الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کا م کیا

اسلا م آبا د سے سینٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو کا میا بی حاصل ہو گئی فو زیہ ارشد جو اسلا م آباد سے سینٹ کی خواتین کی نشست کی امیدوار تھیں وہ غیر سرکا ری نتائج کے مطا بق مسلم لیگ ن کی فرزانہ کو ثر سے تیر ہ ووٹ زائد لے کر کا میا ب ہو گئیں ، لیکن اصل مقابلہ تو سابق وزیر اعظم اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یو سف رضا گیلا نی اور آئی ایم ایف کے نمائندے حفیظ شیخ کے مابین تھا کیا حفیظ شیخ کی ناکا می کو پی ٹی آئی کی ناکا می قرار دیا جا سکتا ہے ہر گز نہیں یہ ٹھیک ہے کہ ان کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ تھما دیا گیا تھا مگر اس سے پہلے بھی پاکستان کی کسی جما عت کے سیا سی رہنما ء نہیں رہے ان کے ذمہ صرف اور صرف آئی ایم ایف کے مفا دات کو تکمیل سے ہم کنا ر کر نا ہے ، حفیظ شیخ کیوں ہا ر ے مختصراًیہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی چاہت نہ تھے بلکہ وہ عمر ان خان نیا زی کا انس تھا ۔ اسلا م آ باد سے سینٹ کی اس نشست پر دنیا بھر کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں کیو ں کہ اس کے بارے میں یہ ہی سو چ کا ر فرما تھی کہ اس نشست پر ہا ر جیت کے اثرات عمر ان خان کے سیا سی مستقبل پر ہی نمو دار ہو ں گے ۔ یو سف رضا گیلا نی کی جیت کا تجزیہ کیا جا ئے تو یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت پر عدم اعتما د نہیں بلکہ یہ اس کی قیا دت پر عدم اعتما د کا اظہا ر ہے ۔ چنانچہ اس ہا ر جیت کا وزیر اعظم نے تن تنہا اثر لیا اور فوری طور پر قوم سے خطا ب بھی کر ڈالا جس میں انھو ں نے اپنی بائیس سالہ سیاست کے جنم کے ساتھیوں کو دکھ بھرے اند از میں یا د بھی کیا جو اور ان میں سے دو کی تحسین وتو صیف بھی بھری آنکھوں کے ساتھ کی مگر وہ یہ بھو ل گئے کہ جو چید ہ چیدہ شخصیات بائیس سال کے اس سفر میں ہم رکا ب بنیں تھیں وہ کس کے ظلما ت میں گم ہو گئیں ان میں سابق سیکرٹری خارجہ عبدالستار ، اصول پر ست اور قربانیوں سے بھر ے پھرے معراج محمد خان کہاں گئے ، جسٹس (ر)وجیہہ الدین ، اویس غنی ، اکبر ایس احمد کو بھی یا د کر لیتے ، خیر یہ کوئی انہو نی نہیں دکھ میں اپنے ہی یا د آتے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اسلا م آبا دسے سینٹ کی نشست ہا تھ سے نکل جا نے کے بعد اپنی تقریر دلپذیر میں یہ تسلیم کر لیا کہ پا کستان اپنی معاشی و اقتصادی تاریخ کے نا زک ترین دو ر سے گزر رہا ہے۔ سینٹ کے حالیہ انتخابات کے نتائج کیا رہے مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی پر عدم اعتما د تھا اور خاص طور پر خود پی ٹی آئی کے ٹائیگروں کی طر ف سے تھا ، کیو ں کہ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی اجا گر ہو ا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما ء اس راز کو پا گئے ہیں کہ وہ شخصی بیساکھی پر سیا ست کا مول نہیں کر سکتے انہو ں نے مستقبل میں سیا ست میں رہنے کا عزم کرلیا ہے اور وہ بھی اپنے حلقے یا یو ں کہے لیجئے اپنے سیا سی مستقبل کو محفوظ کر نے کی غرض سے انہوں نے پارٹی شخصیت کی دھج سے ہٹ کر مقنا طیسیت پید ا کی ہے ان کا مدعا یہ لگ رہا ہے کہ کسی کا سیا سی مستقبل رہے یا نہ رہے ان کا اپنا سیا سی مستقبل رہنا چاہیے ۔اب بات کھل رہی ہے کہ وزیر اعظم عمر ان خان کا رحجا ن پا رلیمنٹ سے اعتما د کا ووٹ لینے کا بن رہا ہے ، یہ بھی ایک خوبصورت فیصلہ ہے کیو ں کہ اعتما د کا ووٹ ان کو خفیہ بیلٹ سے نہیں لینا بلکہ کھلے بلند ہا تھو ں لینا ہے اور وہ اس طرح یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بھلا کسی کی مجا ل ہے کہ ان کے خلا ف ہا تھ اٹھا دے ، وزیر اعظم شوق سے اعتما د کا ووٹ لیں مگر اس تکلف سے گریز کریں تو بہتر ہی ہے اعتما د زبان سے نہیں دل سے کیا جا تا ہے ، دل کیا چاہتا ہے اس اعتما د کا اظہار تو سینٹ کے نتائج سے ہو ہی گیا ہے تجزیہ نگا ر تو یہ بھی کہہ رہے ہیں اور سچ کہہ رہے ہیں کہ سینٹ کے انتخابا ت تاریخی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اتفاق رائے سے ہو نے والی اٹھارویں ترمیم کے ساتھ اگلے اڑھائی سال تک کسی چھیڑ چھا ڑ کا امکا ن باقی نہ رہا ، جو وفاق کی یکجہتی کے لیے بہت اہم ہے دوسرے یہ کہ موجو دہ نظام یہ اعلا ن کر دہ تبدیلی کے تصور کو رد کر دیا گیا ہے تیسر ے یہ کہ پی ٹی آئی کو جتا دیا گیا ہے کہ اگلے اڑھا ئی سال کارکردگی دیکھا نا ہو گی ،تجزیہ کا رو ں نے حالیہ انتخابات کے بارے میں یہ شائبہ بھی نہیں دیا کہ اس مرتبہ میر ے عزیز ہم وطنو ں کہنے والو ں نے کوئی جا دو منتر پھونکا ہے یا نہیں بلکہ کہا جا رہا ہے کہ ا س مرتبہ جمہوریت کی پا س داری ہوئی ہے ان تمام عوامل کے باوجو د یہ بھی ایک سچ ہے کہ پی ڈی ایم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیا ست سیاست ہو تی ہے اور اس کی ان میں بدرجہ اتم صلاحیت مو جو د ہے مولانا فضل الرّحمان نے اپنی سیا سی بصیر ت کا حیرت انگیز ثبوت دیا ، نو از شریف نے ثابت کردیا کہ وہ مر د اسارت اور مرد بحران ہیں ان کے چہر ے پر خراب سے خراب حالا ت میں بھی اگر مسکراہٹ نہیں آئی تو انہو ں نے کبھی چہر ہ بھی نہیں بسورا اور آصف علی زرداری کا انداز تو انوکھا ہی رہا ہے وہ ایک ایسے گہر ے سیا ست دان ہیں جن کے دل کی بات ان کا سپوت ارجمند بھی نہ پا تا کیو ں کہ آصف زرداری اس راز کو سمجھتے ہیں کہ کس مو قع پر کتنامسکرانا چاہیے جتنا مسکرانے کی نوعیت ہو وہ اتنا ہی مسکر اتے ہیں نہ کم نہ زیا دہ ۔ پی ڈی ایم کی ہر پارٹی نے اپنے اپنے امید وار کھڑے کیے مگر انہو ں نے یو سف رضا گیلا نی کو پی ڈی ایم کے امید وار کے طور پر پیش کیا کیو ںیہ بات سیا سی گر سمجھنے والے ہی سمجھتے ہیں ۔