اور پھر یوسف رضا گیلانی جیت گئے

ینیٹ الیکشن ہوگئے پچھلے ایک ماہ سے پی ڈی ایم کی دو جماعتوں کو آنجہانی میثاق جمہوریت کے فضائل شریف سے آگاہ کرنے والوں کو خبر ہو کہ اس میثاق جمہوریت میں یہ بھی لکھا تھاکہ ''مستقبل میں پی سی او ججز عدلیہ کا حصہ نہیں ہوں گے''۔مگر ہوا یہ کہ ایک ہی کمپنی کے کچھ پی سی اوججز حلال قرار پائے اور کچھ حرام اس سے میثاق جمہوریت تحلیل ہوا حالیہ دنوں میں میثاق جمہوریت کے فضائل بیان کرنے والے بھی پی سی او ججز کے ایک طبقے کے حامی تھے ایک مخالف اور میثاق جمہوریت بارے کہتے تھے یہ دو چوروں کے درمیان معاہدہ ہے چوروں کو تحفظ دینے کیلئے ثانیاً یہ بات سوچنے کی ہے کہ میثاق جمہوریت سینیٹ میں چیئر مین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دنوں میں یاد کیوں نہیں آیا۔اس لئے کہ تب ووٹ سرکار کو درکارتھے؟۔بدھ کی شام ہمارے ملتانی مخدوم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پی ڈی ایم کو یزیدی ٹولہ قرار دیتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔سینیٹ الیکشن ہر تین سال بعد ہوتے ہیں۔یہی دستور میں لکھا ہے لیکن اس بار یہ الیکشن اسلام آباد میں معرکہ بن گئے ۔بدھ کی شام بڑے بڑے جماندروں تجزئیہ نگار،جماعت اسلامی سے بذریعہ نون لیگ اور طالبان،تحریک انصاف کی حمایت کے جھنڈے اُٹھائے صحافت کاروں کے تجزئیے منہ کے بل گر گئے۔اب چلیں شب سے کرلائیں ہیں۔چین ہیں اور پیپلزپارٹی سے نفرت ہے جو چین نہیں لینے دے رہی۔ندگان خدا!یہ سیاست ہے عصری مفادات سے گندھی ہوئی سیاست برائے اقتدار،اس میں حکمت عملی جس کی بہتر رہنی ہے وہی جیت پاتا ہے۔سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر پی ڈی ایم کے متفقہ امیدور تھے۔پی ڈی ایم اتحاد کے پاس قومی اسمبلی میں160ووٹ ہیں(نون لیگ کے ایک رکن قومی اسمبلی کی وفات سے ایک سیٹ خالی ہے یہ سیٹ وہی این اے75ڈسکہ والی ہے) تحریک انصاف کی اپنی نشستیں قومی اسمبلی میں156 ہیں۔اتحادیوں کے ساتھ یہ تعداد قبل ازیں182تھی اختر مینگل کی پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ ہوئی تو یہ تعداد180رہ گئی۔سینیٹ کی اس جنرل نشست پر حکومتی اتحاد کے امیدوار وزیر خزانہ حفیظ شیخ تھے۔(آپ جنرل پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے)جناب شیخ کو آئی ایم ایف کا وائسرائے برائے پاکستان سمجھا جاتا ہے۔سید یوسف رضا گیلانی کے169ووٹوں کے مقابلہ میں حفیظ شیخ164ووٹ لے پائے۔یوں جناب گیلانی جیت گئے جبکہ اسلام آباد سے قوانین کی نشست پر سرکاری اتحاد کی امیدوار کو174ووٹ ملے۔یہ نتیجہ بہر طور یہ ضرور سمجھا جاتا ہے کہ اگر حفیظ شیخ کی جگہ کوئی اور سرکاری اتحاد کا امیدوار ہوتا تو عین ممکن ہے کہ اس کے ووٹ خواتین نشست کے ووٹوں کے برابر ہوتے۔پی پی پی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف زرداری کا دعویٰ تھا کہ پی ڈی ایم ان کا ساتھ دے تو وہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرواسکتے ہیں۔بہت لے دے کے بعد پی ڈی ایم نے دو فیصلے کیے اولاً ضمنی الیکشن مل کر ٹھہرے جائیں ثانیاً سینیٹ الیکشن بھی اتحاد کے پلیٹ فارم سے اس مرحلہ پر پی پی پی پنجاب سے سینیٹ کی ایک نشست کے بدلے سندھ سے سیٹ دینے کو تیار تھی لیکن یہ بیل منڈھے سے نہ چڑھ پائی۔اس کی اندرونی وجہ مسلم لیگ کا خواجہ آصف گروپ تھا۔اس لئے پی پی پی سے معذرت کر لی گئی اور جب پنجاب سے بلا مقابلہ امیدوارے کامیاب کروانے کی حکمت عملی بن گئی تو جناب نوازشریف اور پھر چودھری پرویزالٰہی نے آصف علی زرداری کو ٹیلیفون پر آمادہ کیا کہ وہ پیپلزپارٹی کے امیدور کو بٹھا دیں یوں پیپلزپارٹی کے امیدوار کی دستبرداروں سے پنجاب سے گیارہ سینئر بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ۔ اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر پی ڈی ایم فاتح ٹھہری بدھ کی شب ہی یہ اعلان سامنے آیا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے بلاشبہ یہ اچھا فیصلہ ہے حالانکہ عددی طور پر اس کی ضرورت نہیں کیونکہ خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی کی امیدوار نے174 ووٹ لیے ہیں اعتماد کے ووٹ کے لئے171ووٹوں کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر بھی طوفان برپا ہے بدھ کی دوپہر حفیظ شیخ کی178 ووٹوں سے کامیابی کا دعویٰ کرنے والے سابق بیکری بوائے کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہوا ہے۔کچھ نہیں ہوا ایک سادہ سی بات ہے حفیظ شیخ کی شکست میں معروضی حالات معاون ہوئے مہنگائی۔ بیروز گاری بڑھتی ہوئی غربت اور ان کا''خصوصی ملامتی'' ہونا۔دوسری وجہ پی پی پی اور خود گیلانی کی حکمت عملی دونوں نے سیاسی روابط اور خاندانی تعلقات استعمال کیئے یہاں تک کے بلاول ایک آزاد رکن قومی اسمبلی سید علی نواز نگاہ سے ووٹ کے لئے ان کے گھر جا پہنچے۔حرف آخر یہ ہے کہ نفرت کا کاروبارہمیشہ نہیںچلنا کاشا یہ بات سیاپہ فروشوں،تجزئیہ کاروں اور صحافت کاروں کو بھی سمجھ آجائے۔