وہ دن گئے جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

نوکری اور نخرہ دو متضاد چیزیں ہیں ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پر قبضہ کرکے ہندوستان کو غلامی میں جکڑا تو برطانیہ سرکار نے ایک وائسرائے کو غلام ہندوستان کے سروں پر مسلط کر دیا اس کے بعدسکہ ملکہ برطانیہ اور حکم وائسرائے کا چلتا تھا آج غلامی کے طور طریقے تبدیل ہوچکے ہیں نئے آقا ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے نام سے قوموں کو اقتصادی غلامی میں یوں جکڑ لیتے ہیں کہ وہ ان اداروں کے آگے چوں چرا تک نہیں کر سکتے ان کی نمائندگی نئی طرز کے'' وائسرائے'' کرتے ہیں۔ جو ان ملکوں کے سنٹرل بنکوں مالیاتی اداروں اور اقتدار میں حصہ دار بن کر احکامات چلاتے ہیں۔ حکومتیں ان کو دیکھ کر غالب کے الفاظ میں کہنے پر مجبور ہوتی ہیں کہ
غالب وظیفہ خوار ہو دوشاہ کو دعا
وہ دن گئے جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے جون آرہا ہے توکیا مزید قرضے نہیں لینے؟ اگر قرض نہیں لینا تو کیا دیوالیہ نکالنا ہے؟ تو غالب ہی کے انداز میں کہنے دیجئے ''پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟'' یعنی جو سینٹ کی اسلام آباد والی نشست پر ہائوہو کا عالم ہے اس کا نتیجہ ممکنہ طور پر وہی نکلنا ہے جس کی توقع نہیں لیکن سات سمندر پار لگائی جارہی ہے اسی وجہ سے تو اس حوالے سے صدر نے ریفرنس بھیجا آرڈیننس جاری کیا اور عدلیہ سے خلاف آئین فیصلے کی توقع باندھی گئی عدلیہ نے بھی دودھ میں مینگنیاں شامل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور نوشتہ دیوار شہد کی جو بوند نظر آرہی ہے اس سے آنے والے زمانوں میں جو افراتفری مچے گی اس کا صرف تصور ہی کیاجا سکتا ہے بلکہ فوری نتیجہ تو اس وقت سامنے آیا جب مختصر فیصلے کے فوراً بعد چند وزراء الیکشن کمیشن فوری طور پر پہنچ کر مطالبہ کرنے لگے کہ ووٹوں کی پرچیوں پر کوئی بار کوڈ یا نمبرنگ لگا کر ووٹ کی پرچی کو قابل شناخت بنایا جائے اگرچہ چیف الیکشن کمشنر نے تفصیلی فیصلہ آنے تک پولنگ آئین کی شق 226 ہی کے تحت خفیہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا ۔ یوں دم تحریر جو سینٹ انتخابات ہو رہے ہیں وہ سابقہ طریقے کے مطابق اور مکمل طور پر خفیہ رہیں گے جبکہ ''دیوار پر شہد لگانے کے عدالتی فیصلے'' کے نتیجے میں''گھر پھونک تماشہ دیکھ'' والی صورتحال کے نتیجے میں مختصر فیصلے کی اپنی اپنی تشریح بھی جاری ہے اور اس پر ایک بہت پرانی پنجابی فلم یکے والی کا کردار '' ماماجی ''( فلمسٹارظریف مرحوم) یاد آگیا ہے جوگائوں میں خود ساختہ عدالت لگا کر لوگوں کے بیچ فیصلے کرکے قہقہے بکھیرتا تھا ایک مقدمے میں جو گائوں کے اندر بھٹے پکانے کے لئے قائم بھٹی پر تنازعہ کی صورت ہوتا ہے گائوں کے لوگ بھٹی سے اٹھنے والے دھوئیں سے پریشان بھٹیاری کو اپنی بھٹی چند گز دور لے جانے کا کہتے ہیں مگر وہ انکاری ہوتا ہے جھگڑا بڑھتا ہے تواتنے میں ماماجی اپنی عدالت سمیت آدھمکتا ہے ۔
اس کے اسسٹنٹ کے سر پر رکھی چھوٹی سی کھاٹ عدالت ماماجی کے ہاتھ میں پکڑی ڈانگ ان کے بقول ہائیکورٹ اور ردی سے حاصل کی گئی ایک ضخیم کتاب قانون ہوتی ہے مقدمہ پیش ہوتا ہے تو فیصلے دیتے ہوئے ماماجی بھٹیاری سے کہتا ہے''توں بھٹی لائی جا یعنی بھٹی ادھر ہی رہے جبکہ گائوں والے سے کہتا ہے توں بھٹی ڈھائی جا یعنی تم اسے گراتے رہو پورا ڈائیلاگ کچھ یوں ہوتا ہے کہ ''توں بھٹی لائی جا تے توں بھٹی ڈھائی جا لالا کے ڈھائی جاتے ڈھا ڈھا کے لائی جا''۔ یہ تھی ''ماماجی دی عدالت''۔
بقول شائستہ مفتی فرخ
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
ان سطور کے شائع ہونے تک سینٹ انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہیں اور یہ بات واضح ہو چکی ہو گی کہ وہ جوکچھ دنوں سے ''جانبداری اور غیر جانبداری'' کے گیت گاتے جارہے تھے ان کی اصل حقیقت کیا تھی اگر ''نوکری کی تے نخرہ کی'' کا بول بالا ہوتا ہے تو پھر لانگ مارچ کا غلغلہ اٹھے گا مگر فائدہ کیا؟ کہ 26مارچ سے ممکنہ طور پر شروع ہونے والی لانگ مارچ اور پھر دھرنے کی مدت کتنی رہے گی؟ اپریل کے وسط میں تو رمضان کی آمد آمد سے سارا منظر نامہ ہی تبدیل ہو کر رہ جائے گا اور تب تک سٹیک ہولڈرز کو معلوم ہو چکا ہو گا کہ ان کے ساتھ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک بار پھر''ہاتھ'' ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد ورنہ پر نوکری کا دور شروع ہو جائے گا۔ یعنی چڑاں کھیت چگ چکی ہوں گی۔ کہ بقول عبرت مچھلی شہری
کیوں پشیماں ہو اگروعدہ وفا ہو نہ سکا
کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں؟