، آسمان سے باتیں کرتی چوٹیوں کی سرزمین ہے۔ یہاں پر دنیا کے سب سے بلند سبزہ زار پائے جاتے ہیں۔ الپائن ویجیٹیشن زون پینتالیس سو میٹر بلند ہے۔ تبت کا70 فیصد علاقہ گراس لینڈ ہے۔ یہاں پر چار بڑے ریزروائر ہیں جو چین نے بنائے ہیں۔ یہاں پر وائلڈ یاک اور برفانی چیتا پایا جاتا ہے جو تقریبا3سے4ہزار فٹ کی بلندی پر مسکن بناتا ہے۔ یہاں پر اب7ہزار چیتے رہ گئے ہیں۔ آبادی کی اکثریت بدھ مت ہے۔ دلائی لامہ روحانی پیشوا ہیں۔ 1951سے چین کا قبضہ ہے۔ ماوزے تنگ کے مشہورِ زمانہ پانچ انگلیوں کے پنچ کی ایک انگلی تبت ہے۔ چین نے یہاں کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں۔ لہاسہ جو تبت کا دارالحکومت ہے وہاں تک ریل پہنچ چکی ہے۔ چین کو اصل مسئلہ یہاں کے بنجاروں سے ہے جو گھر نہیں بناتے اور نہ ہی شناختی کارڈ اس لیے ان لوگوں کا سراغ رکھنا مشکل ہے۔ تبت تزویراتی لحاظ سے دنیا کا سب سے اہم مقام ہے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ تبت کو ایشیا کا واٹر ٹینک بھی کہاجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہاں سے نکلنے والے دریا ہیں۔ یہاں سے دنیا کے دس بڑے دریا نکلتے ہیں۔ جو پورے جنوبی ایشیا، جنوبِ مشرقی ایشیا اور چین کو سیراب کرتے ہیں۔ تقریبا3بلین آبادی کا انحصار ان دریاوں پر ہے جو دنیا کی آبادی کا46فیصد بنتا ہے۔ اس لحاظ سے تبت ایشیا کا ایتھوپیا ہے۔ دریائے میکونگ سب سے لمبا دریا ہے جو چین، میانمر، تھائی لینڈ، لاوس، کمبوڈیا اور ویت نام سے ہوتا ہوا بحیرہ جنوبی چین میں گرتا ہے۔ ییلو دریا چین میں بہتا ہے۔ اس کی لمبائی 5464 کلومیٹر ہے۔ یہ دنیا کا پانچواں بڑا دریا ہے جو شنگھائی پلیٹو سے نکلتا ہے اور چین کے9 صوبوں سے بہتا ہوا بوہاٹی سمندر میں جاگرتا ہے۔ اس دریا کو چین کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ یانگ سی دریا بھی چین میں بہتا ہے۔
90کی دہائی کے آغاز میں جب چین میں ترقی کا آغاز ہوا تو چین نے اپنے ملک میں بننے والے مختلف دریاوں اورندی نالوں پر ڈیم بنانے شروع کیے۔ چین اب تک تقریبا90 ہزار سے زائد ڈیم بنا چکا ہے جو دنیا کے کل ڈیموں کا نصف ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکا ہے جہاں پر چین سے ایک تہائی ڈیم پائے جاتے ہیں۔ چین اپنی بجلی کی ضرورت کا60 فیصد سے زائدکوئلے سے پورا کرتا ہے جس کو وہ اب بڑھتی ہوئی پلوشن کے پیش ِ نظر ہائیڈل سے پورا کرنا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے چین نے تبت پر موجود دریاوں پر ڈیم بنانے شروع کردیے ہیں۔ اپر ریپیرن ہونے کے ناتے چین کو ان دریاوں پر اپنے پڑوسی ملکوں کی نسبت فوقیت حاصل ہے۔ چین کی اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہندوستان ہے۔ 2002سے چین دریائے گنگا اور برہما پترا کا ڈیٹا ہندوستان کے ساتھ شیئرکرتا تھا لیکن 2017 کے دوکلام اسٹینڈ آف کے بعد سے چین نے یہ ڈیٹا شیئر کرنا بند کر دیا ہے۔ اس نے دریائے براہما پترا پر 4ڈیم تعمیر کر لیے ہیں۔ جس سے دریا کے بہاو میں فرق پڑگیا ہے۔ اب چین نے ہندوستانی سرحد کے بالکل قریب دریائے براہما پترا پر سپر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا۔ اس سے نہ صرف ہندوستان کا پانی کم ہوجائے گا بلکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں اس کا نقصان صرف اور صرف انڈیا کو ہوگا۔ انڈیا اور چین کے بیچ کسی قسم کا واٹر ایگریمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے چین اپنے ہمسائے کیساتھ کسی تعاون کا مجاز نہیں ہے یاد رہے کہ چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا لینڈر یعنی قرضے فراہم کرنے والا ملک ہے۔ چین کو اپنے ملک میں ڈیم بنانے کیلئے کسی ڈونر کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنے وسائل سے خود بڑے سے بڑا ڈیم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انڈیا نے اس ڈیم کے اثرات کو کاونٹر کرنے کیلئے اپنی سرحد کے اندر دریا پر ایک ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین نے دریائے میکونگ پر شالون ڈیم بھی بنایا ہے جو292میٹر بلند ہے اور اس کی جھیل کی لمبائی تقریبا160کلومیٹر ہے۔ چین ایسے آٹھ اور ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں سراسیمگی پھیل چکی ہے۔ ان لوئر ریپیرین ممالک بشمول انڈیا اور بنگلا دیش کو سخت قسم کے واٹر اور فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ درپیش ہو گیا ہے۔ لگتا ہے مستقبل میں دوسرے ممالک کو چین سے کھلونوں سے لے کر جہازوں تک خریدنے کیساتھ ساتھBRIکے روٹس سے آٹا چاول اور بجلی بھی خریدنا پڑے گی۔ چین کا پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں پر مستقبل میں کسی قسم کے ڈیم یا ریزروائر بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کی وجہ سے ایسے کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان کو مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے خود سے اپنے دریاوں پر زیادہ سے زیادہ ڈیم بنالینے چاہییں تاکہ ہم بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ فوڈ اور واٹر سیکورٹی کو بھی یقینی بناسکیں۔