بھارت میں کسان احتجاجی تحریک

گزشتہ ماہ 24ستمبرکو بھارتی پارلیمان میں زراعت سے متعلق ایک قانون منظور ہواجس میں کسان،جو کہ اس شعبے کے سب سے اہم ترین فریق ہیں،کی آراء کو شامل نہیں کیا گیا۔ ان قوانین کے بعد اب بڑے کاروباری ادارے زرعی اجناس کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں اثر انداز ہو سکیں گے۔ مزید برآں ان قوانین کے تحت کسانوں کو فراہم کی جانے والی سستی بجلی کے داموں پر بھی نظر ثانی کرنے کا ارادہ باندھا گیا ہے اور انہی اصلاحات کے مطابق کاشتکاری کے عمل کو ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے ماتحت کرنے کا بھی عزم کیا گیا ہے۔بھارت کے کسان ان قوانین کے خلاف پچھلے تین ماہ سے سراپا احتجاج ہیں اور بھارتی حکومت کی ان قوانین کے اطلاق کو دوسال تک ملتوی کر دینے کی یقین دہانی کے باوجود یہ احتجاج کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بھارت کے شعبہ زراعت کی ابتر کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ شعبہ بھارت کی آدھی افرادی قوت کھپانے کے باوجود ملکی جی ڈی پی میں چھ فیصدسے بھی کم کا حصہ دار ہے۔ حالات اس قدر مایوس کن ہوتے جار ہے ہیں کہ بھارتی کسانوں کی خود کشیوں کی خبریں ذرائع ابلاغ کا اب باقاعدہ حصہ بنتی جارہی ہیں۔ اس احتجاجی تحریک میں پنجاب اور ہریانہ کے کسان آگے آگے ہیں کہ انہی کے روزگار کا سب سے زیادہ دارومدارزراعت پرہے۔ یہ کسان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کی پیداواری اجناس کی قیمت بہت ہی کم وقت میںبڑھ سکتی ہے کہ یہ بڑے بڑے کاروباری ادارے ایک دوجے کے مقابلے میں زیادہ بولی لگانے میں پیچھے نہیں ہٹتے۔ مگر ایک دفعہ اگر ان بڑی کاروباری مچھلیوں کو اس شعبے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا موقع مل گیا تو اس کے بعد یہی امبانی اور ان جیسے دوسرے سرمایہ کاروں کو زرعی اجناس کی قیمت طے کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک میں سب سے بڑی تعدادسکھ کسانوں کی ہے اور مودی کے حامی میڈیا گروپوں کی طرف سے انہیں علیحدگی پسند عناصر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہندو شدت پسندعناصر اس معاملے کو مزید گرما رہے ہیں۔ حکومت کا سکھ کسانوں پر عدم اعتماد ہی اس کے ان کے خلاف جارہانہ ردعمل کاباعث بنا ۔ حکومت نے اس احتجاج کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے اور نئی اصلاحات کے بخیے ادھیڑنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔مودی حکومت کے ان تین قوانین کو پاس کرنے کے پیچھے جدید معاشی پالیسیوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے کو مزید منافع بخش بنانے جیسے مقاصد کارفرما ہیںمگر ایسی تمام پالیسیاںاس سے پہلے بھی بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں بلکہ ان کے باعث عوام کوہمیشہ نقصان کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت کامیڈیا، جو پہلے سے ہی مودی حکومت کے راگ الاپتے نہیں تھکتا، اس معاملے میں کسانوں کا مؤقف صحیح طور پیش نہیں کر رہا۔ عالمی برادری نے بھی ان حقوق کی پامالی پر ذرہ برابر کان نہ دھر ااور کسانوں کے خلاف بھارتی حکومت کی اس قدر زیادتی کے باوجود اب تک چپ ہی سادھے رکھی ہے۔ البتہ حال ہی میں امریکی گلوکارہ ریحانہ نے ان مظاہرین کے حق میں آواز اٹھائی اور ان کی دیکھا دیکھی سویڈن سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن گراتا تھمبرگ نے بھی ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ البتہ دونوں ہی ستاروں کو اپنے ان بیانات کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان میں سوچنے سمجھنے والے یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ بھارت میں جاری یہ احتجاجی تحریک صرف مودی حکومت اور بھارت تک ہی محدود رہے گی کہ ہمارے اور بھارت کے شعبہ زراعت میں بھی بے شمار خامیاں یکساں ہیں۔ ان سقموں میں ہماری زرعی بنیادیں، کسانوں کی محدودتعداد، اور معاشی کمزوری، اس شعبے کو جدیدمعاشی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے عالمی اداروں کا دباؤ اور سب سے بڑھ کر یہاں قانون سازی کے لیے مشاورت کی بجائے صدارتی حکم ناموں کے استعمال کی لمبی تاریخ قابل ذکر ہے۔ ہمارے ہاں اگر اب تک کسانوں کی کسی ایسی احتجاجی تحریک نے سر نہیں اٹھایا تو اس کا چنداں یہ مطلب نہیں کہ یہاںحکومت زراعت کے لیے بہت کچھ کر کے کسانوں کو رازی رکھے ہوئے ہے بلکہ اسکی بنیادی وجہ ہمارے زرعی شعبے اور کسانوں کی اس قدر ابتری، جہالت اور معاشی بدحالی ہے کہ وہ کسی احتجاجی تحریک کو بھی چلا سکنے کے قابل نہیں۔ پاکستان بھی ایسے خطرات سے زیادہ عرصہ تک محفوظ نہیں رہ سکتا سو بہتر یہی ہے کہ حکومت اپنی توجہ زراعت کے شعبے پر مبذول کرے اور اس کی بہتری کے لیے سنجیدگی سے کوشش کرے۔ ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنے کے ضرورت ہے کہ ہماری کی گئیں اصلاحات عالمی کاروباری تنظیموں کے مفادات اور دباؤ کے پیش نظر نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں اور مقامی فریقین کے صلاح مشورے سے ترتیب دی جائیں۔ یہی وہ راستہ ہے کہ جس سے ہم ایک ترقی یافتہ، پھلتا پھولتا اور خوشحال زرعی شعبہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ ( بشکریہ : پاکستان آبزرور، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)