غصہ حرام ہے

آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ضرور سنا ہوگا کہ یار مجھے غصہ بہت آتا ہے، اپنے غصے پر قابو پانا میرے لئے بہت مشکل ہے! غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے، غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے، غصے میں انصاف ہرگز نہیں ہوسکتا، غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی بھی درست ثابت نہیں ہوتے، یہ ہنستے بستے گھروں کو اُجاڑ کر رکھ دیتا ہے، گھر میں کوئی بے قاعدگی ہوجائے تو آپ کو شدید غصہ آتا ہے، اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن اگر آپ دفتر میں کوئی غلطی کریں اور باس آپ کو زبردست قسم کی جھاڑ پلا دے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں۔ اس انتہائی ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں! ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا سیدھا سادا سا جواب یہی ہے کہ غصہ آتا نہیں ہے بلکہ کیا جاتا ہے! ویسے غصہ آئے یا کیا جائے جو بھی صورت ہو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غصہ اچھی چیز نہیں ہے۔ انسان غصہ کرنے کے بعد ہمیشہ پشیمان ہی ہوتا ہے، بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی ہے! آدمی کس کس بات کا رونا روئے، غصہ تو بہت سی باتوں پر آتا ہے، آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط، بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پر لیکچر دئیے جارہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں، دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں، پاکستان کی زبوں حالی پر مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں، اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے، ان لوگوںکی باتیں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور اس کے مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جارہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کہ پاکستان کے دکھی لوگوں کی پریشانیاں کم کریں۔ کبھی غور کیجئے کتنے لوگ ہیں جن کے پاس وسائل بھی ہیں، اقتدار بھی ہے اور مال ودولت کی بہتات بھی اور اگر وہ پسماندہ عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں کیا جارہا۔ بات صرف زبانی کلامی دعوؤں تک محدود ہے! چند دن پہلے ایک عالمی سروے کیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ اب زیادہ ناراض رہتے ہیں، تناؤ میں ہوتے ہیں اور ان کی پریشانیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ تقریباً 150ممالک کے ڈیڑھ لاکھ افراد سے کئے گئے اس سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے! عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی''گیلپ گلوبل ایموشنز رپورٹ'' میں کہا گیا ہے کہ پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میںدسویں نمبر پر آیا ہے۔ یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہوچکی ہے، نائی، حلوائی، قصائی، نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا اس نشے میں اپنے ہوش وحواس کھو چکا ہے! کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بہت بڑی وجہ جھوٹ اور ظلم کو قرار دیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہوچکا ہے، جھوٹ اتنی کثرت سے بولا جاتا ہے کہ اب تو اسے کوئی اخلاقی کمزوری یا عیب ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یقینا یہ ہمارے معاشرے میں بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے۔ ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جاسکتے ہیں، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے، کمزور کو دبایا جاتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے کہ ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں! ہمارے یہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف اور صرف غریب کیلئے ہے، بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں غریب لوگ جن کا خواب اپنے گھروں میں بھی نہیں دیکھ سکتے! کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے۔ لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اُٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں، اگر کوئی روکنے یا سمجھانے کی کوشش کرے تو آگے سے کہا جاتا ہے کہ یار یہ پاکستان ہے یہاں سب کچھ چلتا ہے۔ یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے، ہم اپنے مادروطن کی تحقیر پر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں، اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوئی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے! معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں ٹریفک قوانین توڑے جاتے ہیں، مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے۔ قانون کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا رواج عام ہے، یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خون کھول اُٹھتا ہے! اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد خطے جنوبی ایشیا میں بسنے والے تقریباً ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں بائیس کروڑ پاکستانی سب سے زیادہ خوش اور مطمئن ہیں۔ اس خوشی اور اطمینا ن کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین اور بھروسہ ہے! جن حالات سے پاکستان گزرا ہے اور گزر رہا ہے یقینا یہ ہمارے عوام کا حوصلہ اور جرات ہے کہ وہ ہر قسم کی تکلیف اور پریشانی کا بڑی خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں! پاکستانیوں کیلئے ایک خوشخبری یہ بھی ہے کہ ان کا پیارا وطن اپنے ہمسایہ ملک انڈیا سے بہت آگے ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انڈیا سے57 درجہ بہتر ہے!۔