وعدوں کے لالی پاپ اور قسمت کی پڑیا

یہ خوشی بھی کتنی کمال چیز ہے خواہ وعدوں کے لالی پاپ سے امڈ نے والی تصوراتی خوشی ہی کی صورت میں کیوں نہ ملے،اب جن بزرگ پنشنرز کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے وہ وعدوں کے لالی پاپ کو دیکھ کر گڑ گڑ کرتے ہوئے منہ میں مٹھاس محسوس کرتے رہیں اور جون تک انتظار کریں،ویسے بھی جن ہے ہی کتنی دور،بس تین ماہ کے فاصلے پر،بالکل اسی طرح جیسے کسی زمانے میں فاصلوں کیلئے میل،فرلانگ اور بعد میں اعشاری نظام آنے سے یہ فاصلے میلوں کی بجائے کلومیٹر میں ڈھل گئے تھے اور نئی پود اب پوچھتی ہے کہ''سنگ میل''کس چڑیا کا نام ہے؟توجدید دور نے مزید تبدیلیاں پیدا کر کے کلومیٹروں کو بھی وقت کے پیمانے سے باندھ دیا ہے اور اب نہ میل نہ کلو میٹر کا تذکرہ ہوتا ہے بلکہ مختلف ہائوسنگ سوسائیٹیز کے اشتہارات میں وقت کے پیمانے کو رائج کر کے بتایا جاتا ہے کہ اس علاقے کا ائیرپورٹ یا موٹر وے سے اتنے منٹ کا فاصلہ ہے تاہم وقت کے پیمانے سے فاصلے ناپتے ہوئے رش آورز کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا بلکہ وقت کا تعین''گلیاں ہون سنجیاں تے وچ مرزا یا پھرے''کے کلیئے کے تحت ہو تا ہے گویا سڑک مکمل طور پر خالی ہو اور بندے کے پاس جدید تیز رفتار گاڑی ہو تو فاصلے اور وقت کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے تاہم یہ جو بوڑھے پنشنرز کو خوش کرنے کیلئے تگڑم بازی کی گئی ہے اس میں خود انہیں ہی پھنسا کر دس روز میں تجاویز طلب کرلی گئی ہیں اور پھر اس کے بعد ایک اور مسکراہٹ سے فائل وصول کرتے ہوئے کہہ دیا جائے گا کہ ان تجاویز کا جائزہ لیکر سفارشات مرتب کر لی جائیں گی اور پھر حکومت سے ان کی منظوری لیکر اعلان کر دیا جائے گا ممکن ہے تجاویز پر غوروخوض کیلئے کمیٹی مقرر کی جائے جو''چڑیا کمیٹی''کی طرز پر جائزہ لیتے ہوئے اسے بالآخر پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات کے ساتھ نتھی کر کے آئندہ بجٹ تک صبر کرنے کی تلقین کی پڑیا میں لپیٹ لے گی اورپھر بجٹ دستاویز میں جب یہ پڑیا کھولی جائے گی تو یہ اس قسمت کی پڑیا کی مانند ہوسکتی ہے جو کسی زمانے میں ایک ایک آنہ پر گلی محلوں کی دکانوں پر آویزاں ہوتی تھیں اور بچے خرید کر دیکھتے کہ ان کی پڑیا میں کیا ہے؟چھوٹا انعام ہے یا بڑا،سوائے بزرگ پنشنرز اب انتظار کی سولی پر لٹکتے رہو تاوقتیکہ تمہاری قسمت کی پڑیا کھل جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ تمہیں کتنے روپے بطور خیرات دان کئے گئے ہیں انتظار کی سولی پر جھولتے ہوئے یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ گزشتہ سال کی طرح جب تنخواہوں اور پنشن کے چھا گل خالی نکل آئے تھے کہیں قسمت کی یہ پڑیا خالی یا زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد کی نوید لیکر آئیں۔
حاضر سروس والوں نے تو احتجاج کر کے اور دبائو ڈال کر25فیصد حاصل کر ہی لیا ہے مگر تمہاری کیا حیثیت ہے؟پشتوضرب المثل کے مطابق تو ویسے بھی تم(ساٹھ سال کے ہونے کی وجہ سے)گولی ماردیئے جانے کے قابل ہو،اب تمہارا نہ زور چلتا ہے نہ منت سماجت کسی کام کی ہو سکتی ہے اس لیئے ورنہ پر جو خیرات میں مل رہا ہے اسی پر صبر شکر کر کے آنسو بہاتے رہو اور ڈرو اس روز سے جب آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سرکار تمہاری پنشن ہی نہ بند کر دے کیونکہ اس''بڑے دربار''سے جو ہدایات جاری ہو رہی ہیں ان میں پنشن پر قدغن بھی شامل ہے۔
سرکاری ملازمین کے احتجاج کے بعد یہ جو 25 فیصد اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،کیا اس وقت پنشنرز کی بے بسی کا کسی کو بھی احساس نہ ہوسکا،اور اب جب بزرگ پنشنرز نے احتجاج کیا تو تین سرکاری بڑوں نے آکر جو کہا اس پر تو قاضی عمر قضا روحی کے الفاظ میں اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ
حضرت دل آپ؟آہا،میں نے پہچانا نہیں
بعد مدت کے ملے،کہئے مزاج اچھا تو ہے؟
اس صورتحال پر مگر بزرگ پنشنروں نے میرتقی میر کے الفاظ میں ہی جواب دے کر صبر کے گھونٹ پی لیئے کہ
حال بد گفتنی نہیں لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی
بہرحال پنشنرز کی خدمت میں یہی عرض کرنا پڑتا ہے کہ حضور تمہارا مسئلہ نہ وزیراعظم کا مسئلہ ہے نہ اراکین پارلیمنٹ کا جو لاکھوں کی تنخواہیں (دیگر مراعات اور ترقیاتی فنڈز میں مبینہ حصہ)بھی ان کے گزراوقات کیلئے کم تھیں سو راتوں رات آناً فاناً ان میں دوگنا،تگنا اضافہ کر کے حساب پورا کرلیا گیا،یہ تمہاری پنشن ہے جو تمہاری ''اوقات'' کیلئے اب بھی''زیادہ''ہے اس لیئے وعدوں کے لالی پاپ اور ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے رہو،اللہ کرم کر ہی دے گا۔