سینیٹ انتخابات، حکومت کو درپیش مشکلات

٣ مارچ کو ہونیوالے سینیٹ انتخابات میں سابق وزیراعظم اور پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر عددی برتری حاصل کرکے فتح اپنے نام ضرور کی ہے لیکن اخلاقی طورپر اس جیت پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی کل تعداد ١٦٠ ہے لیکن موصوف کو ١٦٩ ووٹ پڑے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسلام آباد سے ہی پی ٹی آئی کی خاتون امیدوار فوزیہ ارشد کو ١٧٤ ووٹ پڑے اور کامیابی حاصل کی۔ سوال یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو اپنے حریف حفیظ شیخ کے مقابلے میں پانچ ووٹ کیسے پڑے اور یہ ووٹ کس نے دئے۔ سینیٹ انتخابات سے ایک ہی دن قبل سوشل میڈیا پر یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی سے منسوب وہ ویڈیوبھی گردش کرتی رہی جس میں مبینہ طورپر پر وہ پی ٹی آئی کے کچھ منتخب نمائندوں کوووٹ کی خرید وفروخت اور ضائع کرنے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد اصولی اور اخلاقی طورپر یوسف رضا گیلانی کو اپنی سیٹ سے دست بردارہونا چاہئے تھا لیکن اسکے برعکس پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کی قیادت نے اسکو ہیرو کے طورپر پیش کرکے اخلاقی اقدار کا خوب بھرم رکھا۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اسکو جمہوریت کی فتح قراردیا اور پی ڈٹی ایم کی قیادت نے خوشیوں کے شادیانے بجائے۔ حیرت کی بات ہے کہ جب سینیٹ کے انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے کچھ ارکان نے حکومت اور انکے اتحادیوں کے متفقہ امیدوار صادق سنجرانی کو ووٹ دئے تھے تو وہ ضمیر کے سوداگر ٹھہرائے گئے لیکن آج اگر پی ٹی آئی کے ضمیر کے سوداگروں نے اپنے ضمیر کا سودا کیا تو انہیں ہیرو بناکر پیش کیا جارہا ہے ۔بہرحال اسلام آباد سے یوسف رضا گیلانی کی جیت کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کی قیادت نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ حفیظ شیخ کی شکست منتخب نمائندوں کا وزیراعظم پرعدم اعتماد کا اظہار ہے لہٰذا وزیراعظم کو اخلاقی طورپر مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اب یہاں پر بھی ظاہر ہے اسی اخلاقی جرات کا فقدان ہے لیکن وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے تاکہ معلوم ہوسکے کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ کیا وزیراعظم اس اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے سکیں گے کیونکہ اگر پی ٹی آئی کے کچھ ناراض ارکان اپنے موقف پر یوں ہی ڈٹے رہے تووزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔ اس بات کا انحصار اب ١٢ مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات پرہوگا۔ اگر پی ٹی آئی اور اسکی حلیف جماعتیں سینیٹ الیکشن میں اپنے امیدوار جتوانے میں کامیابی حاصل کرلیتی ہیں تو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے حوالے سے اطمینان ہوجائیگا ۔ لیکن حکومت کیلئے اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے متفقہ امیدوار کیسے لایا جائے۔ وزیراعظم پر دبائو ہے کہ چیئرمین کیلئے پارٹی کے کسی دیرینہ وفادار شخص کو آگے لایا جائے۔ حفیظ شیخ کی شکست کے بعد پارٹی کے اندر سے یہ معاملہ اور بھی زور پکڑ رہا ہے۔ پارٹی کے وفادار اور دیرینہ ارکان کو نظرانداز کرکے باہر سے لائے جا نے والے مشیروں اور معاونین خصوصی کو اہمیت دینے کے خلاف پارٹی کے اندر آوازیں پہلے ہی اٹھ رہی تھیں لیکن وزیراعظم نے اس بات کی اہمیت کا احساس ہی نہیں کیا جس کا خمیازہ اس بد ترین شکست کی صورت میں پار ٹی کو بھگتنا پڑا۔دوسری طرف سینیٹ کے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹاکر اسکی جگہ کسی اور کو لانابلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ موجودہ اتحاد کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا۔ بلوچستان عوامی پارٹی اس وقت سینیٹ میں پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اورپاکستان مسلم لیگ کے بعد چوتھی بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں انکا کلیدی کردار ہوگا۔ حکومت کیلئے ہر سطح پر مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے خلاف مہنگائی مارچ شروع کرنے جارہی ہے۔عام آدمی کی مشکلات روز بروز بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمتا نہیں۔ عام آدمی کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔ایسی صورتحال میںکیا حکومت کے پاس جادو کی کوئی ایسی چھڑی ہے جسے گھماکر راتوں رات تبدیلی کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے جو عوام کو ٢٠١٨ کے انتخابات میں دکھائے گئے تھے۔ حکومت کو چاہئے کہ اپوزیشن پر صرف تنقید کرنے کی بجائے عملی میدان میں اپنی سیاسی برتری ثابت کریں تاکہ آئندہ انتخابات میں عوام کے پاس دوبارہ جانے سے پہلے انکے دلوں میں اپنا گھر کریں۔