کیا پوتن کا مستقبل خطرے میں ہے؟

اگر کسی بڑے ترقی یافتہ ملک میں انسانی حقوق کی پامالی، اظہار رائے اور سیاسی آزادیوں پر پابندی دیکھنا ہو تو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ فوراً روس کا نام سامنے آتا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے پر اور ایک پرتشدد جدوجہد کے بعد یہ اُمید تھی کہ روس میں جمہوریت اپنی جڑیں مضبوط کرے گی اور کروڑوں لوگ جو سوویت نظام کے تحت ایک بہت بڑی جیل میں نظر بندی کی سی زندگی گزار رہے تھے، آزادانہ ماحول میں اپنے سیاسی وسماجی معاملات طے کر سکیں گے۔ مگر صدر ولادی میر پوتن کے اقتدار میں آنے کے بعد روس بتدریج دوبارہ ایک پولیس ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔پوتن اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے جب چاہیں آئین کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ اگر صدر بننے کی آئینی میعاد ختم ہوتی ہے تو وزیراعظم بن جاتے ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد دوبارہ صدر بن جاتے ہیں۔ غرض پچھلے 22سالوں سے وہ یہ سیاسی کھیل کامیابی سے کھیل رہے ہیں۔ حالیہ آئینی اصلاحات کے تحت وہ تکنیکی طور پر 2036 تک اقتدار پر قابض رہ سکتے ہیں۔ان آئینی ریشہ دوانیوں کے علاوہ وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے مخالف سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں پر عرصہ حیات تنگ بھی کیے ہوئے ہیں۔ ان کے دور میں کسی بھی انتخابی مشق کو شفاف اور دھاندلیوں سے پاک نہیں کہا جا سکتا۔ کسی بھی سیاسی مخالف کو مختلف الزامات پر پابند سلاسل کرنا پوتن کے روس میں ایک معمول سا بن گیا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اس وقت روس کی83 فیصد قومی دولت10فیصد لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور یہ قبضہ پوتن کے دور میں ممکن ہوا جب انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں اور حمایتیوں کو ان قومی وسائل پر قبضہ کرنے میں ریاستی مدد فراہم کی اور اہم قومی اثاثے ان حواریوں کو اونے پونے دام بیچ دئیے گئے۔
کرونا(کورونا)وبا کے دوران روسی معیشت کو مزید نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ روس کی زیادہ تر آمدنی تیل و گیس کی برآمد پر منحصر ہے اور اس میں کرونا بحران کے دوران شدید کمی سے نہ صرف روسی حکومت کے لیے مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے عام روسی شہریوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
کرونا بحران کے دوران عوام حکومت کی کارکردگی سے بھی کافی نالاں ہیں کیونکہ ان مشکل حالات میں ریاست ان کی مالی امداد کرنے کے لیے آگے نہیں آئی۔ کرونا وبا کے دوران روس میں غربت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور عام عوام کی قوت خرید میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔اس بحران کے دوران بے روزگاری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور معیشت میں 11 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت تقریبا دو کروڑ روسی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا تقریبا 13 فیصد ہے۔ نوالنی کی حراست نے ان غیر مطمئن شہریوں کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ حکومتی جبر اور اپنی معاشی مشکلات کے خلاف آواز بلند کریں۔یہ ممکن ہے کہ پوتن ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے پہلے کی طرح اس دفعہ بھی عوامی احتجاج کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں اور اس وقت ان کی اقتدار پر گرفت بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ مگر کچھ شواہد بتا رہے ہیں کہ روسی عوام اب ان کے چہرے سے تھکے ہوئے نظر آنے لگے ہیں۔
تقریبا 22 سال کی مطلق العنان حکومت نے بڑی تعداد میں روسیوں کو مایوس کر دیا ہے اور یہ احتجاج دبانے کے باوجود کسی وقت بھی دوبارہ اٹھ سکتا ہے۔پوتن کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سوویت یونین موجودہ روس سے زیادہ طاقتور ریاست تھی مگر معاشی بدحالی اور عوامی بے چینی کے سامنے یہ مضبوط ریاست بھی نہیں ٹھہر سکی۔ پوتن کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ احتجاج صرف نوالنی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ یہ عوام کا اپنے خراب ہوتے اقتصادی حالات اور اقتدار پر قابض اشرافیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
اس لیے اگر نوالنی کو راستے سے ہٹا بھی دیا جاتا ہے تو یہ موجودہ بیچینی کا حل نہیں ہے۔ ہمسایہ ملک بیلاروس میں جاری عوامی احتجاج بھی روسی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے حوصلہ اور ہمت مہیا کر سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی مغربی ممالک نے مزید معاشی پابندیوں کا اعلان تو نہیں کیا ہے مگر احتجاج کی شدت میں اضافہ اور حکومت کا اس سے پرتشدد طریقے سے نمٹنا روس کے لیے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔امریکہ میں صدر کی تبدیلی بھی پیوتن کے سیاسی مسائل میں پیچیدگی لا سکتا ہے۔ صدر جو بائیڈن بین الاقوامی مالی بدعنوانیوں کے خلاف مقابلے کو امریکہ کے لیے بنیادی قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ پوتن کے حواریوں کے مغربی ممالک میں اثاثوں کے خلاف ایکشن لیں جس کی وجہ سے پوتن کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے بارے میں سوچنا پڑے۔ اگر احتجاج میں حکومتی سختیوں کے باوجود شدت آتی ہے تو شاید یہ پوتن عہد کے اختتام کی ابتدا ثابت ہو۔
(بشکریہ: انڈیپنڈنٹ)