پاکستان پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے ووٹ کاسٹ کردیا

ویب ڈیسک (اسلام آباد)ایوان بالا سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے انتخابی میدان سج گیا، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ کا عمل کسی وقفے کے بغیر شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں ووٹ ڈال دیا ہے بلاول بھٹو زرداری کے ووٹ ڈالنے پر پی پی پی ارکان نے ڈیسک بجائے۔

لاول بھٹو نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اپنے ارکان سے ایک ووٹ بھی زیادہ لیا تو وہ بونس ہوگا، کٹھ پتلی حکومت کو ملک بھر میں بے نقاب کر دیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم کو دکھا دیا کہ حکومت کے اپنے ارکان ان سے خوفزدہ ہیں، ہم مل کر ان کٹھ پتلی حکمرانوں کو یہاں سے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے ایک دن پہلے ہمارے امیدوار کو نااہل کروانے والی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، وہ حکومت جسے آنکھ بند کر کے الیکشن جیتنا تھا وہ پریشان ہے، حکمران پریشان ہیں کہ ان کی حکومت جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات کے لیے قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور سندھ اسمبلی کے ہالز پولنگ اسٹیشن بنے ہیں جہاں ووٹرز بنے ہوئے ارکان اسمبلی موجود ہیں۔

قومی اسمبلی میں ووٹرز اسلام آباد کی ایک جنرل اور ایک خاتون نشست کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں 7 جنرل، 2 خواتین، 2 ٹیکنوکریٹ اور 1 غیر مسلم نشست پر ووٹ ڈالے جائیں گے،سندھ اسمبلی میں 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹ نشستوں پر رائے شماری ہوگی، پنجاب میں پہلے ہی تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

ووٹرز اپنی ترجیحات کے مطابق امیدواروں کو ووٹ دیں گے، بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے سامنے خانے میں عددی ترجیحات 1، 2، 3 لکھ کر ووٹ دیا جائے گا۔

ووٹ گنتی کے وقت پہلے جیتنے والے امیدواروں کے اضافی ووٹ دوسرے امیدواروں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔

جنرل نشست کا بیلٹ پیپر سفید، خواتین کی نشست کا گلابی، ٹیکنوکریٹ کا سبز اور غیر مسلم نشست کے لیے بیلٹ پیپر زرد رنگ کا ہے۔