پاکستانی جمہوریت کی کربلا سے مشابہت

کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا استعارہ ہے جس سے رہتی دنیا تک حق کے لئے ایثار و قربانی کا جذبہ حاصل کیا جاتا رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان غیر اسلامی دنیا کی تحریکوں میں بھی اس کا حوالہ ملتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم المناک واقعے کے بعد جہاں کہیں اس کا حوالہ ملتا ہے اس میں کھینچ تان کر اس واقعہ کو اپنے مفادات پر منطبق کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ہاں بعض مقامات و واقعات اب بھی ایسے ہیں جن پر صحیح معنوں میں واقعہ کربلا کا انطباق ہوتا ہے۔ فلسطین میں 1947ء سے جو حالات و واقعات رہے ہیں۔ اس میں جو ظلم و ستم ہوتا رہا ہے ۔ اور اب بھی ہو رہا ہے وہ یقیناً کربلا کی یاد دلاتے ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی 1948ء سے اسی مثل کے واقعات دہرائے جارہے ہیں اور یقینا وہاں کے مظلوم عوام کربلا سے صبر و استقامت کا سبق لیتے ہیں اور جب تک ایسے واقعات رہیں گے مسلمان اس سے سبق لیتے رہیں گے ۔ تحریک پاکستان میں بھی اسلامی تاریخ کے ایسے ہی ولولہ انگیز واقعات نے بہت اہم کردار ادا کیا۔
لیکن اب عجیب سی بات یہ سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے ایک انسان رہنما نے پچھلے دنوں ڈسکہ این اے 75 کے انتخابات کے تناظر میں اپنی جدوجہد کو کربلا سے تشبیہ دی ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ پاکستان میں سب چلتا ہے ۔ ورنہ کہاں پاکستانی جمہوریت اور کہاں اتنا پاک حوالہ؟ لیکن ہمارے سیاستد ان اپنے سیاسی مفادات کے لئے پاکستان کی سیاست کو جس نہج پر لے گئے ہیں اس میں تو واقعی سب کچھ ممکن ہے ۔تھوڑے سے فائدے کے لئے نظریئے و جماعتیں بدلنے والے جب ایسے پاک حوالے دے کر اپنی بات کو مضبوط بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں تو ان پر افسوس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے۔ذرا تماشا دیکھئے مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کل کے دو شدید حریف سیاسی جماعتیں تھیں لیکن آج پی ڈی ایم کی چھتری تلے ایک ہیں۔ بہت اچھی بات ہوتی اگر یہ لوگ ملکی مفاد کے لئے اکٹھے ہوتے یا عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے ایک ہوتے۔
آج کل سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے اندر جوغدرمچی ہوئی ہے اس کے لئے ایک دنیا انگشت بدنداں ہے ۔ لیکن پھر بھی مسلم لیگ نون کے احسن اقبال اسی سیاست اور جمہوریت کے حوالے سے اپنی مخالف سیاسی قوتوں کو اقتدار کی گدی سے محروم کرنے کی سعی و جدوجہد کو اس درجہ مقدس سمجھتے ہیں کہ اس راہ میں ہر قربانی کے لئے تیار رہنے کو کربلا سے تشبیہ دیتے ہیں اور اپنے کارکنوں کے لہو کو گرماتے ہیں حالانکہ پاکستان کی سیاست اور جمہوری نظام کا کربلا کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کے ساتھ ذکر بھی اس واقعہ کی توہین ہے ۔
کہاں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا مطہر خاندان اور ان کا اخلاص و ایثار اور کہاں ہمارے یہ سیاستدان جو اٹھتے بیٹھتے اپنے ہی مفادات کا سوچتے ہیں۔ اور اسی کشمکش میں ان کی زندگی کے شب و روزگزرتے ہیں۔
حضرت حسین ابن علی تو یزید کے خلاف اس لئے اٹھے تھے کہ بندگان خدا کو ملوکیت کے شکنجے سے آزاد کرانے کے متمنی تھے۔ ان کے سامنے نہ اقتدار تھا اورنہ کوئی دنیاوی مفاد ۔ اس میں تو خالص للہیت تھی۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی کو امر کردیا۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور کارکنوں کے درمیان جوسیاسی مخاصمت ہے ۔ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضرت حسین نے تو یزدی لشکر کوبھی اسلام کی دعوت دی تھی۔ اور ان کو اپنے نسبی شرف اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنے مقدس و پیارے رشتے کا واسطہ دیا تھا۔ لیکن کوئی یہ بات سننے کو تیار ہی نہ تھے ۔ کربلا کا استعارہ اسلامی امت کے لئے ہر باطل و ناحق قوت کے خلاف جدوجہد کا استعارہ ہے ۔ لہٰذا مسلمانوں کو اسے آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال سے گریز کرنا چاہئے ۔
اسلامی تاریخ کے یہ اعلیٰ و پاک حوالے اپنی جگہ پر رہنے دیئے جائیں تو اس میں امت کی بھلائی ہو گی۔ ورنہ بے جا طور پر استعمال کرنے سے ان کی توقیر و احترام میں کمی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔پاکستان کی سیاست چلتی رہے اور پاکستان قائم و دائم رہے ۔ لیکن اس کے نظام حکومت وسیاست کو ا سلام کے اعلیٰ معیار پر پہنچنے کے لئے بہت بڑے علمی و اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہے جس کے لئے ایک ذرا صبر کرنا ہو گی ۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم مقصد کے لئے تخلیق کیا ہے ۔ لہٰذا ان مقاصد کی تکمیل ضرور ہو گی ۔ اور اس کے لئے کم از کم موجودہ سیاستدانوں میں کوئی چہرہ بشر نظر نہیں آتا۔